سعودی صحافی جمال خشوگی کو سعودی قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا،ترک حکام

181

ترکی حکام نے دعوی کیا ہے کہ معروف صحافی جمال خشوگی کو استنبول میں قائم سعودی قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا جبکہ سعودی قونصلیٹ نے جمال خشوگی کے قونصلیٹ میں قتل ہونے کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا۔

ترک میڈیا کے مطابق حکام اس کیس کو بغور دیکھ رہے ہیں اور توقع ہے کہ تفتیش کو بڑھایا جائے گا۔ پولیس کا ابتدائی شک سعودی سفارت خانے میں عملے پر ہے جہاں ان کے مطابق جمال خشوگی کو قتل کر دیا گیا ہے اور یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا اور قتل کے بعد ان کی لاش کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔

ترکی میں مقیم جمال خشوگی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرتے ہین اور وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بڑے ناقد رہے ہیں۔ جمال خشگوی 5 روز قبل استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے گئے تھے لیکن تاحال واپس نہیں لوٹے۔

سعودی صحافی کے ہمراہ سفارت خانے جانے والی منگیتر کو دروازے پر ہی روک کر انتظار کرنے کا کہا گیا تھا اور جمال خشگوی کا موبائل بھی باہر رکھ لیا گیا تھا۔ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جمال خشگوی باہر نہ آئے تو اُن کی منگیتر نے سفارت خانے کے عملے سے تشویش کا اظہار کیا لیکن کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا جس کے بعد خاتون نے استنبول پولیس سے رجوع کیا۔

واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے لاپتہ سعودی صحافی سے اظہار یکجہتی کے لیے دو روز قبل اخبار میں اُن کا خالی کالم بھی چھاپا تھا تاکہ دنیا کو واقعہ کی سنگینی اور حساسیت کا اندازہ ہو سکے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو ترک حکام کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق ان کو شبہ ہے کہ جمال خشوگی کو سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔البتہ انھوں نے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی ثبوت ساتھ میں پیش نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ جمال خشوگی کو کیسے قتل کیا گیا۔

دوسری جانب استنبول میں سعودی قونصلیٹ نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت سے عاری اس خبر کی پرزور تردید کرتے ہیں۔ یہ بیان باخبر ترکی حکام کی طرف سے نہیں ہوسکتا جو جمال خشوگی کی گمشدگی پر تفتیش کر رہے ہیں یا جنہیں اس موضوع پر بولنے کا اختیار ہے۔

قونصلیٹ نے واضح کیا کہ ترکی حکام کی اجازت حاصل کرنے کے بعد سعودی عرب سے اعلی سطح کی تفتیشی ٹیم استنبول پہنچی ہے جو ترکی حکام کے ساتھ خشوگی کی گمشدگی کی تفتیش کریگی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ