شریفوں کی گرفتاری سے ن لیگ پنجاب سے ختم نہیں ہوگی،فضل الرحمٰن

66

بہاول پور (آن لائن) متحدہ مجلس عمل کے صدر و جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ شریفوں کی گرفتاری سے ن لیگ پنجاب سے ختم نہیں ہوگی، شہباز شریف کی گرفتاری پر چین سے نہیں بیٹھیں گے، معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے، اپوزیشن متحد اور ایک پیج پر ہے، اسٹیئرنگ پر بندر بیٹھا ہوا ہے گاڑی کوئی اور چلا رہاہے، حکومت نے 10دنوں میں معیشت ڈبو دی۔ علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ شہباز شریف کو بلایا کسی اور عنوان سے اور گرفتار کسی اور عنوان سے کیا گیا۔ جو جماعتیں عوام میں ہوتی ہیں ان کی جڑیں آسانی سے نہیں کاٹی جا سکتیں۔ قومی اسمبلی کی
ریکوزیشن ہو چکی ہے تمام حزب اختلاف متحد ہے اس مسئلے پر بھرپور انداز میں احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں بھی تاثر تھا کہ مسلم لیگ ن ختم ہوچکی ہے ، ضیا الحق کے دور حکومت میں ذولفقار بھٹو کو پھانسی تک دے دی گئی اور کہا گیا کہ پیپلز پارٹی ختم ہو چکی لیکن جب پیپلز پارٹی بحال ہوئی تو ان کی حکومت بنی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اقوام متحدہ ،ورلڈ بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی ادارے پسماندہ ممالک کو اس طرح جکڑ لیتے ہیں کہ اس ملک کا قانون غیر موثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہم غلام ہیں ہماری معیشت جکڑی ہوئی ہے ہم لاکھ تبدیلی کے نعرے لگائیں ہونا کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سالوں میں معیشت ڈبوئی جاتی ہے موجودہ حکومت نے 10دنوں میں ملکی معیشت ڈبو دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سالوں میں جتنی بھی دستور ساز اسمبلیاں آئیں ان میں کوئی بھی اسمبلی جمہور کی نہیں تھی۔ ہمیں اسمبلی سے باہر کرنے والے شاید جانتے نہیں ہے کہ ہم اسمبلی کے باہر زیادہ خطرناک ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت میں جتنی تیزی سے قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوا پہلے کبھی نہیں ہوا ، ملکی تاریخ میں پہلی بار اسلام آباد پریس کلب کے سامنے لبرل طبقے نے قادیانیوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی بقا کی جنگ لڑنی ہے ہمیں سیاسی طور پر طاقتور ہونے کی ضرورت ہے ملک بھر میں 3سے 4لاکھ علما موجود ہیں۔ علما کے متحد ہونے کے لیے جمعیت علما اسلام واحد اور سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ ہم نے �آئندہ 5برسوں کے لیے رکن سازی کا آغاز کردیا ہے اگر عزم کریں اور ہمت کریں تو اگلے 5برسوں میں دوسری تمام جماعتوں کے مقابلے میں سب سے بڑی قوت ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ