کون کس کے پیچھے ہے؟

168

 

سیاستدان بڑے چالاک ہوتے ہیں یہ بات غیر سیاستدانوں کو بہت عرصے بعد سمجھ میں آتی ہے۔ اب ایک سیاستدان وفاقی حکومت کے ترجمان جناب فواد چودھری نے کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ ہمارے پیچھے ہیں، لوگ اس کا کوئی بھی مطلب لے سکتے ہیں لیکن سنجیدہ حلقوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ فواد چودھری نے یہ اطلاع دی ہے یا عدلیہ اور فوج پر الزام لگایا ہے؟ کیوں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے حوالے سے تو اپوزیشن کا الزام ہی یہ تھا کہ یہ حکومت فوج نے بنوائی ہے۔ عدلیہ نے راہ ہموار کی ہے۔ اب خود فواد چودھری نے اعتراف کیا ہے یا بڑے فخر سے کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ ہمارے پیچھے کھڑے ہیں۔ ان کی باتیں ہیں کہ لکھتے جاؤ سنتے جاؤ۔ کہتے ہیں کہ بھینسیں بیچنے کا مقصد مالی فائدہ نہیں تھا۔ لیکن دوسری طرف چیف جسٹس نے الگ ریمارکس دیے ہیں۔ انہوں نے تو سوال اٹھایا ہے کہ پی ٹی آئی والوں نے بدمعاشی شروع کردی، کیا لوگوں نے اس لیے ووٹ دیے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بدمعاشوں کی پیروی کرکے نیا اکستان بنانے چلے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے گلوبٹ کے بعد تحریک انصاف کے منشا بم سامنے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ای سی ایل میں بیٹوں کا نام ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ہمارے پیچھے چلتی ہے جو خوش آئند بات ہے۔ صبح ہم نے قبضہ مافیا کے خلاف احکامات دیے شام کو وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان آگیا۔ لیکن یہ منشا بم ہے کون؟؟ یہی سوال چیف جسٹس نے پہلے دن دریافت کیا تھا۔ اس حوالے سے بہت سی وضاحتیں آئیں گی، بہت کچھ بتایا جائے گا لیکن منشا بم کوئی نہیں ہے۔ یہ وہی ہے جو گلو بٹ تھا جو بہت سے چودھریوں کا فتّو ہوتا ہے۔ جو سندھ میں وڈیرے کا خادم ہوتا ہے، ہر طرح کے کام کرتا ہے ہر حکومت کے ساتھ ہوتا ہے ہر حکمراں گروہ کے لیے خدمات انجام دیتا ہے۔ اس منشا بم کے بارے میں بھی پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ یہ قبضہ مافیا گروپ ہے یہ گروپ پہلے مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے ساتھ تھا اب پی ٹی آئی کے ارکان کے ساتھ ہے۔ یہ زمینوں پر قبضے کرتے ہیں، ارکان اسمبلی ان کی مدد کرتے ہیں، جو پولیس اہلکار قبضہ واگزار کراتے ہیں ان کا تبادلہ کرادیا جاتا ہے۔ اگر کرامت کھوکھر چاہیں تو منشا بم پیش ہوسکتا ہے۔ یہ کرامت کھوکھر کون ہیں، یہ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ہیں۔ اب تبدیلی کے حوالے سے کسی قسم کے سوال کی ضرورت نہیں۔ تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ گلوبٹ اور منشا بم قسم کے لوگ مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر پی ٹی آئی کے لیے کام کرنے لگے ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں بھی ایسے ہی منشا بم اور گلوبٹ ہیں جو حکومت بدلنے کے بعد تبدیلی کا اعلان کرتے ہیں اور ان کی خدمات نئی پارٹی کو منتقل ہوجاتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ فوج حکومت کے پیچھے کھڑی ہے اور عدلیہ بھی۔ یا حکومت دونوں کے پیچھے چل رہی ہے۔ چیف جسٹس کا فرمان تو یہ ہے کہ حکومت پیچھے چل رہی ہے۔ جب کہ حکومت کے ترجمان کہتے ہیں کہ دونوں ہمارے پیچھے ہیں۔ پیچھے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ تعاقب میں ہیں۔ لیکن چودھری صاحب کے فخریہ انداز سے تو یہی لگ رہا تھا کہ ہم سے ٹکر نہ لینا ہم عدلیہ اور فوج کے بندے ہیں۔ لیکن پھر کرامت حسین کھوکھر کا کیا کریں جو منشا بم کے بیٹے کو چھڑانے کی غلطی کر بیٹھے اور عدالت کو معافی نامہ لکھ کر دیا ہے کہ آئندہ زندگی میں ایسی غلطی نہیں کروں گا۔ ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا کہ اس معافی نامے کا کیا بنے گا۔ لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جو غلطی کی ہے اس کی سزا ملے گی یا نہیں۔ اس طرح اور کتنی بار اور کس کس کو چھڑوا کر یہی غلطی کی ہے۔ مزید یہ کہ کیا ان کو پی ٹی آئی والوں کی بدمعاشی کی سزا ملے گی اور کیا منشا بم پی ٹی آئی والوں کی منشا سے یہ کام کررہا تھا۔ عدالتی حکم سے یہ بھی سامنے آیا کہ منشا بم کے بارے ہی میں کہا گیا تھا کہ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔۔۔ یعنی چاروں بیٹے اور ابا جان سب ہی بم برساتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس بم باری کو روکے گا کون؟ دفتر خارجہ کا 20 گریڈ کا افسر ہی بم مار گیا۔ کویتی وفد کے سربراہ کا بٹوا مار گیا۔ اس کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں سماجی میڈیا پر چل رہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی کارروائی کی رفتار نہایت سست ہے۔ دو دن تک تو اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر غور ہوتا رہا۔ جب کہ ایک افسر کی جانب سے اتنی قبیح حرکت پر کسی غور کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اسے فوری طور پر معطل کرکے گرفتار کیا جانا چاہیے تھا۔ وزیراطلاعات اس خبر کے حوالے سے بھی یہی کہیں گے کہ عدلیہ اور فوج ہمارے پیچھے ہے۔ اس کام کے پیچھے تو عدلیہ اور فوج ہرگز نہیں ہوسکتے۔ ہمارے ملک میں وزیر اطلاعات تو کہہ مکرنی کا بادشاہ ہوتا ہے۔ اس معیار پر جو پورا اترے وہ کامیاب وزیر ہوتا ہے۔ اس کی کوشش فواد چودھری نے بھی کی اور بار بار کرتے ہیں۔ ایک دن اسمبلی میں ایک بڑے سیاسی لیڈر کو ڈاکو کہہ دیا۔ اس کے بعد معافی مانگ لی، لیجیے کچھ بھی نہ کہا، کچھ کہہ بھی گئے۔ اب کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ پیچھے ہیں۔ اور بھینسوں کو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ ویسے یہ خوب ہے کہ بھینسیں بیچنے سے مالی فوائد کا حصول مقصد نہیں تھا۔ تو بھائی کیا نیلامی کی پریکٹس کررہے تھے۔ آگے چل کر کیا کیا نیلام کریں گے۔ اس نیلام گھر میں اگر لوگوں کی جائدادیں نیلام ہوں گی تو اس میں تو بہت کچھ ہاتھ دکھائے جاسکتے ہیں۔ تازہ خبر ہے کہ اسحق ڈار کی جائداد نیلام کی جائے، فرض کریں سچ مچ ہوجاتی ہے تو کیا ضمانت ہے کہ بھینسوں کے خریدار کی طرح کوئی نواز شریف کا دیوانہ اسے نہیں خریدے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اسحق ڈار کا کوئی فرنٹ مین ان جائدادوں کی اصل قیمت سے بہت کم میں یہ خرید لے گا۔ اور اب یہ جائدادیں حلال قرار دی جائیں گی۔ مستقبل میں اسحق ڈار کو لوٹا کر حلالہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ رانا مشہود نے الگ بیان داغ دیا ہے کہ معاملات طے ہوگئے ہیں۔ دو ماہ میں پنجاب حکومت ہماری ہوگی۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ (فوج) ان کے پیچھے ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون کس کے پیچھے ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ