ڈیم ملکوں کی نہیں انسانوں کی ضرورت ہیں

139

 

محمد شاہد محمود

۔2006ء میں پرویز مشرف کی حکومت نے اعلان کیا کہ 2016 تک ملک میں 5 بڑے ڈیم بنائے جائیں گے۔ مشرف حکومت نے جن پانچ بڑے ڈیموں کا اعلان کیا تھا ان میں بھاشا، مْنڈا (بعد میں جس کا نام بدل کر مہمند ڈیم رکھ دیا گیا)، کرم تْنگی، اکوڑی اور کالاباغ ڈیم شامل تھے۔ فیصلہ ہوا کہ سب سے پہلے بھاشا ڈیم بنایا جائے گا۔ فروری 2008 کو ملک میں عام انتخاب ہوئے جس میں مشرف کی ق لیگ تیسرے نمبر پر چلی گئی، جب یوسف رضا گیلانی نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت بھاشا ڈیم کے تفصیلی نقشے بن چکے تھے۔ نومبر 2008 کو یوسف رضا گیلانی نے ایکنک سے بھاشا ڈیم کے لیے منظوری حاصل کر لی اور اس کے بعد کونسل آف کامن انٹرسٹ میں موجود تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی منظوری کے ساتھ ہی بھاشا ڈیم بنانے کا رستہ صاف ہو گیا،18 اکتوبر 2011 کو یوسف رضا گیلانی نے بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس منصوبے کی تعمیر کے لیے تقریباً 1200 ارب کی ضرورت تھی۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو قرض کے لیے درخواست دی گئی جسے منظور کر کے ان بینکوں نے رقم دینے کی حامی بھر لی۔ جیسے ہی منصوبے پر کام شروع ہوا بھارت نے حسب معمول چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ بھاشا ڈیم ایک ایسی جگہ پر بنایا جا رہا ہے جو کشمیر کا حصہ ہے اور کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ بھاشا ڈیم کو رکوانے کی بھارتی کوششیں اس وقت رنگ لے آئیں جب اگست 2012 میں ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے دی جانے والی رقم روک لی اور پاکستان سے کہا کہ بھارت لکھ کر دے دے کہ اسے اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں تو ہم یہ رقم جاری کر دیں گے۔ یہ وہ دور تھا جب عدالت عظمیٰ نے یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیج دیا تھا اور راجا پرویز اشرف بطور وزیر اعظم حلف لے چکے تھے۔ راجا پرویز اشرف بھاشا ڈیم کے لیے رقم کا بندوبست نہ کر سکے۔ 2013 کو الیکشن ہوئے جس میں مسلم لیگ ن جیت گئی اور میاں نواز شریف کی حکومت نے کئی دوسرے ڈیموں سمیت بھاشا ڈیم کے لیے بھی رقم یا قرضے کے حصول کی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی۔ تقریباً 2 ماہ بعد، 20 اگست 2013 کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو رقم فراہم کرنے کے لیے راضی کر لیا ہے اور یہ بینک بھارت کی پروا کیے بغیر ہمیں بقیہ قرض جلد جاری کر دیں گے۔
دیامر بھاشا ڈیم کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس کی تعمیر سے ملک زرعی و صنعتی ترقی پر گامزن ہوگا۔ مذکورہ ڈیم سے ترقیاتی کاموں مثلاً سڑکوں کی تعمیر و توسیع، پرانی سرکاری عمارتوں کی بوسیدگی کا خاتمہ اور نئی سرکاری عمارتوں کی تعمیر کی جاسکتی ہے اور جو دیہات اب تک روڈ اور بجلی جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں وہاں روڈ اور بجلی کا سستا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ نئے اسکولوں کا قیام اور پرانے اسکولوں کی تزئین و آرائش اور تمام ہائی اسکولوں کو انٹر کالجز اور انٹر کالجز کو ڈگری کالجز میں ترقی دیکر غریب عوام کو سستی تعلیم مہیا کی جاسکتی ہے۔ بجلی وافر مقدار میں سستی مہیا ہوگی تو سیکڑوں صنعتیں، کارخانے اور فیکٹریاں قائم ہوں گی اس طرح ہزاروں اسامیاں وجود میں آئیں گی جن سے گلگت بلتستان کے عوام بالخصوص نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ بیروز گاری کے عفریت سے چھٹکارا پا سکے گا۔ مہمند ڈیم 6سال میں مکمل ہوگا اور 12لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے صلاحیت اس میں ہوگی، مہمند ڈیم جسے منڈا ڈیم بھی کہا جاتا ہے یہ دریائے سوات پر 5کلو میٹر اپ اسٹریم منڈا ہیڈ ورکس سے پہلے مہمند ایجنسی میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس ڈیم کا بنیادی مقصد سیلاب سے بچاؤ، زرعی مقاصد کے لیے پانی اور پن بجلی کا حصول ہے یہ واحد منصوبہ ہے جس سے پشاور، چارسدہ، نوشہرہ کو تباہ کن سیلاب سے بچایا جا سکتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق مختصر لیکن تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فوری طور پر تعمیر کیے جائیں۔ اپنے مختصر فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بھی حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تعمیر کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے ایک خصوصی اکاؤنٹ بھی کھولا جائے، فیصلے کے مطابق یہ اکاونٹ عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار کے نام پر کھولا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے پہل کرتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کے لیے 10 لاکھ روپے عطیہ کیا۔ عدالت نے چیئرمین واپڈا کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔ خیال رہے کہ آرٹیکل 184 تین کے تحت عدالت عظمیٰ کو بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اختیارات حاصل ہیں۔
بھاشا ڈیم جس کی تعمیر کے حوالے سے عطیات جمع کیے جارہے ہیں، اگر اس کی لاگت کو دیکھا جائے تو اس ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت 18 سے 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں دیامیر بھاشا ڈیم کے صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر کام ہوگا جب کہ بجلی بنانے والے سیکشن کی تعمیر میں مزید 744 ارب روپے درکار ہوں گے اور کل منصوبے کی تعمیر پر 1.4 کھرب روپے کی لاگت آسکتی ہے۔ ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے اور آبادکاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اب تک حکومت 58 ارب روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ مزید 138 ارب روپے اسی سلسلے میں مختص کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب مہمند ڈیم جو اب تک پی سی ون تک مکمل ہوچکا ہے اس پر اب تک 93 کروڑ کی لاگت آچکی ہے۔ لہٰذا عطیات کی مہم کتنی حقیقی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔
سندھ طاس معاہدے کے بعد جہاں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی واقع ہوتی گئی وہیں آبادی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 2017 تازہ مردم شماری کے بعد حساب سالانہ 850 کیوبک میٹر فی کس بنتا ہے، یوں ہم پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ گزشتہ 6 دہائیوں کے دوران پاکستان نے ایک بھی بڑا آبی ذخیرہ تعمیر نہیں کیا۔ موجودہ آبی ذخیروں میں سے ایک تربیلا میں گارا جمع ہونے کی وجہ سے اپنی 30 لاکھ ایکڑ فٹ تک کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کھوچکا ہے۔ 70 کی دہائی کے وسط میں اس کی تعمیر کے بعد کسی نئے آبی ذخیرے کو تعمیر کرنے میں ہماری ناکامی ہماری نااہلی اور مستقبل کے لیے بے فکری کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم سالانہ 145 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی حاصل کرتے ہیں، جس میں سے ہم صرف 14 ایم اے ایف ذخیرہ کرتے ہیں۔ ابھی بھی موقع ہے۔ ہمیں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ابتدائی طور پر صوبوں کو اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر نئے آبی ذخائر کی تعمیر پر اتفاق کرنا چاہیے۔
nn

Print Friendly, PDF & Email
حصہ