نئے پاکستان میں بھی شہریوں کو لاپتا کیا جارہا ہے،سراج الحق 

155
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ نیب کی کارروائیوں میں انصاف نظر آنا چاہیے ،نیب حکومت اور عدالت عظمیٰ پاناما لیکس میں آنے والے 436افراد کے خلاف عدالتی وقانونی کارروائی اور ان کے احتساب کو یقینی بنائیں۔بینکوں کے قرضے ہڑپ کرنے والوں اور نیب کے اندر موجود 150میگا اسکینڈل کے حوالوں سے بھی کارروائیاں نظر آنی چاہییں ،احتساب کی کارروائیوں میں انتقامی جھلک نہیں ہونی چاہیے ، گیس کی قیمتوں میں 143فیصد تک اضافہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا،گیس کی قیمتوں میں اضافہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کررہی ہے ، عوام یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ نئی حکومت آئی ہے اور مہنگائی ساتھ لائی ہے۔ نئے پاکستان میں بھی شہریوں کو لاپتا کیا جارہا ہے ، کراچی میں سیاسی و فلاحی خدمات انجام دینے والے رہنما اعجاز اللہ خان کو لاپتا کردیا گیا ہے ، لوگوں کو لاپتا اور گمشدہ کرنا انسانی حقوق اور قانون کی خلاف ورزی ہے ، وزیر اعظم عمران خان لاپتا افراد کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کریں ،سود کا خاتمہ اللہ کا حکم اور شریعت محمدیؐ کا تقاضا ہے ، عوام کی خواہش ہے کہ عمران خان ملک کو مدینے جیسی اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے کا اپنا وعدہ پورا کریں ۔مدینے جیسی اسلامی ریاست سے سود، شراب، فحاشی اور تمام حرام امور کا خاتمہ ضروری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری لیاقت بلوچ ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اظہر احسن اقبال ، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن ، نائب امرا ڈاکٹر اسامہ رضی ، مسلم پرویز ، ڈپٹی سیکرٹری راشد قریشی ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر سرفراز احمد بھی موجود تھے ۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ حکومت سے عوام کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں لیکن حکومت کے وزرا اور ذمے داران اب تک اپوزیشن والی گفتگواور برتاؤ کررہے ہیں۔تندو تیز اور تلخ بیانات سے تلخی تناؤ اورفاصلے بڑھ رہے ہیں۔اب تک کا بیانیہ تمام گزشتہ ادوار کی طرح ہے ، خزانہ خالی ہے ،عوام کو کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا جبکہ عوام پی ٹی آئی سے مختلف رویے کی توقع رکھتے ہیں ، بیانات کے بجائے اقدامات کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ توہین رسالت اور ناموس رسالت ؐ سے متعلق قوانین میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ یا تبدیلی کی کوششیں قطعاً قابل قبول نہیں ہے ۔حکومت اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر اقدامات کرے اس حوالے سے عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرور ت ہے تاکہ دنیامیں یہ واقعات بند ہوں۔ جماعت اسلامی اسلام آباد میں جیورسٹ کانفرنس منعقد کرچکی ہے اور جنوری 2019ء میں لندن میں اور پھر جنیوا میں جیورسٹ کانفرنس منعقد کرے گی تاکہ انبیاکرام ؑ اور دیگر مقدس شخصیات کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدہ ہوسکے تاکہ کوئی توہین کا ارتکاب نہ کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں ادارے بد ترین کرپشن کا شکار ہیں اور عوام پر خرچ ہونے کے بجائے بجٹ کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہورہا ہے۔سندھ کے عوام کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے غربت ،مہنگائی ، بے روزگاری اور جہالت سے نجات نہیں دلائی ۔عوام تعلیم ،صحت اور بنیادی ضروریات تک سے محروم ہیں ۔ تھرپارکر میں صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں امن و امان ، پانی اور بجلی کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے لیکن سندھ حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آرہے ۔کے الیکٹرک نے عوام پر ظلم ڈھانے کا سلسلہ بند نہیں کیا ہے ، بدترین لوڈ شیڈنگ اور ناقص ترسیلی نظام کے باعث بریک ڈاؤن نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے ، حکومت اس صورتحال کا نوٹس لے ۔ کراچی کے عوام کو وزیر اعظم عمران خان سے بڑی توقعات تھیں لیکن انہوں نے اپنے دور ہ کراچی میں کسی بڑے پیکج اور منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ سودی معیشت کے خاتمے کے لیے ہماری جانب سے سینیٹ میں ایک بل موجود ہے جس کے مطابق پہلے پرائیویٹ سودی نظام کا خاتمہ ہو پھر سرکاری سرپرستی میں سودی نظام کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔سودی نظام معیشت کے مقابلے میں متبادل نظام موجود ہے ،اسلام کا نظام معیشت سود سے پاک نظام ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ