شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی میں بھارت کو آئینہ دکھا دیا

89

 

میر افسر امان

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب نے بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے پر آئینہ دکھا دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قومی زبان اردو میں خطاب کر کے عوام کی اُمنگوں کی ترجمانی بھی کی۔ پاکستان کی حافظ قرآن بیٹی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ پیش کر پاکستانی عوام کے دل جیت لیے۔ بھارت کی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے آشکار کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس، حاضر بھارتی نیوی کا کمانڈر ہے۔ کلبھوشن نے اپنے بیان میں اس بات کا عتراف کیا کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی۔ بھارت نے اس دہشت گردی کی فنڈنگ کی۔
دوسری طرف بھارت کی وزیر داخلہ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتی رہیں۔ بھارت اور دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کی جنگ، جو پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اس میں پاکستان کے 70 ہزار شہری شہید ہوئے ہیں۔ اُلٹا دہشت گردی کا الزام پاکستان پر تھونپا جا رہاہے۔ بھارت کے اس سفید جھوٹ کو کوئی ماننے کے لیے تیار نہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ نے جس ممبئی حملے کا الزام پاکستان پر لگایا اس کی تردید میں کئی غیر جانبدار
لکھاریوں نے کتابیں بھی لکھی ہیں۔ جن میں حقائق کی بنیاد پر واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کا خود ساختہ گھڑا ہوا ڈراما ہے۔ بھارت اس کے عینی شاہد اپنے پولیس آفیسر ہیمنت کرکرے کو قتل کر دیا۔ بھارت اس دہشت گردی کا پاکستان پر الزام لگا کر کشمیر کے مظالم سے دنیا کی نظریں ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف بھارت کے کئی دانشور لکھتے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ ابھی کل ہی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاتی فوجوں نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ 70 سال سے حل طلب ہے۔اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کشمیرمیں استصواب رائے کی قرارداد یں اب بھی موجود ہیں۔کشمیری 70 سال سے بھارتی قبضے کے خلاف جد وجہد کر رہے ہیں۔ بھارت اپنی 8 لاکھ فوج کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ ممنوع پیلٹ گنوں سے کشمیریوں کو اندھا کیا جا رہا ہے۔ گھر گھر تلاشی کے نام پر روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کو تہہ تیغ کیا جا رہا ہے۔ شہید کشمیری کی لاش کو زنجیروں میں باندھ کر سڑک پر گھسیٹا جا رہا ہے۔ فوجی گاڑی کے بونٹ پر کشمیری کو باندھ کر شہر میں گھمایا گیا تاکہ مظلوم کشمیریوں کے پتھر بھارت فوجی سورماؤں کو نہ لگیں، اس مجبورکشمیری کو لگیں، ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ دونوں طرف اقوام متحدہ کے مبصر موجود ہیں جو بھارت کی طرف سے ایل او سی کی خلاف ورزیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ بھی اقوام متحدہ کے سامنے ہے۔ جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف دردیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ سے درخواست کرتا ہے کہ کشمیر پر ایک غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنائے تو بھارت کی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف دردیوں کی تحقیق کرے ۔ جسے بھارت اور پاکستان دونوں کی حمایت حاصل ہو۔ بھارت پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ہم بھارت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے اُوپر ٹھونسی گئی جنگ کا بھر پور طریقے سے جواب دے گا۔
پاکستانی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں شاہ محمود قریشی کے خطاب کی تعریف کی گئی۔ بے شک وزیر خارجہ نے کشمیر کے مسئلہ کو صحیح تناطر میں پیش کیا گیا جس سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور اپنی جانیں قربان کرنے والے کشمیریوں کو حوصلہ ملے گا۔ دوسری طرف وزیر خارجہ نے کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس کی سرگرمیوں کو بھی قوام متحدہ میں بیان کیا گیا۔ سابق حکومت کو کلبھوشن بھارتی جاسوس کا نام تک لینا بھی گوارہ نہیں تھا۔ بھارت کی جنگ کی دھمکی پر بھی جراتمندانہ موقف کو بھی پاکستانی عوام کے طرف سے سراہا گیا۔ بھارت کی کھلی دھمکیوں اور سابقہ حکومت کے معذرت خواہانہ رویے کے خلاف عمران حکومت کے وزیر خارجہ نے مناسب زبان میں بھارت کو جواب دیا بلکہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو آئینہ دکھا دیا۔جس سے پاکستانی عوام خوش ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ