عسکری موجودگی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے‘ اسد حکومت کی خواہش پر روسی انخلا بھی ہو سکتا ہے‘ پیوٹن

75
شام: روسی فوجی صوبہ ادلب سے نکلنے کے مشرقی راستے ابوظہور کراسنگ پر اپنا جھنڈا لہرا اور پہرہ دے رہے ہیں
شام: روسی فوجی صوبہ ادلب سے نکلنے کے مشرقی راستے ابوظہور کراسنگ پر اپنا جھنڈا لہرا اور پہرہ دے رہے ہیں

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ شام میں موجود تمام غیرملکی فورسز کو نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی اقوام متحدہ کے چارٹرکی خلاف ورزی ہے۔ ماسکو میں توانائی کانفرنس سے خطاب میں صدر پیوٹن نے کہا کہ شام میں موجود تمام غیرملکی فورسز کو نکل جانا چاہیے۔ اس موقع پر ان سے پوچھا گیاکہ آیا روس بھی شام سے اپنی فوج نکالے گا تو پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس نے شام میں وہاں کی حکومت کی درخواست پر اپنی فوج تعینات کی ہے۔ اگر اسد رجیم کی طرف سے ہمیں بھی نکلنے کوکہا گیا تو ہم روس اپنی فوج بھی شام سے نکال لے گا۔ صدر پیوٹن نے کہاکہ شام کے شمالی شہر ادلب میں غیر فوجی علاقہ فعال ہے اور علاقے میں کسی بڑے فوجی آپریشن کے لیے فوج کو حرکت میں لانے کا کوئی پروگرام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادلب میں روس اور ترکی کے باہمی تعاون سے غیر فوجی زون کے قیام کے مقاصد جلد حاصل ہو جائیں گے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ روس کا شام کو S-300 میزائل فروخت کرنا مشرق وسطیٰ کے استحکام اور علاقے کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پومپیو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ روس کے شام کو S-300 میزائل فراہم کرنے کے مقابل ہم جس ردعمل کا مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے بارے میں میں کسی صورت کوئی بات نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر اس سے قبل جو بیانات میں نے جاری کیے ہیں وہ اس وقت بھی درست ہیں۔
روس ؍ امریکی فوج

شام: روسی فوجی صوبہ ادلب سے نکلنے کے مشرقی راستے ابوظہور کراسنگ پر اپنا جھنڈا لہرا اور پہرہ دے رہے ہیں

Print Friendly, PDF & Email
حصہ