یونانی کیمپوں کے بیت الخلا خواتین کے لیے غیر محفوظ

114
ایتھنز: یونانی مہاجر کیمپ کے پناہ گزیں یورپی سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں (فائل فوٹو)
ایتھنز: یونانی مہاجر کیمپ کے پناہ گزیں یورپی سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں (فائل فوٹو)

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ یونانی مہاجر کیمپوں میں مقیم خواتین رات کے وقت بیت الخلا جانے اور مشترکہ غسل خانے استعمال کرنے سے خوفزدہ رہتی ہیں۔ یونان پہنچنے والے زیادہ تر تارکین وطن کی تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق حفظان صحت کے ناقص انتظامات، پینے کا خراب پانی، فضلے اور گندے پانی کی نالیاں اور چوہوں کی بہتات سے بیماریوں کا ہونا ان کیمپوں میں عام ہے۔ کیمپ کے غسل خانوں کے سرد موسم میں گرم پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ دروازوں پر تالے نہیں ہیں، جس سے بے پردگی کا خطرہ رہتا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یونانی جزائر کے مہاجر کیمپوں میں رہنے والی بیشتر خواتین محرومی کے احساس سے دو چار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کیمپوں میں اسمگلرز اور بعض افراد ہتھیاروں کے ساتھ بھی دیکھے گئے ہیں۔
یونان/بیت الخلا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ