مشرق وسطیٰ میں ناکام امریکی پالیسی

122

 

سمیع اللہ ملک

۔10برس سے جاری خانہ جنگی اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی تغیرات نے خطے میں جنگ عظیم اول سے قائم سیاسی نظام کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ جیسے جیسے آمرانہ نظام اپنے انجام کو پہنچے تو ان کے ساتھ ہی قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے اور ان ممالک کی عالمی سرحدیں بھی متاثر ہوئیں۔ شام اور یمن خونی خانہ جنگی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس خانہ جنگی کو غیر ملکی فوجی مداخلتوں نے مزید سلگایا ہے۔ دوسری طرف امریکا اور اس کی اتحادی فوج کے آپریشن سے قبل ایک دہشت گرد تنظیم داعش، عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر چکی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ ،واشنگٹن اور خطے کے دیگر ممالک کے سرکاری حکام اور دیگر ماہرین کی نظر میں اس بدترین صورتحال کا ذمہ دار ’ایران‘ ہے۔ ان کا خیال ہے کے ایران نے دہشتگرد گروہوں کی مالی مدد کی ہے۔ بشار الا سد جیسے آمر کی حمایت کی ہے اور یمن میں حوثی باغیوں کی بھی مکمل معاونت کی ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو دنیا بھر میں ریاستی سطح پر ’دہشت گردوں کی معاونت کرنے والا مرکزی ملک‘ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران کے ساتھ 2015ء میں ہونے والے ایٹمی معاہدے کو بھی ’اب تک کا بدترین معاہدہ‘قرار دے کر اسے مسترد کر دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دیتے کے ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا۔ امریکا کے سیکرٹری دفاع جیمس میٹس کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ کی امن و سلامتی کے لیے واحد خطرہ ایران ہے‘۔ سعودی وزیر خارجہ عادل جبیر کا بھی کہنا ہے کہ ’ایران تباہی کے راستے پر ہے‘۔
واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایرانی اثرورسوخ کو کم کرنے سے مشرق وسطیٰ میں امن لو ٹ آئے گا تاہم یہ اندازے غلط بنیادوں پر لگائے جارہے ہیں،جس کی وجہ سے یہ پہلے ہی مرحلے میں غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایران اس تباہی کا ذمے دار نہیں اور نہ ہی ایران کوگھیرے میں لیناخطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے رویے کی وجہ سے امریکا کو سخت چیلنج کا سامنا ہے ،اور نہ ہی اس حقیقت کو رد کیا جا سکتا ہے کہ عرب دنیا میں قائم سیاسی نظام کی تباہی سے ایران کو فائدہ ہو گا (کیونکہ یہ نظام ایران کو آگے بڑھنے سے روکے ہوئے تھا) لیکن اس سب کے باوجود ایران کی خارجہ پالیسی مغربی تجزیہ نگاروں کے برعکس حقیقت پسندی پر مبنی ہے۔ اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکا سے مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنے انقلاب کو دنیا بھر میں پھیلانے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں استحکام صرف اسی صورت میں آسکتا ہے جب امریکا یہاں کے تنازعات کے حل اورخطے میں توازن قائم کرنے کے لیے زیادہ فعال اور مثبت کردار ادا کرے۔ اس کام کے لیے ایک ’متوازن اپرووچ‘ کی ضرورت ہے، جس کے تحت ایران کے ساتھ جھگڑنے کے بجائے کام کرنے کی کوشش کی جائے۔
اکثر مغربی سیاستدان اور تجزیہ کار ایرانی مفادات اور اس کے ارادوں کو انقلاب کی حد تک محدود کر دیتے ہیں۔ اس وقت ایران نظریے کے بجائے ملک کے طور پر اپنی حیثیت منوانے میں زیادہ دلچسپی رکھتاہے۔ دراصل تہران میں جس طرح قدامت پسند اور انقلابی موجود ہیں بالکل اسی طرح بہت سے اعتدال پسند اور حقیقت پسند سیاستدان بھی موجود ہیں، جو مغرب سے معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ داخلی سیاست میں تو ان دو دھڑوں کے درمیان مخصوص رقابت پائی جاتی ہےلیکن جب بات خارجہ پالیسی کی ہو تو قوم پرستی اور قومی سلامتی کے معاملات پر ان کے درمیان اتفاق رائے بڑھتا ہوا نظرآتا ہے۔ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والے معاہدے پردستخط اسی اتفاق رائے کا نتیجہ تھا۔
ایران کے موجودہ نقطہ نظرکے پیچھے صرف 1979ء کاانقلاب ہی نہیں بلکہ ’پہلوی خاندان‘کابھی کردارہے، جس نے انقلاب سے قبل تقریبا ً 50سال حکومت کی۔ محمدرضا پہلوی نے ان خواہشات کا اظہار کیا تھا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں غالب طاقت ہو،اس کی فوجی برتری بھی ہواور خلیج فارس پرمکمل کنٹرول اسی کا ہو۔ کچھ عرصہ تواسلامی ریاست نے ان خیالات کوقومیت کارنگ دینے کے بجائے اسے نظریاتی رنگ دے کرآگے بڑھایالیکن پچھے 15 برس میں قومیت تیزی سے پروان چڑھی ہے۔ اب ایران کے رہنمامذہب کے ساتھ اپنے لگاؤ اور اپنے مذہبی نظریا ت کوقومیت کے ساتھ ملاجلا کرپیش کرتے ہیں۔ روس اورچین کی طرح ایران کے ساتھ بھی تابناک ماضی کی یادیں جڑیں ہیں اور وہ اپنی اس مرکزی حیثیت کوکبھی نہیں بھولتے جوانہیں اس سامراجی دورمیں حاصل تھی اوروہ اسی حیثیت کو حاصل کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے چین اورروس کی طرح ایران کوبھی خطے میں امریکی سربراہی میں کسی قسم کا نظام اپنے ارادوں کے درمیان ایک دیوارکی طرح محسوس ہوتاہے۔
لیکن اس طرح کی قوم پرستی سے جڑی خواہشات نے قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ اسرائیلی اورامریکی فوج ایران کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔ افغانستان اور عراق پر امریکی قبضے اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی ایرانی سرحد پر موجودگی نے تہران کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ ’ایرانی فوج کے لیے امریکی فوج کی پیش قدمی کو میدان جنگ میں روکنے کاسوچنابھی بے وقوفی کی علامت ثابت ہوگا‘لیکن عراق پرامریکی قبضے نے ایک اور بات بھی ثابت کی کہ ’ابتدائی قبضے کے بعد شیعہ اور سنی ملیشیاؤں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ امریکا کووہاں سے نکلنے پرمجبورکردیں۔‘ عراق جنگ کے دوران ایران نے امریکی فوجیوں کومارنے کے لیے نجی ملیشیاؤں کو نہ صرف ہتھیارفراہم کیے بلکہ ان کی تربیت بھی کی اور ایران کے اسی قسم کے اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی نفرت انگیزی کی بڑی وجہ ہیں۔
ایران اس بات پر بھی پریشان ہے کہ اس کے روایتی حریفوں نے اسے اسلحہ کی دوڑمیں پیچھے چھوڑدیا ہے۔ عالمی تحقیقی ادارہ برائے امن،اسٹاک ہوم کے 2016ء کے اعدادشمارکے مطابق ایران نے اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا 3فیصد اپنے دفاع پرخرچ کیا اور یہ خطے کے باقی ممالک کے تناسب کے لحاظ سے کم ہے۔ سعودی عرب نے اپنی مجموعی ملکی پیداوارکا 10فیصد،اسرائیل 6فیصد، عراق 5فیصداور اردن 4فیصد خرچ کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران مجموعی ملکی پیداوارکے لحاظ سے دفاعی اخراجات میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ اس کمی کے ازالے کے لیے ایران نے ’آگے بڑھ کردفاع‘ کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت وہ مشرق وسطیٰ میں مزاحمتی گروہوں اورنجی ملیشیاؤں کی معاونت کرتا ہے، جن میں حزب اللہ اور حماس شامل ہیںاور یہ دونوں گروہ ہی اسرائیل کو نکیل ڈالے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایران نے اپنے دفاع اور اپنی ’پراکسیز‘ کے دفاع کومضبوط کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کومنجمد کرچکا ہے،اب حکمت عملی یہ بنائی گئی ہے کہ میزائل پروگرام کو اتنی ترقی دی جائے گی کہ کوئی طاقتورملک بھی اس پریااس کے اتحادی پرکوئی حملہ نہ کرسکے اورحملے کی صورت میں اسے زبردست مزاحمت کاسامناکرناپڑے۔
اگر ایران کا موجودہ رویہ پہلے سے زیادہ جارحیت پرمبنی یاخطرناک محسوس ہوتاہے،تواس کی وجہ ہرگزیہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حریفوں سے ٹکراؤچاہتاہے یا خطے کوعدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے،بلکہ اس کا اس جارحانہ رویے کی وجہ پچھلے 15 برس میں مشروق وسطیٰ میں آنے والی زبردست تبدیلی ہے۔وہ دن گئے جب واشنگٹن خطے کے معاملات کو کنٹرول کرنے اور ایران کے کردار کو محدود کرنے کے لیے عرب حکومتوں کا سہارا لیا کرتا تھا۔ 2003ء کے عراق میں ہونے والے امریکی حملے کے بعد ہونے والے واقعات اس رُخ پر چلے گئے کہ وہ عرب دنیا میں سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں وہاں کے حکمرانوں کو گھر جانا پڑا، حکومتی ادارے تباہ ہو گئے ،اورکچھ جگہوں پر فرقہ وارانہ اور لسانی فسادات خانہ جنگی کی صورت اختیار کرگئے۔
اس عدم استحکام نے نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ عرب ممالک کے عوام میں ایران کی شامی حکومت کی مدد کے خلاف شدید اشتعال پایاجاتاہے۔ 2012ء میں شائع ہونے والے Zogbyکےسروے کے مطابق جیسے ہی ایران نے شامی جنگ میں مداخلت کی تو عرب دنیا میں ایرانی حمایت 75فیصد(2006ء میں) سے کم ہوکر 25فیصد رہ گئی۔ خطے میں پیدا ہونے والے نئے حالات نے ایران اور امریکا اور اس کے اتحادی عربوں کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ یہاں بھی ایران کے رہنماؤں کو معلوم ہے کہ ان کو ان حالات کا فائدہ ہی ہو گا۔داعش کے خلاف لڑی جانے والی جنگ نے ایران کی لڑنے کی صلاحیت کو مزید نکھارا ہے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران سعودی عرب سے بڑھتی کشیدگی، ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سخت بیانات اور مسلمان ممالک پر سفری پابندیاں ،جن میں ایران بھی شامل ہے،ایرانی قوم میں قوم پرستی کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئیں اور امریکا کے ساتھ بگڑتے تعلقات کی ایک وجہ سعودی عرب اور امریکاکے مابین ازسر نو بہتر ہوتے تعلقات بھی ہیں۔ویسے تو ایٹمی معاہدہ ہونے کے بعد ہی سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی لیکن ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد اس میں اچانک اضافہ ہوا ہے تاہم ایرانی رہنما خود پر ہونے والی تنقید سے نہیں گھبراتے۔ ان میں سے بہت سے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک یا نظام کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔
اوباما انتظامیہ نے خطے کی خراب ہوتی صورتحال کاجواب خطے سے فاصلہ اختیارکرجانے کی صورت میں دیا تھا۔ مداخلت کی امریکی حکمت عملی کے برعکس اوبامانے شام کی خانہ جنگی میں کردار ادا کرنے سے انکار کردیا اور اس کے ساتھ ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات بھی جاری رکھے۔ اس معاہدے نے عرب دنیا کو نہ صرف ناراض کردیا بلکہ خطے میں کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گیالیکن اس سے وہ خطرات بھی کم ہو گئے جن کی وجہ سے امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور تھا۔ اس وجہ سے امریکا کو خطے میں عدم دلچسپی دکھانے میں مزید مدد ملی۔
ایٹمی معاہدے کی کامیابی نے امریکا ایران تعلقات میں گرم جوشی کے امکانات میں بھی اضافہ کیا جس پر عرب اتحادیوں کو یہ خدشہ لاحق ہونے لگا کہ واشنگٹن اب ان کے مفادات کی حفاظت نہیں کرے گا اور شاید ان کی طرف سے منہ بھی موڑ لےلیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ امریکا نے خطے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی زیادہ تبدیل نہیں کی۔ اوباما انتظامیہ نے عربوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے اسلحہ کی فروخت کے بڑے معاہدے کیے۔ تہران میں ایٹمی معاہدے کی حمایت کرنے والوں کو اس عمل سے شدید مایوسی ہوئی۔ایران نے تو ایٹم بم بنانے کی صلاحیتوں پر سمجھوتا اس لیے کیا تھا کہ خطے میں روایتی ہتھیاروں کے معاملے میں اس کے حریفوں کو حاصل سبقت کم کی جا سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایٹمی معاہدے پریکسر مختلف راستہ اختیارکیا اوراس معاہدے سے پیچھے ہٹناشروع کر دیا اور ساتھ ہی عربوں کے ساتھ اتحادکے پرانے نظام کی طرف پلٹنا شروع کر دیا۔جس میں سعودی عرب کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ شاید چلتا رہے لیکن ان بنیادوں پر نہیں جن پر دونوں ممالک نے دستخط کیے تھے۔ اسی کے ساتھ اب ایران کا پہلے کی طرح گھیراؤ کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔عراق اور شام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں اور وہاں وہ لوگ حکمرانی کر رہے ہیں جو عربوں کے بجائے ایران سے قریب ترہیں۔
مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی حکمت عملی اس بات کااشارہ دیتی ہے کہ امریکا دنیا کی حکمرانی سے دستبردار ہو رہا ہے۔ امریکا اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ وہ ایرانی پیش قدمی کو روک سکے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ایران اتنا تنہا نہیں ہے جتنا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ برس جون میں سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک کے اتحاد نے قطر کے ایران کے ساتھ تعلقات اور اخوان المسلمون کی حمایت کے جرم میں اس کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنے کی مہم چلائی لیکن قطر کو تنہا کرنے کی کو شش کا فائدہ یہ ہو ا کہ وہ ایران کے زیادہ قریب ہو گیا۔اس کے علاوہ تہران کو خلیج فارس کے جنوبی ساحل تک رسائی بھی مل گئی۔
سعودی عرب کے اس اقدام سے اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے۔ انقرہ کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اخوان المسلمون سے مضبوط تعلقات ہیں، اس کے ساتھ سنی دنیا کی سربراہی کا اس کا اپنا ایک ’وژن‘ہے اور خطے کے حوالے سے سعودی اور امریکی پالیسی ترکی کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان سب حالات کی وجہ سے ترکی، روس اور ایران کی طرف پلٹنے پر مجبور ہوا۔ترکی کے صدر رجب طیب اِردوان نے ایران اور روس کے ساتھ اختلافات کے باوجود ایسی راہیں نکالیں کہ ان ممالک کے ساتھ مل کر شام میں اہم کردار ادا کیا جاسکے اور اس مضبوط شراکت داری کا مظاہرہ گزشتہ برس نومبر میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب سوچی میں ابردوان، روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور ایرانی صدر روحانی، شام کی قسمت کا فیصلے کرتے ہوئے ایک ساتھ دکھائی دیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا ایک تناظر شام میں روسی مداخلت کا بھی ہے۔ 2015ء میں روس نے شام کی خانہ جنگی میں بشار کی حمایت میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی حکام نے اس امکان کو مسترد کر دیا کہ روس شام میں مداخلت کر کے خطے میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کرسکے گا لیکن روس شام کے معاملے میں ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آیا ،نہ صرف شام بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں اگر کوئی مذاکرات یا معاملات کی بہتری کے لیے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ روس ہی کی طرف دیکھتا ہے۔
روس یہ سب اہداف ایران کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ زمین پر ایران کی موجودگی نے روس کی فتح کو ممکن بنایا اور افغانستان، وسطی ایشیا، قفقاز میں ان دونوں ممالک نے مل کر امریکی اثرورسوخ کا مقابلہ کیا۔ دونوں ممالک اپنے آپ کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سامنے ڈٹ جانے والی بڑی طاقتوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ روس اپنے ’گریٹر‘ مفادات کی تکمیل کے لیے ایران کی اہمیت سے باخبر ہے۔ ایران جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم مقام پر واقع،توانائی کے ذخائر سے مالا مال 8کروڑ کی آبادی والا ملک ہے،جس کے اتحادیوں کا نیٹ ورک پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلاہوا ہے اور تقریباً سب اتحادی ہی امریکا کے دائرہ اثرورسوخ سے باہر ہیں۔ یہ سب خصوصیات پیوٹن کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، جو امریکا کو پیچھے دھکیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی وجوہات کو سمجھنے کے بعد اگر ٹرمپ انظامیہ کی موجودہ ایران پالیسی کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکمت عملی نہ صرف امریکا کو الجھا رہی ہیں بلکہ اسے مشکلات کی طرف بھی دھکیل رہی ہے۔ یہ سمجھ لینا کہ امریکا اور اس کے اتحادی بہت آسانی سے ایران کا گھیراؤ کر لیں گے اور یہ قدم خطے میں استحکام کا باعث بنے گا، تو ایسی سوچ بہت ہی خطرناک قسم کی غلطی ثابت ہو گی۔فی الحال عراق اور شام میں اتنی امریکی فوج موجود نہیں کہ وہ حالات کو کنٹرول کر سکیں۔ خطے میں ایران کو تنہا کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے امریکا کو ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں ایران کا بھی کردار ہو ۔ایران کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ خطے میں روسی حمایت یافتہ کسی منصوبہ بندی میں شامل ہونے کے بجائے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کام کرنا اس کے حق میں بہتر ہوگا۔اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے امریکا کو طاقت کے بجائے سفارت کاری پر انحصار کرنا ہو گا۔ واشنگٹن کو چاہیے کہ ایٹمی معاہدے کو جاری رکھے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے اس سے براہ راست تعلقات قائم کرے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور ایران دونوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کرے کہ وہ مل جل کر خطے کے مسائل حل کریں، جن میں سب سے اہم یمن اور شام کا مسئلہ ہے۔
سعودی عرب کے امریکا پر حالیہ اعتماد سے امریکا کو وہ کام لینے چاہییں جو اوباما انتظامیہ لینے میں ناکام رہی۔ امریکا کو عالمی سفارت کاری کا استعمال کرتے ہوئے ان تنازعات کا حل تلاش کرنا چاہیے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اگرچہ یہ کام مشکل ہے خا ص کر ایسے حالات میں جب امریکا نے ایٹمی معاہدے سے حاصل ہونے والے سفارتی فوائد کو بھی لات مار دی ہے لیکن اس کے متبادل جتنے بھی ’آپشنز‘ ہیں وہ تصادم بڑھائیں گے اور مشرق وسطیٰ کو مزید جنگوں میں دھکیل دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ