بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کی تفصیلات مل گئیں، معاون خصوصی وزیراعظم

48

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے انکشاف کیا ہےکہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کی تفصیلات موصول ہوگئی ہیں، بیرون ملک 10 ہزار سے زائد جائیدادوں کا سراغ لگایا گیا ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ حکمران کرپٹ ہوں تو وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن کی مدد سے پیسے آسانی سے بیرون ملک بھیجے جاسکیں۔ لانچوں کے ذریعے پیسا باہر لے جایا جاتا ہے، ملک سے باہر بھیجے گئے پیسوں کو پھر واپس لاکر اپنا ثابت کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ سپریم کورٹ تنہا کرپٹ لوگوں کے خلاف لڑرہی تھی اب حکومت بھی متحرک ہے، منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کررہے ہیں، ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کو متحرک کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ  سوئس حکومت سے ہماری بات ہوئی ہے، مزید ممالک کے ساتھ بھی ہنڈی حوالہ پر گفتگو چل رہی ہے۔

بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ  بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کی تفصیلات موصول ہوگئی ہیں، بے نامی اکاؤنٹس میں رقم منتقلی کی تفصیلات بھی مل رہی ہیں، برطانیہ اور یو اے ای میں 10 ہزار سے زائد جائیدادوں کا سراغ لگایا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 895 پراپرٹیز پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جبکہ 300 پراپرٹیز مالکان کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ لندن میں اسحاق ڈار کے دو مزید فلیٹس نکل آئے ہیں،دونوں فلیٹس اسحاق ڈار کے ہی نام پر ہیں۔پناما معاملے پر بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ پاناما اور پیراڈائز پر صحیح معنوں میں تحقیق ہونی چاہیے تھی، پاناما میں شامل تمام افراد سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، پاناما میں نام آنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس نے کرپشن کی ہے ، جن کی کمپنیاں تھیں ان کو نوٹس دیں گے کہ آکر اپنا موقف پیش کریں۔

معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف پر وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا 35 کروڑ روپے کا بل واجب الادا ہے، مشاہد اللہ خان پر پی آئی اے کے خرچ پرعلاج کی مد میں ایک کروڑ روپے واجب الادا ہیں، مشاہداللہ خان کےمعاملے کو تحقیقات کے لیے نیب کے پاس بھجوا رہے ہیں، جن لوگوں پر رقم واجب الادا ہے وہ رقم فوری طور پر خزانے میں جمع کرائیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کرپشن کے خلاف کریک ڈان اور بیرونی سرمایہ کاری معاشی پالیسی کے ستون ہیں، وزیراعظم نے واضح حکم دیا ہے کہ غریب کی جھونپڑی نہیں گرانی ، خدا خدا کرکے چلنے والی پی آئی اے کے خرچے پر مشاہد اللہ خان نے اپنا علاج کرایا، قبضہ مافیا ختم کرنا ہے۔ مشاہداللہ کے بھائیوں کی بھرتی اور ترقیوں کی تحقیقات کرائیں گے، اب شہباز شریف کو بھی نوٹس جاری کیا جارہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ