نان فائلرز زمین اور گاڑی نہیں خریدسکتے،پابندی بحال ضمنی بجٹ منظور

195

اسلام آباد:(خبرایجنسیاں) قومی اسمبلی نے ضمنی بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دے دی جب کہ حکومت نے ایک بار پھر ٹیکس نادہندگان کے لیے زمین اور گاڑی خریدنے پر پابندی کا اعلان کردیا۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیاجس کی حمایت میں 158 اور مخالفت میں 120 ووٹ آئے۔ایوان میں بل کی شق وار منظوری لی گئی، بل میں آخری ترمیم پی پی رکن کی جانب سے پیش کی گئی جس میں اراکین اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے سمیت پنشن کا حق دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ملکی معیشت کی صورتحال ٹھیک نہیں اس لیے یہ مطالبہ نہیں مانا جاسکتا۔قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 4 ترامیم کو مسترد کردیا۔ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ نان فائلر بیواؤں کو جائداد اور گاڑی خریدنے کی اجازت ہوگی، 396 سی سی تک رکشہ اور 200 سی سی تک موٹر سائیکل خریدنے والے کے لیے بھی فائلر ہونا ضروری نہیں جبکہ نان فائلر سمندر پار پاکستانیوں کو بھی اندرون ملک جائداد یا گاڑی خریدنے کی اجازت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ بڑے نان فائلرز کے خلاف مہم کا آغاز کردیاگیاہے،169 نان فائلرز کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں، نان فائلرز صرف 200 سی سی سے نیچے کی موٹر سائیکل خرید سکیں گے جبکہ جو زمین اور گاڑی خریدنا چاہتا ہے وہ ٹیکس ریٹرن فائل کرکے اس کا اہل بن جائے۔اسد عمر نے کہا کہ قوم کا پیسا قوم پر خرچ ہوگا ،آئیں اور اس کا حصہ بنیں، بینکوں میں بڑی رقم رکھنے والے نان فائلرز کو پکڑیں گے،ریاست اتنی کمزورنہیں جتنی نظرآتی ہے اور ریاست میں دم ہے کہ نان فائلرزسے پیسہ نکلواسکے۔ وزیر خزانہ نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو کام یہ 40 سال میں نہ کر سکے ہم سے پوچھتے ہیں کہ 40 دن میں کیوں نہ کیے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بیواؤں کی پنشن روکی ہوئی تھی، پی آئی اے کا جہاز اڑ نہیں سکا کیوں کہ ادارے پر قرض اتنا بڑھ چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ دودھ اور شہد کی بہتی ہوئی نہروں کے سائے میں گزشتہ سال گردشی قرضے میں 400 ارب سے زائد اضافہ ہوا اور آج مجموعی طور پر گردشی قرضہ 1200 ارب تک پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ آج بجلی ہو بھی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان تک نہیں پہنچائی جاسکتی۔اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وزیرخزانہ کی تقریر میں سچ کا فقدان ہے‘ زرداری اور مشرف دورمیں شروع کیے گئے تمام ترقیاتی منصوبوں کا آڈٹ کرایا جائے جب کہ کرپٹ افرادکی نشاندہی کرکے لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے رہنما راجاپرویز اشرف نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ن لیگ کے دورحکومت کے تمام منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرایاجائے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے۔ علاوہ ازیں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ ارکان کی شمولیت کی تحریک منظور کر لی گئی، 30 رکنی کمیٹی میں 10 ارکان سینیٹ سے ہوں گے۔کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کی برابر نمائندگی ہو گی۔تحقیقاتی کمیٹی میں سینیٹ ارکان کی شمولیت کی تحریک پی ٹی آئی کے محمد علی خان نے پیش کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ