ڈاکٹر حسن صہیب مراد

573

 

پروفیسر حافظ سجاد قمر

سورج مشرق سے ابھرا اور مغرب میں غروب ہو گیا۔ لیکن اس نے جو روشنی پھیلائی اس سے قیامت تک اس راستے پر چلنے والے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ کتابی نستعلیق چہرہ، روشن پیشانی ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ، عاجزی اور انکساری کا پیکر ڈاکٹر حسن صہیب مراد یوں اچانک ہم سے رخصت ہوئے کہ تین ہفتے سے زاید گزرنے کے باوجود ابھی تک یقین نہیں آتا۔ پاکستان کے ایک بہت بڑے دانشور، ماہر تعلیم اور امت کا درد رکھنے والی شخصیت، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ہنستے مسکراتے سامنے آئیں گے اور کہیں گے کہ کوئی ایسا طریقہ ہو کہ امت مسلمہ متحد ہو جائے۔ میری ان کے ساتھ ایک بھی ایسی ملاقات نہیں جس میں انہوں پاکستان، امت اور تعلیم کے حوالے سے اپنے کرب کا اظہار نہ کیا ہو۔ڈاکٹر حسن صہیب مراد ددھیال ننھیال دونوں طرف سے نجیب الطرفین علمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کے ننھیالی بزرگ مولانا عبدالغفار حسن برصغیر کے نامور عالم دین اور مصنف تھے۔ جب کہ آپ کے دادا سرگودھا سے تعلق رکھنے والے سول انجینئر تھے۔ آپ کے والد خرم مراد برصغیر کے بہت بڑے مفکر، دانشور اور دلوں کو موم کرنے والے ایک عبقری انسان تھے۔ خرم مراد مرحوم پروفیسر خورشید احمد، ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر حسن اس دنیا کے لوگ نہیں تھے۔ کسی اور سیارے کی مخلوق۔نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
ان میں اب صرف پروفیسر خورشید احمد صاحب ہم میں موجود ہیں۔ پوری زندگی ایک آئینے کی طرح، صاف و شفاف، انتہائی مصروف شخصیت لیکن جب ہم نے ملنا چاہا ملاقات ہو گئی۔ خرم مراد مرحوم کراچی سے امریکا، امریکا سے ڈھاکا اور ڈھاکا سے لاہور، پاکستان، اسلام اور انسانیت کی خدمت کی ایک ایسی لازوال اور عظیم داستان مرتب کر گئے کہ جس کو پہنچنا مشکل اور ناممکن ہے۔ حرم شریف مطاف میں ٹھنڈی ٹائلوں کے منصوبے میں شامل ہونا بھی آپ کے اعزاز میں شامل ہے۔ آپ کے حقیقی ماموں زاہد حسین اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پہلے گورنر تھے۔ تو ڈاکٹر حسن صہیب مراد مو تیوں کی اس لڑی سے تعلق رکھتے تھے جس کا ایک ایک موتی اپنی چمک اور خوب صورتی میں انمول تھا۔ سرگودھا کی جفا کشی، بھوپال کا طرز تہذیب اور کراچی کی شائستگی اور وقار لیے ڈاکٹر حسن 22 اکتوبر کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے گریجویشن کی ڈگری اس امتیاز سے حاصل کی کہ ہر سال ڈین میرٹ ایوارڈ حاصل کیا۔ واشنگٹن اسٹیٹ یونی ورسٹی سے ایم بی اے اور یقین ورسٹی آف ویلز برطانیہ سے پی ایچ ڈی بھی کیا۔ لیکن نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی کے مصداق دین کی جو تربیت گھر سے ملی تھی اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ خود ایک مرتبہ کہنے لگے کہ جیسی ڈاڑھی لے کر گئے تھے ویسی ہی ساتھ لے کر آئے۔ ورنہ ہم نے تو دیکھا ہے کہ کسی منصب پر پہنچنے کی دیر ہے کہ بڑے بڑے لوگوں کے حلیے ہی تبدیل ہو گئے۔ امریکا اور بر طانیہ میں اعلیٰ تعلیم اور اتنا عرصہ گزارنے کے بعد نہ ہی تو حسن صاحب نے منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی کا توں گھمایا اور نہ ہی ان کو پاکستان کے ماحول سے نفرت ہوئی۔شہرت اور گلیمر سے دور پرے رہ کر انہوں نے تعلیم کے شعبہ کو اپنی رزم گاہ بنایا۔ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ سے جس سفر کا آغاز کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی شکل میں سیکڑوں ہزاروں افراد کا مسیحا بن گئے۔ اس سفر کے دوران بے شمار مراحل آئے۔ شروع میں مشکلات اور کامیابی کے بعد آزمائش لیکن حسن صاحب دونوں مواقع پر سرخرو ہوئے۔ بڑی بڑی پیش کش اور دنیا کی چکا چوند اور عہدوں کی لالچ سے دور اپنی دنیا میں مگن رہے۔ سفر ہو یا حضر، تہجد کی پابندی کبھی بھی نہیں چھوٹی۔ تمام تر جدوجہد کا مر کز اور محور تعلیم تھا۔ عموماً دیکھا ہے کہ جن لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے ان کے اندر ہوس میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ ان کا سونا جاگنا پیسہ ہوتا ہے لیکن حسن صاحب اس بیماری سے کوسوں دور تھے۔ سعودی عرب، ترکی، اردن، قطر کے سفارت کاروں اور رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوتیں۔ گھنٹوں گھنٹوں بیٹھتے۔ ترکی میں فوجی بغاوت ہوئی تو حسن صاحب ایسے ہو رہے تھے جیسے ان کی اپنی سلطنت پر حملہ کیا گیا ہو۔ شام کی صورت حال پر اتنے دل گرفتہ تھے اور ہر وقت اس جستجو میں ہوتے تھے کی کسی طرح ان کے کام آئیں۔ محمد ابراہیم قاضی ان کے رفیق کار لکھتے ہیں کہ ترکی میں ایک کانفرنس کے دوران سب کو چھوڑ کر شامی طلبہ سے گھل مل گئے اور ان کے لیے اسکالر شپس مختص کرنے کا اعلان کیا۔ حوثیوں نے سعودی عرب کو نشانہ بنانا چاہا اور یمن کو تاراج کرنا شروع کیا تو تب بھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حسن صاحب کے گھر کا مسئلہ ہو۔ ہر ملاقات میں اس بات کا تذکرہ ہوتا۔ گزشتہ سال اغیار کی سازشوں میں ایک نئی سازش ہوئی اور قطر کو نشانہ بنا دیا گیا۔ تب حسن صاحب اسلام آباد آئے اور قطر کے سفیر سقر بن مبارک سے ملے۔ اپنے درد کا اظہار کیا اور دامے درمے سخنے ساتھ چلنے کا عزم کیا۔ حسن صاحب نے قطر کا بڑا خوبصورت تجزیہ کیا۔ اور کہا کہ قطر کی صورت حال ایسی ہے کہ جیسے کوئی حسین و جمیل اور مال دار دوشیزہ ایسے بدطینت لوگوں میں پھنس جائے جہاں ہر کوئی اس پر بری نظر رکھے۔ اور اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔ عالمی استعمار نے پہلے عراق لیبیا کو ختم کرایا اور اب ان کی للچائی ہوئی نظریں قطر جیسے مسلمان دولت مند ملک پر ہیں کہ کسی بہانے ان کی دولت ختم کرائی جائے۔ ایک گھنٹے سے زاید ملاقات کے بعد قطر کے سفیر حسن صاحب کو چھوڑنے باہر دروازے تک آئے۔ اور ان کے جذبات پر بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔ عرض کرنا یہ مقصود تھا کہ بڑے بڑے غیر ملکی اداروں کے ذمے داران کے ساتھ میل ملاقات میں کبھی بھی کچھ مانگا نہیں۔ نہ ہی مانگنے والا موضوع رکھا۔ صرف اور صرف امت کے انتشار، زبوں حالی اور حل کے لیے اپنی تجاویز پر بات کی۔ حسن صاحب کی خواہش تھی کہ یو ایم ٹی کے طرز پر ریاض سعودی عرب میں بھی ایک یونیورسٹی ہو۔ اسلام آباد میں ایک انٹر نیشنل یونیورسٹی ہو۔ جس کا رابطہ پوری دنیا کے ساتھ ہو اور یہ امت مسملہ کو جہاں قابل رجال کار مہیا کرے وہاں امت کی رہنمائی بھی کرے۔ اس یونیورسٹی کے قیام کے پہلے قدم کے طور پر جب اس کی باڈی رجسٹرڈ ہوئی تو اس کے بعد ان سے ملاقات ان کی لائق صاحب زادی مریم مراد کی شادی میں ہوئی جو دی نالج اسکولز سیٹ اپ کو مہارت سے چلا رہی ہیں۔ مہمانوں کے اتنے رش کے باوجود ملتے ہی بڑی خوشی کا اظہار کیا اور رجسٹریشن کی پوری روداد سنی اور کہا کہ یہ قدم اس بات کا اشارہ ہے کہ اللہ پاک کو یہ منصوبہ قبول ہے۔ اور پھر اس پر تفصیل سے بات کی۔ نبی کریم ؐ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ حسن صاحب اس حدیث کی عملی مثال تھے۔ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا، ہر ایک کو نہایت ادب و احترام سے بلاتے تھے۔ کسی کو برا بھلا یا پیٹھ پیچھے بات کرتے نہیں سنا۔ کسی کو کوستے اور ڈانتے نہیں دیکھا۔ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوتی تھی۔ ملاقات، مہمان نواز اور خندہ پیشانی، یو نیورسٹی میں ایک دفعہ جمعہ کی نماز ان کے ساتھ پڑھی۔ باہر نکلے تو طلبہ و طالبات کا ایک ہجوم، ایک ہی مطالبہ، فیس معافی، کسی ایک کو بھی یہ نہیں کہا کہ یہ کوئی جگہ ہے اور کیا یہ کوئی طریقہ ہے۔ سب کی بات سنی اور ان کے مسائل حل کیے۔ اسلام آباد میں آخری ملاقات کا موضوع یہ تھا کہ مسلم ورلڈ چیئرمین کے لیے حسن صاحب جو کہ اس تنظیم کے پاکستان کے چیئرمین تھے کی طرف سے سے ظہرانہ تھا۔ میں تاخیر سے پہنچا تو ڈاکٹر انیس صاحب کے ساتھ کھڑے تھے۔ میرا ہاتھ پکڑا اور آخری نشستوں پر بیٹھ گئے۔ پروٹوکول سے کوسوں دور رہتے تھے۔ پوری تقریب میں پیچھے ہی بیٹھے۔ رسم کے بجائے کام اور نتیجے پر توجہ رکھتے تھے۔ وفات سے چند دن قبل مجھے ابراہیم قاضی کا فون آیا کہ حسن صاحب گلگت ہیں۔ اور واپسی پر جمعرات کے روز آپ کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن ہر وعدہ پورا کرنے والے یہ وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ سوست بارڈر کے قریب گاڑی کے ایک حادثے میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس طرف بھی شاید وعدہ تھا۔ اے نفس مطمئن چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی پس داخل ہو جا میری جنت میں جس کا تجھ سے وعدہ تھا۔ جنازے سے پہلے حسن صاحب کے گھر پہنچا ڈرائیور صاحب ملے۔ آج ہمارے بادشاہ چلے گئے۔ ہمارا دل کچھ سخت ہے۔ کم ہی رونا آتا ہے لیکن آنسو تھے کہ رک نہیں رہے تھے۔ ابراہیم حسن مراد زخمی اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ اپنے والد کا سفر آخرت بیان کر رہے تھے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سراج الحق، حسن صاحب کے بڑے بھائی فاروق مراد، نائب امیر ڈاکٹر فرید پراچہ، اظہر اقبال حسن اور بہت سے سوگوار موجود تھے۔ ابراہیم حسن مراد سے میں پہلے بھی ملا۔ کئی بار بیٹھے۔ لیکن اس دن وہ بول رہے تھے اور مجھے لگ رہا تھا کہ یہ تو حسن صہیب مراد ہیں۔ گلگت سے واپسی کا سفر ابراہیم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ اپنی یادوں کے پرت کھول رہے تھے۔ کہ والد صاحب کہتے تھے کہ جہاں تم کو جانا ہے وہاں مجھے نہیں جانا اور جہاں مجھے جانا ہے وہاں تم کو نہیں جانا۔ گلگت کے سفر کے لیے راضی نہیں تھے۔ لیکن جنرل جاوید حسن سابق ڈی جی ایف سی ناردرن ایریا پروگرام ترتیب دے چکے تھے سو والد صاحب نے قبول کر لیا۔ واقعہ کا تذکرہ کر رہے تھے کے جب گاڑی الٹ گئی تو ہم باقی تین لوگ گاڑی میں ہی رہے لیکن والد صاحب گاڑی سے باہر جا گرے۔ سر غالباً پتھر سے جا ٹکرایا۔ گاڑی سے نکل کر والد صاحب کو دیکھا۔ اتنے میں کچھ لوگ رکے اور میرے کانوں میں آواز آئی کہ یہ تو حسن صہیب مراد صاحب ہیں۔ اور میں نے سوچا کہ یہاں بھی والد صاحب کے شاگرد موجود ہیں۔ گاڑی میں بٹھا کر قریبی ڈسپنسری کی طرف چلے۔ والد صاحب کے گلے سے اللہ اللہ کی آواز آ رہی تھی۔ ایک مرتبہ انگلی آسمان کی طرف اٹھائی گویا کلمہ شہادت پڑھ رہے ہوں۔ اسپتال پہنچے لیک اس سے پہلے وہ اپنے ربّ کے پاس جا چکے تھے۔ ابراہیم کہ رہے تھے کہ جب میں باہر سے پڑھ کے آیا تو والد صاحب کو کہا کہ مجھے اگر کوئی دفتر دے دیں تاکہ میں بیٹھ سکوں۔ والد صاحب نے اپنے آفس میں میرے لیے میز لگائی اور میں ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ بیٹھا۔ ان کا مقصود یہ تھا کہ میں ان کے ساتھ رہ کر سیکھوں۔ ابراہیم کہ رہے تھے کہ ایک دفعہ میں حساب دیکھ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ہزاروں طلبہ کو کروڑوں روپے کے اسکالر شپس دیے گئے۔ میں نے والد صاحب سے کہا کہ لوگ چھوٹا سا کام کرتے ہیں اور اتنی تشہیر کرتے ہیں۔ آپ نے کسی بروشر میں اس کا ذکر ہی نہیں کیا۔ سنا اور بس مسکرا دیے۔ بڑی بڑی آفرز آتی رہیں لیکن انہوں نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی۔ اور نرم خو ایسے کہ ڈرائیور کو بھی صاحب کہہ کر بلاتے اور کہتے کہ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو یہ کام کر آئیں۔ سخت ترین تھکن اور سفر کے باوجود تہجد کی نماز نہیں چھوڑتے تھے۔ یادوں کی پرتیں کھل رہی تھیں اور آنسووں کی لڑیاں رواں تھیں۔ ابراہیم کے سر بڑا بوجھ آ گیا لیکن والد صاحب کی تربیت اس دن بول رہی تھی کہ فرماں بردار اولاد اپنے والد کا مشن جاری رکھے گی۔ اہلیہ بھی تعلیم کا مشن لیے اپنے حصے کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیٹی بھی قدم بقدم ہے۔ نماز جنازہ میں ایک ہجوم تھا۔ مولانا طارق جمیل صاحب کہہ رہے تھے کہ اتنی بڑی تعداد ہے۔ ابراہیم کے والد بخشے گئے۔ اور پھر وہی بیان کیا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ اور مجمع گواہی دے رہا تھا کہ واقعی ڈاکٹر حسن صہیب مراد ایسے ہی تھے۔ پوری زندگی روشنیوں اور خوشبو وں سے بھر پور سورج اپنی تمام تر تمازتوں کے ساتھ غروب ہو گیا لیکن اس کی پھیلائی ہوئی روشنی سے مدتوں قافلے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را

Print Friendly, PDF & Email
حصہ