سندھ ہائی کورٹ کا یونیورسٹیز بل 2018ء پرحکومت سے جواب طلب 

37

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے سندھ ترمیمی یونیورسٹیز بل 2018 ء کے خلاف درخواست کی سماعت پرسندھ حکومت سے جواب طلب کرلیا۔عدالت نے درخواست گزار کو یونیورسٹیز ایکٹ کی کاپی بھی درخواست کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔درخواست گزار کے وکیل کاکہنا تھا کہ سندھ میں یونیورسٹیوں کا چانسلر گورنر سندھ ہوتا تھا،ایکٹ کے
ذریعے تمام اختیارات وزیر اعلی سندھ کو منتقل ہوچکے ہیں۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز ایکٹ2018ء غیرقانونی نہیں ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے، یونیورسٹی بل اب ایکٹ بن چکا ہے،بل غیر قانونی ہے کالعدم قرار دیاجائے، درخواست میں وزیر اعلی ،گورنر ،اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سندھ میں اسکولوں کی طرح یونیورسٹیوں کا بھی بیٹرا غرق ہو جائے گا، بدنیتی کی بنیاد پر صوبے کی 24 جامعات کو وزیر اعلی کے تابع کردیا گیا ہے،صوبے کے شہری علاقوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جامعات کی خودمختاری چھین لی گئی سنڈیکیٹ کی 10 میں سے 8 نشستوں پر بیورو کریٹ تعینات ہونگے ،تعلیمی ماحول تباہ ہوجائیگاجامعات سیاسی گڑھ بن جائیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ