کانپ رہا ہے تھر تھر۔۔۔ تھر

133

صاحب کہا یہ جاتا ہے۔ یہ چمن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے۔ اور پھر ہماری دادی کہا کرتی تھیں۔ اس باغ کو کون بسائے جس کا کوئی مالی یا رکھوالا نہ ہو۔ پھر کچھ یوں بھی سننے میں آیا ہے کہ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔ سندھی سندھ دھرتی کی بات کرتا ہے۔ پنجابی پنجاب کی بات کرتا ہے۔ پختون خیبر کی بات کرتا ہے۔ بلوچی بلوچستان کی بات کرتا ہے۔ اسلام کیا بلوچ کا اسلام نہیں، قائد اعظم کیا پنجاب کے قائد اعظم نہیں، علامہ اقبال کیا خیبر کی شاعر نہیں ہیں۔ اور ہم سب کا کیا ایک پاکستان نہیں ہے۔ ہمیں توڑنے کے لیے کوئی لب کھولو۔ ہم بکھرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ کیا کوئی سدباب ہے۔ ہمیں جوڑنے کے لیے کیا کوئی بونڈ ہے۔ ہمارے لیے نہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کا اسلام ہمیں ایک کرسکا اور نہ ہی یہ ہمارا عظیم ملک ہمیں ایک اکائی بنا سکا۔ اور حد تو یہ ہے کہ ہماری انسانیت بھی ہمیں ایک نہ کرسکی۔ ہم انسان کو مرتے، روتے، بلکتے، رلتے، بے عزت ہوتے، تڑپتے تو دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن مرتے ہوئے انسان کو شفایاب کرنے کے لیے اقدامات نہیں کرسکتے۔
حکومتی سطح پر انسانی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہ صرف یہ کہ نئے اسپتال نہیں بنائے جارہے ہیں بلکہ جو ہیں ان کی حالت بھی انتہائی دگرگوں ہے۔ نجی اسپتالوں کی حالت یہ کہ مریض کے لواحقین اسپتال اور ڈاکٹرز (مسیحا حضرات) سے ایسے خوفزدہ نظر آتے ہیں جیسے شکار شکاری کے جال میں پھنسنے کے بعد نظر آتا ہے۔ اسپتال والے اپنا بل بنانے کے چکر میں اور ڈاکٹر اپنے وزٹ فیس کے چکر میں مریض اور اس کے لواحقین کو بکرا سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اسپتال، ڈاکٹرز اور دواؤں کے اخراجات نیم مردہ اللہ کے اس آزمائشی وقت میں مریض اور لواحقین کو تقریباً خون نچوڑنے کی حد تک نچوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومتی سطح پر یہ غفلت پاکستان کے ہر شعبہء زندگی میں کارفرما ہے۔ ہاں ایک شعبہ کرپشن کا ایسا ہے جہاں ہماری حکومت اور حکومتی کارندے اپنوں اور مہمانوں کا خیال کیے بغیراپنی مثال آپ ہیں۔ حال ہی میں ایک حکومتی کارندے نے کویتی مہمانوں کا دیناروں سے بھرا پرس چرالیا۔ اور سی سی ٹی وی کیمروں کے نرغے میں آگئے۔ تو پھڑے گئے۔ ہماری حکومت میں جو آجاتا ہے اس کا پیٹ بلیک ہول بن جاتا ہے۔ جتنی بھی کرپشن کرلو کم پڑتی ہے۔۔۔!
حکومتی لاپروائی کی ہزار داستانوں میں سے ایک داستان سندھ کا ضلع تھرپارکر بھی ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے سندھ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ تقریباً دس لاکھ نفوس پر مشتمل سندھ کا یہ ضلع کوئلہ کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہیں سے تھرکول پاور پلانٹ کی بنیاد پڑی۔ سندھ کے ایک وفد نے وزیراعظم سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی تو محترم وزیر اعظم نے تھر کے حالات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ تھرپارکرکی زبوں حالی کی داستان جہاں سے بھی شروع کی جائے، انسانی المیے کی داستان وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ صحت سے متعلق اسپتالوں کا معاملہ انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ تھر کو کبھی بھوک، افلاس اور ہلاکتوں کا صحرا کہا جاتا ہے۔ یہاں کوئی بھی ایسا اسپتال نہیں ہے۔ جہاں جدید طبی سہولتیں موجود ہوں۔
تھر کو پیاس کا صحرا بھی کہا گیا ہے۔ بارشیں نہ ہونے اور پانی کے ذخیرے کا باقاعدہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے تھر کے باشندے، جانور اور بچے پیاس کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تھر پارکر کو موت کا صحرا بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں یہاں بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد ایک مرتبہ چھ سو، ایک اور سال میں تقریباً چار سو کے قریب اور ایک اور سال تقریباً ساڑھے چار سو ریکارڈ کی گئیں تھیں۔ صاف پانی کی تھر میں شدید ضرورت اور قلت ہے۔ حکومت تھر میں ایسے آر او پلانٹ لگائے کہ وہاں کے لوگوں کو صاف پینے کا پانی بآسانی مل سکے تو یہ نہ صرف حکومت کی اپنے فرائض کی انجام دیہی کا عمل ہوگا بلکہ اللہ کے ہاں سرخروئی کا باعث بھی ہوگا۔ آخر ہم اللہ کو کسی بھی عمل میں کیسے بھلا سکتے ہیں۔ اکثر تھر میں بارش کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے فصلیں نہیں اگتیں اور تھر قلت غذا کا شکار ہو جاتا ہے اور غذائی قلت کی وجہ سے قحط پڑنے لگتاہے۔ بچوں، بڑوں اور جانوروں کی بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوتی ہیں۔ این جی اوز یہاں کام کرتی ہیں اور تھر کے نام پر غیر ملکی فنڈ حاصل کرتی ہیں لیکن وہ فنڈ تھر میں خرچ ہونے کے بجائے یہ این جی اوز خورد برد کرلیتی ہیں اور تھر کے باسی اور مظلوم ہوجاتے ہیں۔ بے نظیر دستر خوان، آر او پلانٹ اور ڈاکٹرز کی تعیناتی محض حکومتی دعوے اور بیانات ہیں اور اس کے سوا کچھ ہے تو وہ بھوک ہے، افلاس ہے، درد ہے، موت ہے، پیاس ہے، قحط ہے اور تھر کے باسیوں کی زبوں حالی ہے۔ آج وزیراعظم نے تھر کا ذکر چھیڑا تو یہ درد ایک مرتبہ پھر ہرا ہوگیا۔ لیکن گزشتہ حکومتوں کی طرح یہ بھی کہیں وزیر اعظم کا ایک بیان ہی نہ ہو اور انسانیت یونہی تڑپتی اور بلکتی نہ رہے۔ خدارا ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو ہر امور پر ایک مہینے کے اندر رپورٹ مرتب کرکے اور لائحہ عمل تیار کرکے وزیر اعظم کو دے اور اس پر برق رفتار پیش رفت کی جائے۔
میں بلبل نالاں ہوں
اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں محتاج کو داتا دے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ