8 اکتوبر کے زلزلے کو 13 برس مکمل زندگی معمول پر نہ آسکی

114

اسلام آباد/ مظفر آباد/ الپوری (آن لائن/ اے پی پی) صوبہ خیبر پختونخوا میں 8 اکتوبر 2005ء میں آنے والے پاکستان کی تاریخ کے قیامت خیز زلزلے سے ہونے والی تباہی کو آج 13 برس ہوگئے ہیں لیکن اس دوران حکومتوں کی جانب سے علاقوں کی تعمیر نو اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے کیے جانے والے وعدے پورے نہیں کیے جاسکے ہیں، صرف ایک منٹ کے اس ہولناک زلزلے میں ایک لاکھ سے زائد شہید، ہزاروں زخمی اور کئی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔ شہدائے زلزلہ کی برسی کے موقع
پر صدر مملکت عارف علوی نے اپنے پیغام میں متاثرین زلزلہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن کا قومی سطح پر منانا ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس قسم کے سانحات کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کرنے اور سانحات سے درپیش خطرات میں کمی لانے کے عزم کا اعادہ کریں، اس ضمن میں ہمیں بہترین کارروائیاں اپنانا ہوں گی اور ایسے شعبہ جات کے مسائل حل کرنا ہوں گے، جن میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تخفیف غربت کے ساتھ ساتھ سانحات سے نمٹنے کی تیاری، اراضی کے استعمال کی پلاننگ، عمارتوں کی تعمیر کے ضوابط پر عملدرآمد سمیت ساحلی علاقوں میں شجرکاری بڑھانا شامل ہیں۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں و کشمیرمحمد مسعود خان، وزیراعظم راجا محمد فاروق حیدر خان اور وزیراطلاعات مشتاق احمد منہاس نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ اکتوبر 2005ء کی صبح چند ساعتوں میں رونما ہوئے عظیم سانحے کو آج 13 سال ہوگئے ہیں۔ اس زلزلے میں آزادکشمیر میں ہزاروں لوگ شہید اور زخمی ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے۔ جن کے دکھوں کی آج ہم یاد تازہ کررہے ہیں ۔ زلزلے میں ہونے والے ناقابل تلافی جانی نقصان کا ازالہ تو ممکن نہیں تاہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ایک عزم ، حوصلے اور استقامت سے بحالی اور تعمیر نوکو جلد مکمل کریں گے اور ہم ایک باوقار قوم کی طرح زندہ رہیں گے۔ آزاد خطے میں تعمیر و ترقی اور متاثرین کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک متاثرہ علاقو ں کی بحالی کو 100 فیصد یقینی نہیں بنایا جاتا۔ تفصیلات کے مطابق آج پھر 8 اکتوبرکا دن شانگلہ میں بدترین سیاہ دن کے طور پر منایا جا رہا ہے، 13 سال گزر گئے لیکن شانگلہ میں اکثر زلزلے سے تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر آج بھی تعمیر نہ ہوسکے، سیکڑوں عمارات کی تعمیرنو، میگا پروجیکٹ کے اعلانات اور زندگی دوبارہ معمول پر لانے کے وعدے حکومتی عدم توجہ کے باعث پورے نہ ہوسکے۔ 8 اکتوبر کے تباہ کن زلزلے میں ضلع شانگلہ بہت زیادہ متاثر ہوا تھا، سیکڑوں قیمتی جانین گئیں، ہزاروں زخمی ہوئے اور 20 ہزار سے زائد مکانات مکمل طور پر ملیامیٹ ہوگئے جبکہ ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا۔ شانگلہ کے عوام ایک منٹ میں تباہ حالی کا وہ منظر کبھی بھی نہیں بھولیں گے۔ تاریخی نقصانات کی بحالی اور تعمیر نو کیلیے پوری دنیا سے امدادی کارروائی شروع ہوئی تو صوبہ خیبر پختونخوا کے شمالی دامن میں واقع اس بدنصیب ضلع کا نمبر سب سے آخری تھا کیونکہ ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور کشمیر بحالی کے کاموں میں سبقت لے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ