القدس میں اونروا کے امدادی آپریشن بند کرنے کا اسرائیلی فیصلہ

72
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی شہری ’واپسی مارچ‘ کے دوران اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی شہری ’واپسی مارچ‘ کے دوران اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت نے امریکا کے ساتھ مل کر مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی تنظیم اونروا کے امدادی پروگرام بند کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی اقدام کو فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق پر حملہ اور انہیں ختم کرنے کی سازش قرار دیا۔ اسرائیل ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ نے اونرواکے زیراہتمام چلنے والے تمام ادارے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان میں اسکول، اسپتال، بچوں کی بہبود کے مراکز اور کئی دیگردارے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے’ شعفاط ‘کی پناہ گزیں علامت ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ امریکا نے مکروہ اقدام پر صہیونی ریاست کی حوصلہ افزائی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امدادی پروگرام کے بند ہونے سے 1200 طلبہ براہ راست متاثر ہوں گے۔ ان میں شعفاط پناہ گزین کیمپ میں قائم اسکولوں کے 150 بچے، وادی جوز کے 100، صور باہر میں 2 اسکولوں کے 350 بچے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی امداد رواں سال بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں 32کروڑ 5 لاکھ ڈالر میں سے 6کروڑ 5 لاکھ امداد کم کی، جب کہ بعد میں تمام امداد بند کرتے ہوئے امدادی ایجنسی ہی کو ختم کرنے کافیصلہ کیا گیا۔
اونروا/اسرائیلی فیصلہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ