ای او بی آئی پنشن میں اضافہ حکومت کا کارنامہ ہے

175

 

تحریر
*
*
اختر بھوپالی
.
شطاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ عوام سے مراد جو عوام ہیں جو تپتی دھوپ میں قطار میں کھڑے ہو کر اپنا قیمتی ووٹ استعمال کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو عوام کے لیے ایسے منصوبے تیار کرتے ہیں جو ان کی دانست میں غربت کے خاتمے کے ہوتے ہیں مگر نتیجے میں غریب ہی ختم ہوتا جارہا ہے۔ قائدین پاکستان کی جلد رحلت کے بعد اقتدار جن لوگوں کے ہاتھ آیا وہ عوام کے لیے تو کچھ نہ کرسکے اپنے لیے بہت کچھ کر گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے دیے ہوئے نعرے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں کی لاج رکھتے ہوئے عوام کے لیے ایسے اقدامات کیے کہ جن کے ثمرات سے آج کا غریب بھی فائدہ اٹھارہا ہے (گرچہ ان کی باقیات نے اس کی پیروی نہیں کی) مزدور کے بیوی بچوں کے علاج معالجہ کے لیے سوشل سیکورٹی اسکیم کا قیام، ان کی فلاح بہبود کے لیے ورکرز ویلفیئر بورڈ کا وجود اور سب سے بڑھ کر مزدوروں کی ملازمت کے خاتمے کے بعد مالی اعانت کے لیے EOBI کی بنیاد سے قبل پنشن کا لفظ صرف سرکاری ملازمین کے لیے وقف تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو کے اس مفید اقدام کی بدولت ایک غریب بھی لفظ پنشن سے روشناس ہوگیا۔ ابتدا میں اس کی رقم قلیل تھی پھر حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس میں اضافے کی رفتار بھی کچھوے کی سی تھی اور اس میں سرکاری پنشنرز کی طرح ہر سال اضافہ نہیں ہوا۔ EOBI کی پنشن میں آخری بار اضافہ 2012ء میں یعنی چھ سال قبل ہوا تھا جب کہ سرکاری پنشنرز کی رقم میں ہر سال 10 فی صد اضافہ چلا آرہا ہے۔ 2015ء میں اس وقت کے وزیر خزانہ اور آج کے مفرور ملزم اسحق ڈار نے کم از کم حد 3500 روپے سے بڑھا کر 5250 روپے مقرر کرکے حاتم تائی کی قبر پر لات ماری تھی۔ 2017-2018 کے دوران 5250 روپے کے حوالے سے سیر حاصل بحث رہی۔ اخبارات نے ناصرف مضامین بلکہ اداریوں کے ذریعے حکومت وقت کو متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ روزنامہ جسارت کا محنت کش صفحہ تو اپنی ہر اشاعت میں اس مسئلے کو اٹھاتا رہا جس کے لیے تمام محنت کش جسارت کی انتظامیہ کے مشکور ہیں۔ خود راقم الحروف کے دو مضامین روزنامہ جسارت کی زینت بنے اور تو اور چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے 5250 روپے کی رقم پر اظہار حیرت کیا تھا مگر ان سب کا اثر حکمرانوں پر نہ ہوا۔ جانے والی حکومت نے جاتے جاتے صدر مملکت کی تنخواہ میں 7 لاکھ روپے کا تو اضافہ کردیا مگر EOBI کے پنشنرز محروم ہی رہے، پھر تبدیلی آئی تو تحریک انصاف نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں EOBI کی پنشن میں 10 فی صد اضافے کے ساتھ ہی اس کی کم از کم حد 5250 روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے جو ان شاء اللہ منظور بھی ہوجائے گی اور یوں عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کی ڈھیروں دعائیں سمیٹ لیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ