چوں کہ یہ ہے دل کا معاملہ

69

 

اختر بھوپالی

کراچی کا شعبہ امراض قلب (NICVD) المعروف کارڈیو اسپتال تمام سرکاری اسپتالوں میں ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ صفائی ستھرائی کا معقول انتظام، جملہ اسٹاف بااخلاق، ڈاکٹرز مرض شناس اور دل کے مریضوں کے لیے تمام سہولتیں بشمول سرجری وہ بھی بغیر معاوضے فراہم کی جارہی ہیں۔ اگرچہ سندھ کے تمام ہی بڑے شہروں میں امراض قلب کے سینٹرز قائم ہوچکے ہیں مگر سرجری کے لحاظ سے سب سے بڑا اسپتال ہونے کی وجہ سے اندرون سندھ سے مریضوں کو کراچی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سہولتیں مع ادویات فراہمی کی وجہ سے دیگر صوبوں سے مریضوں کی خاصی تعداد کارڈیو آتی ہے (یہ ہمیں نہیں معلوم کہ دیگر صوبوں میں امراض قلب کی سہولت مفت فراہم کی جارہی ہیں یا نہیں) جس کی وجہ سے ایک ہجوم سا رہتا ہے اور انتظامی امور میں مشکلات آتی جارہی ہیں پھر بھی دیگر سرکاری اسپتالوں کی نسبت بہتری ہے، ہم یہاں چند ایک نکات کی نشاندہی کررہے ہیں، چوں کہ یہ ہے دل کا معاملہ، اولین پریشانی اسپتال انتظامیہ کی ذمے داری نہیں مگر مریضوں کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ کارڈیو کے سامنے سے گزرنے والی سڑک اس کے قیام سے قبل کی یادگار ہے جو کبھی بیک وقت آمدورفت کے لیے استعمال ہوتی تھی پھر درمیان سڑک سمنٹ کے بلاک رکھ کر اس کو دو رویہ کردیا گیا جس سے ٹریفک کی روانی پر تو کوئی اثر نہ پڑا مگر اسپتال آنے جانے والے مریضوں اور تیمارداروں کے لیے یہ مشکل کھڑی کردی کہ واپسی کے لیے اسپتال کے سامنے سے پبلک ٹرانسپورٹ کی ممانعت کرکے روٹ تبدیل کردیا گیا مگر مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے
اور عوام کو صدر لکی اسٹار جانے کے لیے رکشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے ان کی اجارہ داری قائم ہوچکی ہے اور عوام کو دس روپے کے بجائے سو، پچاس خرچ کرنے پڑرہے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ اس اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے چنگ چی رکشا (6 سیٹر رکشا) چلانے کی اجازت دے دی جائے تا کہ عوام پھر سے دس روپے خرچ کرکے اپنی منزل سے قریب تر ہوسکیں۔ OPD ہال میں داخل ہوتے ہی آپ کو ایک جم غفیر نظر آئے گا مگر ان کی رہنمائی کے لیے کچھ بھی نہیں اور نئے آنے والے مریض پریشانی کے عالم میں اِدھر سے اُدھر پریشان گھوم رہے ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں ’’السلام علیکم‘‘ کاؤنٹر، استقبالیہ اور معلومات کا کام کرتا تھا مگر اب یہ ڈاکٹرز کے اپائنمنٹ لیٹر بنارہا ہے، جس کے لیے عوام کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ اس کاؤنٹر پر دو پرچے چسپاں ہیں ایک تو ڈاکٹرز کے لیے اپائنمنٹ لیٹر کے حصول کا اور دوسرے پرچے پر OPD ٹوکن کے اوقات صبح 8 بجے دوپہر 2 بجے تحریر ہے۔ اب پرچہ دیکھ کر نیا مریض اسی کاؤنٹر کی لمبی سی لائن میں لگ جاتا ہے اور طویل انتظار کے بعد جب کاؤنٹر پر آتا ہے تو اسے کاؤنٹر 2 یا 4 پر جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ وہاں پہلے ہی سے ایک لمبی قطار لگی ہوتی ہے اور جب اس کا نمبر آتا ہے تو مریضوں کی مقررہ تعداد مکمل ہوجانے کی وجہ
سے دوسرے دن آنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر ٹوکن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ڈاکٹرز سے ملاقات کے لیے پھر طویل انتظار، پھر انتظار گاہ میں جو نشستیں ہیں وہ تمام پُر ہوتی ہیں اور اس سے زیادہ افراد آس پاس کھڑے ہوتے ہیں۔ OPD کے ڈاکٹرز تو پھر نو سوا نو بجے تک آجاتے ہیں مگر سرجن حضرات ڈیڑھ دو گھنٹے لیٹ ہی آتے ہیں۔ پھر سرجن تک رسائی کے لیے طویل انتظار وہ بھی کھڑے کھڑے چوں کہ یہاں جو بنچ رکھی ہیں اس پر چھ سے آٹھ افراد ہی آسکتے ہیں اور لیڈیز فرسٹ کے محاورے کے مطابق مرد حضرات صرف کھڑے ہی رہ سکتے ہیں۔ اس عمل میں دو سے ڈھائی اور بعض اوقات تین تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ یہاں سے فارغ ہو کر دوائی کی پرچی پر کمپیوٹر سے نمبر لگوانا ہوتا ہے جو وہ پرچی پر پین سے لکھتا ہے۔ یہ سب تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے یہاں اکثر اوقات دو ڈھائی گھنٹے لگ سکتے ہیں کیوں کہ OPD کے تمام ڈاکٹرز جن کی تعداد پچیس تیس ہے سب کی پرچی پر نمبر لگوانے کا واحد کاؤنٹر ہے۔ اس کے بعد حصول ادویات کے کاؤنٹر پر آتے ہیں یہاں کی واحد لمبی قطار اکثر OPDہال سے باہر تک نکل جاتی ہے۔ گھنٹہ دو گھنٹہ کے بعد پرچی جمع کراکے پھر دوائی لینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح دل کے مریض کو دل کے اسپتال میں کتنی محنت و مشقت اور کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اس کو جو تکالیف اور پریشانیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں اس کا اندازہ تو کوئی درد دل ہی جانے اور اگر اس کا دل مرمت شدہ (بائی پاس) ہو تو تکلیف دو چند ہوجاتی ہے۔ہمارا مقصد تو صرف یہ کہ دل کے اسپتال میں دل کے مریضوں کے لیے سہولتوں کو بہتر بنایا جائے اور ان کی تکالیف کو کم سے کم کیا جائے ۔
چوں کہ یہ ہے دل کا معاملہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ