اسلامی ریاست صرف جماعت اسلامی بنا سکتی ہے، راشد نسیم

108

لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے کہاہے کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کی صلاحیت صرف جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکڑوں لوگ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے رکن رہے ۔ ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب کراچی کے میئر اور ناظم رہے مگر آج تک جماعت اسلامی کے کسی ایک فرد کے دامن پر کرپشن ، کمیشن اور کک بیکس کا داغ نہیں جبکہ اقتدار میں رہنے والی دیگر سیاسی جماعتیں قوم
کے اعتماد پر پورا اترنے اور دیانتداری کے ساتھ عوام کی خدمت کرنے میں ناکام رہیں ۔ آج ان جماعتوں کے بڑے بڑے عہدیداروں پر نیب کی تلوار لٹک رہی ہے اگر احتساب کا شفاف نظام ہو تا تو شاید ان میں سے کوئی بھی آئین کی دفعہ 62،63 پر پورا نہ اتر سکتا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جوہر آباد میں 2 روزہ تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ راشد نسیم نے کہاکہ موجودہ حکومت نے پاکستان کو مدینے کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کا اعلان کیا تھا مگر اب تک سودی معیشت کے خاتمے کی طرف حکومت نے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا بلکہ آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کے لیے مذاکرات ہورہے ہیں ۔ جو ملک سود پر چل رہا ہو، وہ اسلامی کیسے ہوسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر ہی گیس ، بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیااور منی بجٹ میں 1800 سے زائد بنیادی ضروریات زندگی کی چیزوں کو مہنگاکر کے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ حکومت اپنے وعدوں اور اعلانات پر عمل کرتے ہوئے ڈیلیور کرے اور غربت اور مہنگائی کے مارے عوام کی پریشانیوں میں کمی ہو ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے بے روزگار ی کے خاتمے کے لیے ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار اور50 لاکھ بے گھر شہریوں کو گھر دینے کا بھی اعلان کیاتھا مگر پہلے 100 روزہ پلان کو ابھی تک کوئی حتمی شکل نہیں دی جاسکی ۔ حکومت نے اپنے 50 دن میں ان منصوبوں کی بنیاد بھی نہیں رکھی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں اور ہم نے طے کیاہے کہ حکومت کے ہر اچھے کام کی تحسین اور غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اپنے منشور یا قوم سے کیے گئے کسی وعدے کو پورا کرتی ہے تو ہم حکومت کو شاباش دینے میں بخل سے کام نہیں لیں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ