شہباز شریف کی گرفتاری ،اپوزیشن کا قومی اسمبلی اجلاس بلانے کا مطالبہ 

151
لاہور: شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سخت سیکورٹی میں واپس لے جایا جارہا ہے ۔ چھوٹی تصویر میں اپوزیشن لیڈر کو روسٹر روم میں بٹھایا گیا ہے
لاہور: شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سخت سیکورٹی میں واپس لے جایا جارہا ہے ۔ چھوٹی تصویر میں اپوزیشن لیڈر کو روسٹر روم میں بٹھایا گیا ہے

لاہور ،اسلام آباد(نمائندہ جسارت،اے پی پی)احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ ا سکینڈل میں گرفتار سابق وزیر اعلیٰ ، مسلم لیگ (ن) کے صدر اورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف کو 10روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ۔ شہباز شریف کو 16اکتوبر کو دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار محمد شہباز شریف کو انتہائی سخت سکیورٹی حصار میں نیب دفتر سے جوڈیشل کمپلیکس میں واقع نیب عدالت میں پیش کیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) سے وابستگی رکھنے والے وکلاء ، رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے عدالتی کارروائی کے باضابطہ آغاز سے قبل کمرہ عدالت کا جائزہ لیا اور بعد ازاں اپنے چیمبر میں واپس چلے گئے او ر وہیں پر سماعت کا فیصلہ کیا ، چیمبر میں شہباز شریف ، نیب پراسیکیوٹر ،شہباز شریف کے وکلاء اور عدالتی عملے کے سوا کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس دوران شہباز شریف کے وکلاء کی جانب سے چیمبر کی بجائے کمرہ عدالت میں سماعت پر اصرار کرتے ہوئے دلائل دینے سے انکار کر دیا گیا جس پر احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے عملے کو غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنے کے احکامات جاری کییاور بعد ازاں کمرہ عدالت میں جا کر سماعت کی ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دونوں صاحبزادے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز شریف پارٹی کے مرکزی رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے۔نیب کی جانب سے پراسیکیوٹروارث علی جنجوعہ نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں مبینہ کرپشن کی جس سے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچا۔مزید تفتیش کی ضرورت ہے اس لیے پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔ شہباز شریف کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ، اعظم نذیر تارڑ اور فرہاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی پینل پیش ہوا اور جسمانی ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ کیس بے بنیاد اور جھوٹ پرمبنی ہے ۔ وکلاء کی جانب سے دلائل کے دوران شہباز شریف نے احتساب عدالت کے جج کے سامنے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ، تمام الزامات بے بنیاد ہیں ،مجھے سیاسی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ ملک وقوم کی ترقی کے لیے کام کیا اور لوٹنے والوں سے کروڑوں روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔میں نے نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کی حالت بدلنے کی کوشش کی ،خود کمیٹی بنا کر کرپشن کو رنگے ہاتھوں پکڑا لیکن اینٹی کرپشن والوں نے چھوڑ دیا ۔90کروڑ روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ۔ میں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی ، ترقیاتی کاموں میں قوم کی پائی پائی کو بچایا ، میں قوم کا خادم ہوں ۔ اس دوران احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے شہباز شریف کو کہا کہ آپ اپنے وکلاء کو دلائل دینے دیں جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ۔احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے کچھ دیر بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریف کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 16اکتوبر کو رپورٹ کے ہمراہ دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔قبل ازیں شہباز شریف کو ہفتے کی صبح 9 بجے بکتر بند گاڑی میں سوار کر کے سرکاری گاڑیوں کے ایک قافلے میں سخت سکیورٹی کے حصار میں احتساب عدالت لایا گیا، قافلے نے ٹھوکر نیاز بیگ سے احتساب عدالت تک تقریباً 25 سے 30 کلو میٹر کا فاصلہ 30 منٹ میں طے کیا۔ شہباز شریف کی بکتر بند گاڑی جیسے ہی احتساب عدالت میں پہنچی تو احتساب عدالت کے باہر پہلے سے موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی کثیر تعداد نے بکتر بند گاڑی کو اپنے حصار میں لے لیا، جہاں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حمایت میں شدید نعرے بازی کی، جس پر پولیس کو بکتر بند گاڑی کو کلیئر راستہ فراہم کرنے کے لیے لیگی کارکنوں کو گاڑی کی چھت سے اتارنا پڑا، اس دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان ہلکی پھلکی تلخ کلامی بھی ہوئی دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے ا سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے پر قومی اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر بلانے کی درخواست جمع کرائی۔ ہفتہ کو اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پرمشتمل وفد نے قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ ظفرالحق ، سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں اسپیکر قومی اسمبلی سے ان کے چیمبرمیں ملاقات کی اور قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے اپوزیشن کی جانب سے ریکوزیشن جمع کرائی گئی۔ اس موقع پر سابق ڈپٹی ا سپیکر مرتضی جاوید عباسیٰ، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر رانا تنویر حسین، جمعیت علماء اسلام (ف) کی خاتون رکن شاہد ہ اخترعلی، طاہرہ اورنگزیب بھی موجود تھیں ۔ وفد نے اسپیکرقومی اسمبلی سے استدعا کی کہ وہ فوری طور پر اجلاس طلب کریں جبکہ ا سپیکر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ قواعد کے مطابق 14روز کے اندر یہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے راجہ ظفرالحق ، سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری، سابق اسپیکر سردار ایاز صادق اور رانا تنویرحسین نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی اور افسوسناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے قائد حزب اختلاف کا استحقاق مجروح ہوا ہے، انہیں صاف پانی کمپنی کے معاملے پر طلب کیا گیا جبکہ ا ن کی گرفتاری آشیانہ ہاؤسنگ ا سکیم میں کی گئی ۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لییریکوزیشن جمع کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عا م انتخابات کی طرح ضمنی انتخاب سے قبل مسلم لیگ(ن) کے اعلیٰ عہدیداروں اورقیادت کی گرفتاری ضمنی انتخاب پراثر انداز ہونے کی کوشش ہے، حکومت کے پاس ایوان میں بمشکل سادہ اکثریت ہے جبکہ قومی اسمبلی کی 11نشستوں پر ضمنی انتخاب ہورہا ہے۔ خواجہ سعد رفیق 14اکتوبرکو ہونے والے ضمنی انتخاب میں امیدوار ہیں اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب ضرور ہونا چاہئے تاہم نیب میں بھی جعلی ڈگریوں اور غیرقانونی تعیناتیوں پر بھی احتساب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اپوزیشن جماعتوں کو ضمنی انتخاب میں ہرانے کے لیے حکومت کا اتحادی بن چکا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے قومی ادارے خودمختار ہوں تاہم وہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتاریاں کررہے ہیں اس پر فوری اجلاس بلایا جاناچاہیے۔حکومت جوکچھ کررہی ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ رانا تنویرحسین نے کہا کہ شہباز شریف کو بلا وجہ گرفتارکیا گیا ہم ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کاحق رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن کی تائید کر دی ،اس معاملے پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اعتمادمیں لیا، تینوں جماعتوں کے قائدین میں رابطہ ہوا ہے ،اپوزیشن کو نشانہ بنانے پر پارلیمنٹ میں حکومت کو سخت دباؤمیں لانے کی حکمت عملی پر اتفاق ہوگیا ۔پاکستان پیپلزپارٹی نے ا سپیکر قومی اسمبلی سے بغیر کسی تاخیر کے اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماسید خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری اہم معاملہ ہے وہ پارلیمنٹ کا اہم ترین حصہ ہیں ،گرفتاری سے پارلیمان کا استحقاق مجروح ہوا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن کی تائید کر دی ہے۔اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری سے پیداشدہ صورت حال پر بحث ہونی چاہیے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ