’’تعلیم سے تعمیر‘‘

117

 

ہلال احمد تانترے
(مقبوضہ کشمیر)

اقوم کس طرح سے عالمی طاقتیں (superpowers) بن کر اُبھرتی ہیں؟ ’عالمی طاقت‘ کا لقب اُس ملک کو دیا جاتا ہے جس کی حیثیت عالمی معاملات میں باقی ملکوں سے زیادہ اہم ہو۔ ملک کی عالمی حیثیت تبھی موثر اور زور آور ہو سکتی ہے جب اس کے پاس معاشی، عسکری، تعلیمی و تمدنی وسائل سب سے زیادہ ہوں۔ اس اصطلاح کو سب سے پہلے جنگ عظیم دوم کے بعد برطانوی سلطنت، متحدہ ہائے ریاستِ امریکا اور سویت یونین کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ لیکن جنگ عظیم دوم کے بعد برطانوی سلطنت کو اس اعزاز سے دستبردار ہونا پڑا۔ سرد جنگ کے دوران امریکا اور سویت یونین دنیا کی عالمی طاقتیں بن کر راج کررہی تھیں۔ 1991ء میں سویت یونین کے بکھر جانے کے بعد یہ اعزاز صرف امریکا کے پاس رہ گیا کہ وہ دنیا کے معاملات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے سرد جنگ کے بعد اکثر غریب و لاچار ممالک میں مداخلتوں کا ایک نیا سلسلہ قائم کیا، جو ہنوز جاری ہے۔ وہاں کی آبادی کو تہہ تیخ اور وسائل کی لوٹ مار کے بعد کوئی بھی ملک یا تنظیم امریکا سے یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتی کہ دوسرے ملکوں میں مداخلت کرنے کا اُس کے پاس کون سا جواز ہے؟ یہ ہوتا ہے دبدبہ سپر پاور کا! عالمی طاقت کا لقب پانے کے لیے ملک کو جن شعبوں میں نمایاں کار کردگی کا مظاہر کرنا پڑتا ہے، اُن کے نام ہیں؛ آبادیات، جغرافیہ، معاشیات، سیاسیات، خارجی معاملات، عسکری، ذرائع ابلاغ، تمدن اور تعلیم۔ اِن تمام شعبوں میں تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ اہم ہے، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ تعلیم ہی کا شعبہ باقی تمام شعبوں کے لیے راہ اور لائحہ عمل فراہم کرتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ جیسا کہ تذکرہ کیا گیا کہِ اس وقت سپر پاور کا اسٹیٹس امریکا کے پاس ہے۔ لیکن یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں ہے کہ آگیا امریکا اور بن گیا سپر پاور۔ اس کے پیچھے امریکیوں کی محنت شاقہ کار فرما ہے۔ خاص کر اُن کے نظام تعلیم کی۔ یہ 1950ء کی بات ہے جب امریکا کی کسی یونیورسٹی میں کسی کورس کے لیے طالب علموں کو داخل کیا جاتا تھا تو اندراجی پروگرام میں وہاں کے اساتذہ اُنہیں کچھ اِن الفاظ سے خوش آمدید کرتے ہیں؛ ’’تعلیم سے جنگیں جیتی گئیں، سائنس نے جاپان کو زیر کرنے میں مدد کی، ریاضی سے ایٹم بم بنایا گیا، آپ ہی کے جیسے طالب علموں نے اپنی محنت و لگن سے اپنے ملکوں کے لیے پالسیاں مرتب کیں۔ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ سویت یونین کا ہدف دنیا کو کمیونسٹ نظام کے اندر لانے کا ہے۔ معاشیات ہو یا معدنیات، ٹیکنالوجی ہو یا خلائی دنیا، ہر کسی محاذ پر جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ اس لیے اُن محاذوں پر کامیاب ہونے کے لیے ہمیں نتائج چاہییں، ہمیں طریقہ کار چاہیے، ہمیں فلسفی چاہییں، ہمیں البرٹ آئن اسٹائن چاہیے، ہمیں نیوٹن چاہیے، ہمیں مارکونی چاہیے۔ آپ سے سوال ہے کہ آپ میں سے اب اگلا آئن اسٹائن کون ہوگا، کون نیا ڈی مورس ہوگا؟ انہی سوالات کو لے کر ہم آپ کا استقبال کر رہے ہیں‘‘۔ اس کے بعد سرکار کی طرف سے ایسے طالب علموں و تحقیق دانوں کے لیے ہر قسم کی سہولت بہم پہنچائی جاتی تھیں جن سے کہ وہ اپنے ملک کو ترقی کی پٹڑی پر زیادہ تیز رفتار میں دوڑانے میں معاونت کریں۔
اب تھوڑا سا وقفہ مسلم دنیا پر نظر ڈالنے کے لیے لیتے ہیں۔ اصل واقع یہ ہے کہ ابھی بھی ہمارے اندر ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو دنیاوی و دینوی علم میں تفریق کر رہے ہیں، جن کے نزدیک دنیا اور دین کے علم میں کوئی مطابقت نہیں ہے یا جو دین اور دنیا کے علم کو دو رنگی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ذہنیت پرانی دہائیوں میں زیادہ پیوستہ تھی۔ دنیاوی تعلیم کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ انگریزی سیکھنے کو دین بدل دینے کے معنوں میں سمجھاجاتا تھا۔ غیر مسلم اقوام کو اِس دوران آرام سے سائنس و ٹیکنالوجی میں اعلیٰ کام کرنے کا موقع نصیب ہوا، نتیجتاً وہ آج ہر میدان میں آگے آگے دوڑ رہے ہیں۔ حالاں کہ امر واقع یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور باقی علوم کی بنیادیں اسلام ہی نے ڈالی ہیں، جن پر بعد ازاں ہمارے اکابرین نے بڑی سرعت سے کام کرتے ہوئے انہیں عملی شکل دی تھی۔ لیکن جب اُسے اپنے منطقی انجام کو پہنچانے کی بات آئی، مسلمانوں کے اندر ایسے کئی فتنے اُٹھے کہ وہ اپنے تابناک ماضی کو بھول بیٹھے۔ یوں یہ کام غیروں نے اپنے ہاتھ میں لیا اور آج مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ اُن کے حقوق پر دن دہاڑے شب و خون مارا جارہا ہے اور کسی کو پروا نہیں۔ امریکا اور روس مشرق وسطیٰ میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں، کسی کو اُن سے سوال پوچھنے کی جرات نہیں۔ افغانستان میں امریکا کی تخریبی کاروائیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں، کسی کو کوئی فکر تک بھی نہیں، کشمیر میں آئے روز ظلم و درندگی کی داستانیں رقم کی جارہی ہیں، کس کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا ہے۔ اس کے بالمقابل اگر امریکا یا یورپ میں کسی مکھی نے پَر ہلایا، ساری دنیا واویلا کر رہی ہے۔ دنیا کے سارے ممالک ماتمی قرارداتیں پاس کر رہے ہیں اور ہمدردیاں بٹوری جارہی ہیں۔ اسی پسِ منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر نے ستمبر مہینے کے لیے ایک منصوبہ عمل بنایا کہ امت مسلمہ کے طالب علموں و اساتذہ کو یہ باور کرایا جائے کہ اسلام مسلمان کی نہ صر ف اخروی کامیابی کا ضامن ہے بلکہ دنیا میں بھی انہیں عزت و عافیت کے ساتھ جینے کا سبق سکھلا رہا ہے۔ ’’تعلیم سے تعمیر‘‘ کی اس مہم میں ایسے کئی سارے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ خصوصی لیکچرز، مباحثے کیریر کونسلنگ، وغیرہ جیسے پروگرامات کا ایک جامع سلسلہ چلایا گیا۔ اِن پروگراموں میں امت مسلمہ کے شاہین صفت نوجوان طلبہ کو بتایا گیا کہ قرآن ہی ہمیں دنیاوی علوم میں آگے بڑھنے کے لیے ہدایات فراہم کرتا ہے، قرآن ہی ہمیں اپنی عقل کو حد درجہ استعمال میں لانے کی نہ صرف ترغیب دیتا ہے بلکہ اس کے استعمال نہ کرنے پر اللہ کی وعید بھی سناتا ہے، قرآن ہی ہمیں آسمان، زمین، درند، چرند، پہاڑ، پیڑ، پودوں، انسان کی تخلیق، اس پوری کائنات کی کارسازی پر نظر دوڑانے کے لیے کہتا ہے۔ حقیقتاً یہی وہ علوم ہیں جن سے ہم پوری دنیا کو مسخر کر سکتے ہیں اور اُسے وہ عادلانہ و منصفانہ نظام دے سکیں جس میں تمام بنی نوع انسانی کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہی وہ علوم ہیں جو ہمیں اِس علمی اقرار تک پہنچا سکتے ہیں کہ پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے، پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ