ملکی ترقی کے لیے سیاحت کے شعبے میں ترقی ب ناگزیر ہے، اکرم خان

85

پاکستان کو سیاحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے میں سیاحتی شعبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پائیدار ترقی سے مراد بہتر اور مستقل ملازمتیں، مزدوروں کے بنیادی حقوق کا حصول ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیرینا ہوٹل منگورہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان ’’سوات کو پائیدار سیاحت کی ضرورت ہے‘‘ میں کیا گیا۔ یہ سیمینار عالمی یوم سیاحت کے موقع پر آئی یو ایف اور ورکرز ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن نے کیا تھا جب کہ سوات سیرینا ہوٹل لیبر یونین نے اس کے انعقاد میں انتظامی مدد فراہم کی تھی۔ سیمینار کے مہمان خصوصی بابوزئی تحصیل ناظم اکرم خان تھے جب کہ دیگر مقررین میں قمرالحسن، میر ذوالفقار علی، محمد لیاقت باچا، سفیر مغل، ثمینہ غنی، حاجی رسول خان، محمد خالق ساگر تھے۔ آئی یو ایف کے ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا قمر الحسن نے کہا کہ ہمیں ایسی سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس سے معاشی اور سماجی ترقی میں اضافہ ہو، محنت کشوں کو تمام حقوق میسر ہوں، قدرتی خوبصورتی برقرار رہے، آلودگی میں اضافہ نہ ہو، ثقافتی ورثہ کو تحفظ حاصل ہو، جنگلی حیات کو نقصان نہ پہنچے، خواتین اور نوجوانوں کو مواقع میسر ہوں، پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے مواقع سب کو یکساں حاصل ہوں۔ ورکرز ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میر ذوالفقار علی نے کہا کہ ملک میں امن وامان کی صورتِ حال بہت بہتر ہورہی ہے اور اس کا ثبوت گزشتہ سالوں میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ سے ظاہر ہے۔ ملک میں گزشتہ سال سیاحوں کی آمد میں 300 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ سیاحت ایسا شعبہ ہے اگر اسے ترقی دی جائے تو ملک کی معیشت میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ دنیا بھر کی GDP میں سیاحت
کا حصہ 10 فی صد سے زیادہ ہے۔ تحصیل ناظم بابوزئی محمد اکرم خان نے کہا کہ یہ سیمینار اس علاقے کی سیاحت اور ترقی کی طرف قدم بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ سیاحت کو فروغ دیا جائے اور سیاحوں کے لیے ہر ممکن سہولیات مہیا کی جائیں۔ ای ڈی او ثمینہ غنی نے کہا کہ میں آئی یو ایف اور ویرو کو یہ سیمینار منعقد کرنے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ اس سیمینار کے انعقاد سے سوات میں اس حوالے سے ایک بحث شروع ہوجائے گی۔ ضرورت ہے کہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے
انفرااسٹرکچر مثلاً سڑکیں، بجلی، پانی وغیرہ کا بہتر انتظام کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاحت کو فروغ ہوگا تو اس سے اس علاقے میں لوگوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے اور ہم ترقی کی طرف تیزی سے قدم بڑھاسکیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ