جنوبی کوریا کے سابق صدر کو 15 سال قید کی سزا

86
سیؤل: جنوبی کوریا کے سابق صدر کی فائل فوٹو‘ لی میونگ کو کرپشن کے مقدمات میں قید کی سزا سنائی گئی
سیؤل: جنوبی کوریا کے سابق صدر کی فائل فوٹو‘ لی میونگ کو کرپشن کے مقدمات میں قید کی سزا سنائی گئی

سیؤل (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر لی میونگ باک کو بدعنوانی کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق حکومتی عہدیداروں کو سزائیں سنائے جانے کا یہ نیا واقعہ ہے۔ قبل ازیں موجودہ حکومت کی طرف سے سیکورٹی امور میں غفلت برتنے پر سابق حکام کو قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں۔ وسطی سیؤل میں قائم ایک عدالت نے سابق صدر لی کو رشوت لینے اور دھوکا دہی سمیت کئی دوسرے الزامات میں قید کی سزا سنائی۔ انہیں قید کے ساتھ 1 کروڑ 15 لاکھ ڈالر کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ سابق صدر کی عدالتی کارروائی براہ راست ٹی وی پر نشر کی گئی اور کہا گیا کہ ملزم کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ تاہم خرابی صحت کی بنا پر لی خود وہاں موجود نہیں تھے ۔ جنوبی کوریا کے سابق صدر پر رواں سال 16 اپریل کو رشوت، دھوک دہی اور عہدے کے ناجائز استعمال پر فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ جنوبی کوریا کی عدالت کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس تیار کرنے والی ایک کمپنی ’داس‘سابق صدر کی ملکیت ہے تاہم لی کا دعویٰ ہے کہ وہ کمپنی ان کے بھائی کی ہے ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے دھوکا دہی سے کمپنی کو 24 ارب وون کا فایدہ پہنچایا تھا۔ مقامی عدالت کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سابق صدر لی میونگ بک نے الیکٹرانکس کمپنی کے چیئرمین سے معافی کے عوض اربوں وون بطور رشوت وصول کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ دوسری جانب کمپنی کی انتظامیہ نے سابق صدر کو رقم کی فراہمی سے انکار کیا تھا۔ 2008ء سے 2013ء تک صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے لی میونگ نے اپنے خلاف دائر کرپشن کے مقدمات کو سیاسی قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل لی میونگ بک کی پیش رو سابق صدر پارک گْن کو بھی کرپشن کے الزام میں 33 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
جنوبی کوریا ؍ سزا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ