امن کا نوبل انعام عراقی خاتون اور کانگو کے ڈاکٹر کے نام

84
اسٹاک ہوم: نوبل انعام برائے امن حاصل کرنے والے کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مو کویجے اور عراقی خاتون نادیہ مراد
اسٹاک ہوم: نوبل انعام برائے امن حاصل کرنے والے کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مو کویجے اور عراقی خاتون نادیہ مراد

اسٹاک ہوم (انٹرنیشنل ڈیسک) رواں برس کا امن نوبل انعام مشترکہ طور پرعراق کی نادیہ مراد باسی اورکانگو کے ڈاکٹر ڈینس موکویجے کے نام کردیا گیا۔ نوبل امن انعام دینے والے کمیٹی کے مطابق رواں برس کا انعام عراق کی ایزدی کمیونٹی کے حقوق کی سرگرم کارکن نادیہ مراد باسی اور افریقی ملک کانگو میں جنسی استیصال کی شکار خواتین کا علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر ڈینس مُوکویجے کو مشترکہ طور پر دیا گیاہے۔ دونوں شخصیات امن انعام کے لیے پہلے سے قوی امیدوار تھیں۔ نادیہ مراد باسی 1993ء میں سنجار کے پہاڑوں میں واقع ایک گاؤں کوجو میں پیدا ہوئیں۔ 19برس کی عمر میں دہشت گرد تنظیم داعش نے ہزاروں ایزدی افراد کے ساتھ انہیں بھی مغوی بنا لیا تھا۔ نادیہ موصل شہر میں زیر حراست رکھی گئیں اور ایک دن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔ اقوام متحدہ نے 2016ء میں انہیں انسانی اسمگلنگ سے بچ جانے والے افراد اور ان کے وقار کے لیے خیرسگالی کا مشیر بھی مقرر کیا تھا۔ وہ 2016ء میں یورپی کونسل کے واسلاو پرائز کی حق دار بھی ٹھرائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ نادیہ کو یورپی پارلیمان کی جانب سے آزادی اظہار کے سخاروف پرائز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر ڈینس نے کانگو کی دوسری جنگ کے دوران زیادتی کی شکار ہزاروں خواتین کو علاج کی سہولیات فراہم کیں۔اس دوران وہ اپنے اسپتال میں کئی کئی گھنٹے تک علیل اور زخمی خواتین کے علاج معالجے کی نگرانی کرتے رہے۔
امن نوبل انعام

Print Friendly, PDF & Email
حصہ