وہیل چیئر پر یورپ پہنچنے والی شامیمہاجر لڑکی کی مشکلات ختم نہ ہوئیں

46
برلن: معذور شامی لڑکی وہیل چیئر پر یورپ کا طویل سفر کررہی ہے (فائل فوٹو) چھوٹی تصویر میں نوجین مصطفی اپنی کی کتاب کے ساتھ ہے
برلن: معذور شامی لڑکی وہیل چیئر پر یورپ کا طویل سفر کررہی ہے (فائل فوٹو) چھوٹی تصویر میں نوجین مصطفی اپنی کی کتاب کے ساتھ ہے

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) یوں تو یورپ پہنچنے والے کئی مہاجرین ایسے ہیں جنہوں نے نئے ملک میں زندگی کا آغاز کیا اور کامیاب ہوئے۔ تاہم وہیل چیئر پر حلب سے جرمنی پہنچنے والی ایک شامی مہاجر لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ نوجین مصطفی نے 3 برس قبل اپنے خاندان کے ساتھ شام سے یورپ کا سفر کیا۔ اپنی معذوری کے باوجود اس نے ڈیڑھ سال کے عرصے میں 16 ممالک سے گزر کر جرمنی تک کا سفر طے کیا۔ 19 سالہ نوجین مصطفی پیدایشی طور پر پیروں سے معذور ہے۔ ہجرت کے دوران اس نے یونان سے بلقان کے راستے مغربی یورپ کی طرف سفر کیا۔ سلووینیا میں مصطفی اور ان کے خاندان کو کئی ہفتوں تک حراست میں بھی رکھا گیا۔
شامی مہاجر لڑکی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ