بھارت کا روس سے خطرناک ترین دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ

158
نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی وزیر اعظم ولادی میر پیوٹن اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک ہیں‘ چھوٹی تصاویر معاہدے پر دستخط اور مشترکہ پریس کانفرنس کی ہیں
نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی وزیر اعظم ولادی میر پیوٹن اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک ہیں‘ چھوٹی تصاویر معاہدے پر دستخط اور مشترکہ پریس کانفرنس کی ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت نے امریکی دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ 5 ارب ڈالر مالیت کے ایس 400 طرز کے ائرڈیفنس میزائل (طیارہ شکن نظام) خریدنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ قبل ازیں امریکا نے بھارت کو روس کے ساتھ یہ ڈیل کرنے سے باز رہنے کا کہا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے معاہدے پر گزشتہ روز دارالحکومت نئی دہلی میں دستخط کیے ۔ دونوں رہنماؤں نے معاشیات، جوہری توانائی اور خلائی تحقیق میں تعاون کے حوالے سے بات چیت بھی کی۔ روس اور بھارت کے درمیان ہونے والے دیگر معاہدوں میں فرٹیلائزرز، ریلوے اور خلائی پروگراموں سمیت 20 سے زائد شعبے شامل ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ڈیل اس امریکی انتباہ کے باوجود کی گئی ہے جس کے مطابق واشنگٹن حکومت روس سے دفاع اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں معاہدے کرنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔ بھارت نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ اسے روس سے دفاعی معاہدوں کے تناظر میں امریکی پابندیوں سے استثنا دیا جائے۔ روس پر یہ امریکی پابندیاں کریمیا کے جبری الحاق اور 2016ء کے امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکا نے چین پر بھی اس وقت پابندیاں عائد کر دی تھیں، جب بیجنگ حکومت نے روس سے جنگی طیارے اور ایس 400 طرز کے دفاعی میزائل نظام خریدے تھے۔ روس اور امریکا کے تعلقات سرد جنگ کے زمانے کے بعد ہی سے تنزلی کا شکار رہے ہیں۔ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عالمی سطح کے سائبر حملوں کے الزامات کے بعد سے یہ تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے اس وقت بھارت کے ساتھ کوئی سفارتی محاذ کھولنا نقصان کا سودا ہو گا۔ امریکا کا شمار بھی بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے ۔ گزشتہ ایک عشرے کے دوران بھارت امریکا سے تقریباً 15 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے کر چکا ہے ۔ نئی دہلی کو امید ہے کہ امریکا دنیا میں اسلحہ کے بڑے خریداروں میں سے ایک کے طور پر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرے گا۔ واشنگٹن اور نئی دہلی نے گزشہ ماہ ہی 2019ء کے لیے مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے اور حساس نوعیت کی عسکری معلومات کے تبادلے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے بھارت کو رواں ہفتے ہی خبردار کیا تھا کہ وہ روس سے ایس 400 طرز کے فضائی دفاعی میزائل نظام خریدنے سے اجتناب کرے ۔
بھارت ؍ روس

Print Friendly, PDF & Email
حصہ