الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طورپر روکا،فواد چوہدری

103

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آئی جی پنجاب طاہر خان کے تبادلے کا حکم روکنا غیر قانونی ہے، آئی جی پنجاب کے تبادلے کی وجہ ماڈل ٹاؤن کیس میں پیشرفت نہ ہونا اور واقعے کے ذمے دار افسران کو عہدوں سے نہ ہٹانا بھی ہے۔ بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف کا مینڈنٹ اس نظام کیخلاف ہے اپوزیشن نے شہباز شریف کا پروڈکشن آرڈر مانگا ہم نے دے دیا، انہوں نے اپنے پورے خاندان کو سرکاری ملازمتیں دیں اور سرکاری 50 ہزار پاؤنڈ اپنے علاج پر خرچ کیے، احتساب کا سلسلہ چلتا رہے گا، رکے گا نہیں، اپوزیشن کے شور شرابے کا مقصد ہے کہ ان سے پیسوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔ ہم نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ وہ آئی جی پنجاب کے تبادلے سے متعلق اپنا حکم واپس لے، آئی جی پنجاب کے تبادلے کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان نے آئی جی پنجاب کو سانحہ ماڈل ٹاؤن پر تحقیقات کے لیے کہا لیکن ان کی جانب سے10روز گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اس کے علاوہ ہماری خواہش تھی کہ گریڈ22کے افسر کو آئی جی پنجاب لگایا جائے جبکہ آئی جی پنجاب گریڈ20کے افسر ہیں، تمام بیوروکریٹس کو حکومت کی پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہو گا اور جو افسر پالیسیوں پر عمل نہیں کرے گا اسے گھر جانا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ الیکشن محدود حلقوں میں جاری ہیں تمام صوبے میں تبادلوں کو نہیں روکا جا سکتا، نواز شریف کو سزا ہو جانے کے بعد ان سے رقم کی وصولی ضروری ہے اور ایسا نہ ہونا مایوس کن ہے، ہم نے ڈاکوؤں کو پکڑ کر ان سے پیسے نکلوانے ہیں، تب تک ہم قرض لے کر ملک چلائیں گے، ہم کرپشن کے مقدمات کو انجام تک پہنچائیں گے، بیوروکریٹس کو تمام ارکان اسمبلی کا احترام کرنا ہو گا، ناصر درانی نے صحت کی بنا پر استعفا دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ