یمنی باغیوں نے پناہ گزیں کیمپ پر قیامت ڈھادی

76
صنعا: یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے شاہ سلمان ریلیف مرکز کے ’بنی جابر پناہ گزیں کیمپ‘ پر وحشیانہ گولہ باری کے بعد تباہی کے مناظر
صنعا: یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے شاہ سلمان ریلیف مرکز کے ’بنی جابر پناہ گزیں کیمپ‘ پر وحشیانہ گولہ باری کے بعد تباہی کے مناظر

صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں حوثی ملیشیا نے حدیدہ کے نواحی علاقے الخوخہ میں بنی جابر پناہ گزین کیمپ کے مکینوں پر وحشیانہ گولہ باری کردی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور درجنوں دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے میں ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے خدشات ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق الخوخہ کے مقام پر قائم بنی جابر کیمپ سعودی فرمانروا کی جانب سے ’شاہ سلمان ریلیف مرکز‘ کے زیراہتمام قائم کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز حوثی باغیوں نے وحشیانہ جنگی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے کیمپ کے مکینوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کا نقصان ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، یمنی حکومت اور شاہ سلمان ریلیف مرکز کی طرف سے اس مجرمانہ اور سنگ دلانہ کارروائی کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ شاہ سلمان ریلیف سینٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بنی جابرکیمپ میں نہتے شہریوں پر گولہ باری اور بے گناہ شہریوں کا قتل عام سنگین جرم اور وحشیانہ فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی کم ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب حوثی باغیوں نے نہتے شہریوں کو قیامت برپا کی ہے بلکہ اس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد جنگ سے متاثرہ شہریوں کی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ دوسری جانب یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں کی سیاسی کونسل کے ایک رکن حسین الاملح نے ایک وڈیو پیغام میں صنعا میں احتجاج کرنے والے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بندکریں ورنہ ان کی خواتین کو اٹھا کرغائب کردیا جائے گا۔ عرب ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فوٹیج میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور پیپلز کانگریس کے ارکان کی خواتین کو اغوا کی دھمکی دی گئی ہے۔ اُدھر شمالی صوبے صعدہ کے ضلع باقم میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور ان میں 25 حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوج نے باقم میں 4 مربع کلومیٹر میں واقع مزید علاقے آزاد کرا لیے ہیں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے حقوقِ اطفال کے ادارے یونیسف نے حوثی ملیشیا کے دباؤ کے بعد یمن کے انتہائی ضرورت مند تقریباً 90 لاکھ افراد میں نقد امدادی رقوم کی تقسیم معطل کردی ہے۔ یونیسف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ یمن میں کال سینٹر کے قیام میں ناکامی کے بعد کیا ہے۔اسی کال سینٹر کے ذریعے اس کو مالی امداد سے استفادہ کرنے والے ضرورت مندوں سے ردعمل موصول ہونا تھا۔ تاہم اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ اقوام متحدہ کے تحت ادارے نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب یمن کی مقامی کرنسی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے ، خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے پیش نظر انسانی بحران بد تر ہونے کا اندیشہ ہے۔
یمن ؍ حملہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ