سینیٹ مشاہداللہ اور فواد چوہدری میں جھڑپ وزیر اطلاعات کو ایوان سے نکلنے کا حکم

192

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ اجلاس میں مشاہد اللہ خان اور فواد چودھری میں جھڑپ ہوئی‘ جبکہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیراطلاعات فواد چودھری کو ایوان سے نکلنے کا حکم دے دیا نہ جانے پر اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی ‘ فواد چودھری نے کہا کہ مشاہد اﷲ کے 3 بھائی پی آئی اے میں لوڈر بھرتی ہوئے‘ میری پوری بات سنیں پھر جو غلط ہوگا وہ معافی مانگے گا‘ ڈاکو کو ڈاکو نہ کہوں ‘ مشاہداللہ خان نے کہا کہ وزیر اطلاعات کا پورا خاندان چورہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر اطلاعات فواد چودھری نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی بات نہ مانتے ہوئے اپوزیشن پر تنقید جاری رکھی‘ قائد ایوان شبلی فراز سمیت دیگر وزرا معافی مانگنے کا مشورہ دیتے رہے مگر فواد چودھری نے اپوزیشن کے ساتھ مصالحت کرنے سے انکار کردیا ۔ قبل ازیں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فواد چودھری نے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ غیر جانبدار رہیں‘ میری بات سنیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہمیں غیر جانبدار ہوں‘ مجھے ایوان بھی چلانا ہے۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ یہاں کہا گیا تھا آپ ایوان میں آکر معافی مانگیں گے،جس پر فواد چودھری نے کہا کہ میں حقائق آپ کے سامنے رکھوں گا۔ فواد چودھری کے بیان پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کردیا ،جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیراطلاعات آپ پہلے معافی مانگیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں کس چیز کی معافی مانگوں‘ کیا ڈاکو کو ڈاکو نا کہوں؟ اس پر مشاہد اللہ خان نے مطالبہ کیا کہ فواد چودھری کو ایوان سے باہر نکالیں‘ اپوزیشن کے سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ وزیر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے مناسب سمجھا کہ وزیر اطلاعات سینیٹ میں آکر معذرت یا وضاحت کریں ،جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ وزیر اطلاعات کے بیان پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آپ پہلے معذرت کریں۔ فواد چودھری نے کہا کہ میں نے قومی اسمبلی میں جب معذرت کی تولوگوں نے تنقید کی۔ اپوزیشن لیڈرسینیٹر راجا ظفر الحق نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے کہہ دیا کہ پہلے معذرت کریں تو پھرعمل ہونا چاہیے۔ جواباً فواد چودھری نے کہا کہ قومی خزانہ لوٹنے والوں سے کیوں معذرت کریں جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ فواد چودھری آپ ایوان سے چلے جائیں‘ جس پر وزیر اطلاعات ایوان سے باہر نہیں گئے، جس کے بعد ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی‘ مشاہد اللہ خان اور فواد چودھری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ فواد چودھری آپ کا خاندان چور ہے‘ تم مشرف کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممبران کے سمجھانے پر بھی فواد چودھری ایوان سے نہیں جا رہے۔ فواد چودھری ایوان سے باہر نہ گئے توچیئرمین کو اجلاس 15 منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ دوبارہ اجلاس ہونے پر فواد چودھری چیئرمین کے بار بار روکنے پر بھی مشاہد اللہ کے بارے میں بات سے نہ رکے تو چیئرمین نے اجلاس ہی ملتوی کردیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ