انڈونیشیا میں زلزلے اور سونامی سے ہلاکتیں 1800 سے تجاوز 5 ہزار افرادتاحال لاپتہ

79

جکارتا (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا کے شدید زلزلے اور ہولناک سونامی کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود تاحال 5 ہزار سے زائد شہری لاپتا ہیں جبکہ تباہ کن سونامی میں 1800 سے زاید افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 ستمبر کو انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں 7.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکوں اور آفٹر شاکس کے بعد سونامی کی 10 فٹ بلند لہروں نے پالو شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچادی تھی اور 18 سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود تاحال 5 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ سونامی سے سیکڑوں گھر تباہ، درجنوں ہوٹل اور عمارتیں منہدم ہوگئی تھیں اور درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔ اسی طرح لینڈ سلائیڈنگ، بجلی کے تار گرنے سمیت دیگر واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1800 سے زاید ہوگئی تھی جبکہ زخمیوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔ اسپتال زخمیوں سے بھر گئے تھے اور ریلیف کیمپوں میں ہزاروں لوگوں نے پناہ لی۔ ریسکیو اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ 5 ہزار سے زاید افراد لاپتا ہیں اور کیمپوں میں موجود متاثرین کو اجناس، ادویات اور پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 28 ستمبر کو آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیر زمین 10 کلومیٹر تھی۔ شہر پالو میں سونامی کی 10 فٹ بلند لہریں پیدا ہوئیں جبکہ آفٹر شاکس نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ