اُردو انجمن برلن کی سعید فردوسی کے اعزاز میں تقریب

76

اُردو انجمن برلن نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بھارت سے جرمنی آئے ہوئے معروف شاعر وافسانہ نگار سعیدفرودسی کے اعزاز میں انجمن کے صدر عارف نقوی کی رہائش گاہ پر ایک ادبی تقریب کا اہتمام کیا جس میں آل انڈیا ریڈیو دہلی کے ڈائریکٹر عبید نیازی، اردو انجمن برلن کے صدر و معروف افسانہ نگار وشاعر عارف نقوی، اردوانجمن کے نائب صدرانور ظہیر رہبر، پاکستان و جرمنی کی معروف شاعرہ وافسانہ نگار اور کئی کتابوں کی مصنفہ پاکبان انٹرنیشنل کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر عشرت معین سیما، اردو کی معروف ادبی تنظیم بزم ادب برلن کے جنرل سیکرٹری سرور غزالی، آئن اسٹائن فاؤنڈیشن کے بانی سنیل سین گپتا، پاکبان انٹرنیشنل برلن کے چیف ایگزیکٹو ظہور احمد، ڈریسڈن یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر احمد عمر، پاکستان و انڈیا کمیونٹی کے ممبران محمد معین ، شمیلا فردوس اور دیگر شریک ہوئے۔ تقریب میں سید احمد فردوسی کو جرمنی آمد پر گلدستہ پیش کیاگیا۔ بعد ازاں انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اردو انجمن برلن اور اردو ادب برلن کا شکریہ ادا کیا اور جرمنی میں اردو کے فروغ کی کوششوں کو سراہا۔
سید احمد فردوسی نے بھارت کے ادبی حلقوں کی جانب سے اردو انجمن برلن کی خدمات پر تہنیتی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے بعد یورپ میں جرمنی اردوکے فروغ کے لیے جس طرح کوشاں ہے وہ قابل تعریف ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں بھارت میں ہوں یا آپ سب میرے لیے اجنبی ہیں۔ اُردو نے ہمیں ایک لڑی کی طرح جوڑ رکھا ہے۔ اس موقع پر آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر عبید نیازی نے کہا کہ اردوانجمن برلن کی اردو کے فروغ کے لیے خدمات قابل تحسین ہے ۔ دیار غیر میں رہتے ہوئے اردو کے فروغ میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ان کی یہی کوشش اردو کے محبان کو آپس میں ملانے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برلن میں طویل عرصے سے اردو کی خدمت کرنے والی یہ عظیم ہستیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
اردو انجمن برلن کے صدر معروف افسانہ نگار و شاعر عارف نقوی نے کہا کہ ہم اردوکے فروغ میں اپنا ادنیٰ سا کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ اردو کو زندہ رکھا جاسکے۔ ہماری کوشش ہے کہ بھارت و پاکستان سے آنے والے شاعروں کی عزت افزائی کی جائے تاکہ اردو کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ اردوانجمن برلن ہمیشہ بڑی تقریبات کا اہتمام کرتی ہے۔ اس طرح کی تقريبات میں شاعر وافسانہ نگار اپنے نئے لکھے گئے اشعار و افسانے پیش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات ہمیشہ حوصلہ افزا ہوتی ہیں۔
تقریب میں اردو انجمن برلن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر، عشرت معین سیما، عارف نقوی نے اشعار پیش کیے اور شرکا سے داد وصول کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی سید احمد المعروف سید فردوسی نے بھی اپنے اشعار پیش کیے۔ تقریب کے اختتام پر اردو انجمن برلن عارف نقوی، انور ظہیر رہبر، بزم ادب کے سرورغزالی، عشرت معین سیما نے مہمان خصوصی کو اپنی کتابیں بطور تحفہ پیش کیں۔
غیر ملکی ہنرمندوں کے لیے جرمن حکومت کا بڑا فیصلہ
جرمنی سالانہ 6لاکھ مزدوروں کی کمی کا شکار ہے جسے دور کرنے کے لیے جرمنی کی اتحادی حکومت کے درمیان گزشتہ دنوں طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا۔ اتحادی حکومت میں امیگریشن اصلاحات پر معاہدہ طے پانے پر یورپ سمیت جنوبی ایشیائی ممالک کے ہنرمندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ معاہدے میں بیرونی یورپ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہنرمندوں کو 6 ماہ کا ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ جرمنی پہنچ کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کی بنیاد پر کام تلاش کر سکیں۔ امیگریشن اصلاحات کے بعد دنیا بھر کے پیشہ ور صلاحیتوں کے حامل افراد اب جرمنی کا رخ کریں گے جس کے نتیجے میں جرمنی کی معیشت میں غیر معمولی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
جرمنی کی اتحادی حکومت امیگریشن اصلاحات کے معاملے پر ایک اہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کی نہج پر پہنچ چکی ہے جبکہ گزشتہ چند ماہ سے ایس پی ڈی کے رکن اور جرمن وزیر داخلہ کے سخت رویے کے باعث چانسلر انجیلا مرکل کو مختلف معاملات میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے بعد طویل مذاکرات کے نتیجے میں موجودہ امیگریشن اصلاحات سے امید وابستہ کی جا رہی ہے کہ دنیا بھر سے ہنرمند کارکن اب جرمنی آنے میں دلچسپی لیں گے جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ موجودہ اصلاحات کے تناظر میں سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے رہنما اینڈرہ نالسز، چانسلر انجیلا مرکل کی ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی یو) کے رہنماؤں کے ساتھ6 گھنٹے طویل میٹنگ کے بعد معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں کاروباری منڈی میں موجود کارکنوں کی کمی پوری کی جائے گی۔ ملازمت کا یہ ویزہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دہندگان کو اپنی تعلیمی اسناد کے ساتھ جرمن زبان پر مناسب دسترس کا لازمی سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہو گا. جرمن حکومت کی طرف سے مستقبل میں سیاسی پناہ اور ملازمت کی تلاش میں جرمنی آنے والے مہاجرین کے کوٹے کو الگ الگ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے.
دوسری جانب اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک میں بسنے والوں کے لیے خوشخبری ہے کہ جرمن حکومت نے اپنی امیگریشن پالیسیوں میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اٹلی سمیت دیگر ممالک اور یورپ سے باہر لوگوں کو بھی جرمنی میں اپنی دستاویزات تبدیل کرانے میں آ سانی ہوگی۔ مقامی حکام کے مطابق اٹلی ودیگر یورپی ممالک میں موجود ہنرمند افراد کے پاس جرمنی جیسی یورپی معاشی ترقی کے حامل ملک میں منتقل ہونے کا بہترین موقع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ