حکومت ایس ایم ای شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے, احمد حسن مغل

116

اسلام آباد : اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ حکومت پاکستان کا بارواں پانچ سالہ منصوبہ تیار کرنے کے عمل میں مصروف ہے جو 2017-18تا 2022-23کیلئے ہو گا تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے پانچ سالہ منصوبے میں حکومت ایس ایم ای شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے اور اس مقصد کیلئے نئے پانچ سالہ منصوبے میں ایس ایم ای شعبے کیلئے پورا ایک الگ چیپٹر مختص کیا جائے تا کہ سازگار حالات پیدا ہونے سے یہ شعبہ بہتر ترقی کر سکے جس سے ملک موجودہ معاشی مشکلات سے نکل کر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف مارکیٹوں کے نمائندگان کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے چیمبر کا دورہ کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔
احمد حسن مغل نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار اداکرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں 90فیصد کاروباری ادارے ایس ایم ای شعبے سے تعلق رکھتے ہیں جو مجموعی قومی پیداوار میں 40فیصد حصہ ادا کرتے ہیں، 80فیصد غیرزرعی لیبر فورس کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور برآمدات میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ معیشت کا اتنا اہم شعبہ ہونے کے باوجود گیارویں پانچ سالہ منصوبے میں ایس ایم ای شعبے پر کوئی خصوصی توجہ نہیں دی گئی جس وجہ سے یہ شعبہ متعدد مشکلات کا شکار ہے اور صلاحیت کے مطابق ترقی کرنے سے قاصر ہے۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے فوری طور پر نئی ایس ایم ای پالیسی تشکیل دے کیونکہ آخری ایس ایم ای پالیسی 2007میں بنائی گئی تھی جو چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ان کی صلاحیت کے مطابق فروغ دینے میں ناکام رہی ہے لہذا اس شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے نئی پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر کر 8.4ارب ڈالر تک آ گئے ہیں جبکہ تجارتی و مالی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ایس ایم ای شعبہ ہی ایک ایسا شعبہ ہے جس پر اگر خصوصی توجہ دی جائے تو یہ شعبہ معیشت کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای شعبے کو ترقی دینے سے معیشت کیلئے متعدد وفوائد پیدا ہوں گے کیونکہ اس سے ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی، روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے، غربت میں کمی ہو گی، ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو گا، تجارتی و مالی خسارہ کم ہو گا اور برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com