شہباز شریف دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

151

احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے آشیانہ ہاؤسنگ کرپشن کیس میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔ پراسیکیوٹر نیب اور شہباز شریف کے وکلا نے عدالت میں دلائل دیے۔ نیب نے شہباز شریف کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست کی تاہم احتساب عدالت نے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کو نیب کے حوالے کردیا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر کو نیب کے دفتر منتقل کردیا گیا ہے جہاں وہ 16 اکتوبر تک تحویل میں رہیں گے اور ان سے کیس میں مزید تفتیش کی جائے گی۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی آشیانہ ہاؤسنگ ا سکینڈل میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن احتساب عدالت پہنچ گئے اور اپنے قائد کی گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ کاکنوں نے نیب کے قافلے کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر روک لیا اور نیب کی بکتر بند گاڑی پر چڑھ گئےجس کے بعد ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ن لیگ کا ایک کارکن زخمی ہوگیا۔ مظاہرین کی جانب سے نیب اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی جب کہ پولیس کے تشدد کے باعث صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ اور سلمان بھی احتساب عدالت میں موجود رہے۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، احتساب عدالت کے گرد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی اور عدالت آنے والے راستے بند کردیئے گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ