آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا،عمران خان

1929
لاہور: وزیراعظم عمران خان پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
لاہور: وزیراعظم عمران خان پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا، حالات بہتر ہونے پر ہمیں قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن فی الوقت اس پیریڈ سے گزرنا پڑے گا،اب بھی آپشنز دیکھ رہے ہیں۔لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ بطور وزیراعظم پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارہ خسارے میں ہے ‘سابق حکمران عوام کو کنگال کرگئے ‘ جب خسارہ تاریخی ہو توسبسڈی کیسے دے دیں، قیمتیں ہی بڑھیں گی۔ عمران خان نے کہا کہ خسارہ کم اور مہنگائی سے بچنے کا
واحد طریقہ یہ ہے کہ ملک سے لوٹا پیسہ واپس لایا جائے اور حکومت کی پہلی ترجیح یہی ہے۔وزیراعظم نے کہا 22 سال سے کہہ رہا ہوں ملک میں کرپشن ہو رہی ہے، سابق حکومت نے یہ پتا کیوں نہیں کرایا کہ 9 ارب ڈالر بیرون ملک کیوں گیا؟ اگر یہی پیسہ بچ جاتا تو ہو سکتا ہے قرض نہ لینا پڑتا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ کرپشن ہے جو کینسر کی طرح ملک کو کھا رہا ہے، پاکستان کے پیچھے جانے کی وجہ بھی کرپشن ہے۔وزیراعظم نے پھر اعلان کیا کہ جو کرپشن کی نشاندہی کرے گا اسے ریکوری کا 20فیصد دلوائیں گے، میڈیا بھی دو تین ارب ریکوری کے ذریعے کما سکتا ہے، کرپشن پر پوری طرح ہاتھ ڈالیں گے اور پیسہ ریکور کریں گے۔ اگلے ہفتے تک کرپشن کے پیسے کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے قانون پاس کرلیں گے۔عمران خان نے کہا کہ قوم بے فکر رہے جووعدے کرکے اقتدار میں آیا انہیں پوراکروں گا۔قبل ازیں وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ اسد عمرکی سربراہی میں وزارت خزانہ کی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان کوبریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے گا ہ کر دیا تھا۔ذ را ئع کے مطا بق آئی ایم ایف کو باقاعدہ درخواست دسمبر میں دی جائے گی۔ ذرائع نے بتا یا کہ حکومت کو اس سال اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر درکار ہیں تاہم حکومت اس پروگرام کو بیل آٹ پیکیج کا نام نہیں دینا چاہتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ