بھٹہ مزدوروں کو بیروزگار نہ کیا جائے، قموس گل خٹک

91

حیدرآباد میں متحدہ لیبر فیڈریشن پاکستان سے ملحقہ 26سی بی اے ٹریڈ یونین رہنماؤں کا اجلاس 3اکتوبر سرکلر بلڈنگ میں زیر صدارت امجد علی خان مرکزی نائب صدر فیڈریشن منعقد ہوا۔اجلاس میں 20اکتوبر2018سے بھٹہ خشت کی بندش سے پیدا ہونیوالی صورتحال اور یونینوں کی جانب سے کول کمپنیوں کو جاری کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری میں تاخیر پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے انڈس کول مائینز ورکرز یونین کے صدر عمر جمیر ، حبیب اللہ کول مائیننگ ورکرز یونین کے صدر اور چیئرمین ، پریمیئر کول مائینز ورکرز یونین کے صدر نذیر محمد، احمد کول مائینز ورکرز یونین کے صدر ، حبیب اللہ لاکھڑا کانکنان یونین صدر ، کاشف کول مائینز ورکرز یونین کے صدر اکبر علی، شاہد کول مائینز ورکرز یونین کے صدر ، مصطفی کول مائینز ورکرز یونین کے نائب صدر، یونیورسل کول مائینز ورکرز یونین کے سینئر نائب صدر، سپرل کول مائینز ورکرز یونین کے جوائنٹ سیکرٹری ، ندیم کول مائینز ورکرز یونین کے صدر سید عمبر ، ایچ ایم اقبال کول مائینز ورکرز یونین کے صدر ، صبیحہ قدوس ورکرز یونین کے صدر جنت حسین ، کریم بخش کول مائینز ورکرز یونین کے صدر محمد فاروق، بلیک ڈائمنڈ کول مائینز یونین کے صدر ڈاکٹر جہاں زیب ، بلوچستان کول مائینز ورکرز یونین کے صدر ، سندھ کول مائینز یونین کے صدررحیم داد، حاجی عبدالرازق خان کنٹریکٹر ورکرز یونین کے صدر ، ایل سی ڈی سی ایمپلائیز یونین کے صدر ممتاز علی کھوسو ، پی ایم ڈی سی کول پروجیکٹ ورکرز یونین کے صدر مدد علی کھوسو ، حبیب اللہ کول مائینز ورکرز یونین کے نائب صدر نورل کھوسو ، بھٹائی کول مائینز یونین کے صدر میاں بختی رواں ، متحدہ لیبر فیڈریشن سندھ کے چیئرمین محمد آصف خٹک اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔مقررین نے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے حوالے سے 20 اکتوبرسے بھٹہ خشت کو بند کرنے کے فیصلے کو ہرلحاظ سے ملک کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں کم از کم پانچ کروڑ مزدوروں کا بے روز گار ہونا حکومت پاکستان کو سیلز ٹیکس کی مد میں اربوں روپیہ ماہانہ اور صوبائی حکومتوں کو رائلٹی، ویلفیئر سیس میں کروڑوں روپیہ ماہوار کا نقصان ہوگا۔ ایک طرف موجودہ حکومت تبدیلی اور کسی کو بے روز گار نہ کرنے کی بات کرتی ہے تو دوسرے جانب بھٹہ خشت کو متعلقہ اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بغیر بند کرکے بے روز گاری پھیلارہی ہے ۔جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور پورے ملک کی سطح پر اس فیصلے کے خلاف احتجاج ہوگا۔ مقررین نے مائینز اونرز کی ایک نئی تنظیم کے چیئرمین کی جانب سے قائد کانکنان قموس گل خٹک کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کی مزمت کی اور اس کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیاکہ چارٹر آف ڈیمانڈ کے ردعمل میں خودساختہ الزامات لگانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے اور نہ ہی ہمارے قائد کو چالیس سالہ خدمات کے سلسلے میں کسی مائینز اونر سے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے اگر یہ سلسلہ بند نہیں ہوا تو پورے لاکھڑا کول فیلڈ میں اس کا سخت ردعمل ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ قائد اور فیڈریشن کی پالیسی پر امن ماحول میں صنعتی تنازعات کو حل کرنے کی ہے اجلاس میں طے پایا کہ 11اکتوبر کو حیدرآباد پریس کلب کے سامنے بھٹہ خشت کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ ہوگا اور 19 اکتوبر انڈس کول مائینز پر بڑا مظاہرہ کیا جائے گا۔متحدہ لیبر فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل قموس گل خٹک نے 20 اکتوبرسے بھٹہ خشت کو بند کرنے کے فیصلے کو یک طرفہ احمقانہ اور مزدور دشمنی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کو مسترد کیا اور کہا کہ مائینز اونرز بھٹہ خشت تنظیموں اور کانکنی سے متعلق یونینوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرکے بغیر نقصان کے بھی یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن تبدیلی کے نام پر منتخب حکومت نے آمرانہ فیصلہ کرکے حیران کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر مائینز اونرز اور ٹریڈیونینز کو مشترکہ مقصد کی خاطر مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے لیکن چند افراد مائینز اونرز اور ٹریڈ یونین قیادت میں اختلافات پیدا کرکے کوئی اور گیم کھیل رہے ہیں ۔جس کا نقصان کول مائینز انڈسٹری کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی جیو اور جینے دو کی ہے اگر انڈسٹری ہوگی تو یونین بھی اور مزدوروں کا روز گار بھی ہوگا اس لیے ہم نے چالیس سال میں مزدوروں کو حقوق دلوانے کے ساتھ ساتھ کول انڈسٹری کا بھی تحفظ کیا ہے۔ ہمیں کسی سے اس سلسلے میں سر ٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔امجد علی خان صدر جلسہ نے کہا کہ بھٹہ خشت کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج جاری رہے گا اور لاکھڑا کول فیلڈ کا ہر کارکن اپنے قائد پر بھرپور اعتماد کرتا ہے اور وقت آنے پر لاکھڑا کے بہادر مزدور یہ ثابت کردیں گے کہ وہ قائد کانکنان کے سپاہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ ہمیں صوبہ بلوچستان کی طرح نیم غلام بنا کر اپنی تجوری بھرے گا یا لوگوں کو خوفزدہ کرکے مال بنائے گا تو وہ غلط فہمی دور کرے۔ اگر کسی مائینز اونر کے جائز تحفظات ہیں تو ہم دونوں فریقین بیٹھ کر اس کا ازالہ کرسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ