اونچی ذات کے پاکستانی

139

 

مظہر اقبال

دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کی مضبوطی اور پائیداری کا ایک راز وہاں کی قابل، محنتی اور ایماندار بیوروکریسی ہے۔ سیاست دان آتے جاتے رہتے ہیں۔ تاہم پالیسیو ں کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستانی کے بیوروکریٹس نے پاکستان میں ذات پات کا ایک نیا نظام متعارف کروایا۔ زندگی کے مختلف شعبے ہیں لوگ اپنی اپنی قابلیت کے مطابق کام کرتے ہیں۔ بقول جرمن چانسلر انجیلا مرکل استاد کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے۔ کہا جاتا ہے جرمن چانسلر سے وہاں کے انجینئرز اور ڈاکٹروں نے شکایت کی کہ اساتذہ کی تنخواہیں سب سے زیادہ کیوں ہیں؟ تو انہوں نے انتہائی سادہ سا جواب دیا ’’وہ آپ کو بناتے ہیں‘‘۔ بحرحال اسی طرح اور کئی شعبے ہیں جہاں مخصوص ذہنی استطاعت کے مطابق افراد کا تعین کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں انگریزوں کی اترن کا سب سے زیادہ فائدہ بیوروکریسی نے اٹھایا۔ ٹائی سوٹ بہت بڑا کمرہ اور بہت بڑی میز کے اس طرف بیٹھے ہوئے بیوروکریٹ سے کلچر پر وان چڑھتا گیا۔ میں نے اور آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ نوجوان ڈاکٹری چھوڑ کر سی ایس ایس کرنے لگے۔ ذہین اور قابل نوجوان انجینئر بن کر بھی سی ایس ایس کے چکروں میں پڑگئے۔ یوں ہر کسی کا سی ایس ایس کرنا پاکستانی قوم کا محور بن گیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ جی ہاں بیوروکریسی میں آنے کے بعد انتہائی اعلیٰ مراعات اور آگے جا کر طبقہ حکمران کے قریب ہو جانا۔ یوں ان کے رہنے کے علاقے الگ ہو جاتے ہیں۔ ملکہ برطانیہ جب Deputation پر افسران کو ہندوستان بھیجتی تھیں تو ان کو خصوصی ہدایت ہوتی تھیں کہ عوام سے دور رہنا۔ دنیا بدل گئی مگر ہماری بیوروکریسی ابھی تک اسی ڈگر پر چل رہی ہے اور یہی عمل ہماری ترقی میں رکاوٹ ہے آج ہماری بیوروکریسی سرخ فیتے کا شکار ہے۔
گاؤں دیہاتوں سے جب چودھری اور وڈیرے منتخب ہو کر آتے ہیں تو یہ بیوروکریٹ ان کو آڑے ہا تھوں لیتے ہیں۔ یہ بیوروکریٹ ان نالائق جمہوری لومڑوں کے ساتھ کھیل کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی پرانی اور متروک انگریزی بول کر اُن پر اپنا بھرم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو کبھی د و دو سو صفحا ت کی Fesibility Report بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پارلمینٹیرین نے BA کی کتاب تو ٹھیک سے پڑھی نہیں ہوتی وہ یہ کیا پڑھ پائے گا، اور آخر میں بات “SEEN” لکھنے پر آجاتی ہے۔ اس چھوٹی سی تصویر پر کشی کے بعد آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہ بیوروکریٹس اپنے آپ کو کچھ الگ الگ مخلوق سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام ہی کے ٹیکسوں پر جب یہ مع فیملی بیرون ملک قیمتی ہوٹلوں سے ہو کر آتے ہیں تو ان کو اپنے وطن کی مٹی کی سوندھی خوشبو سڑاند لگنے لگتی ہے۔ اب یہ صاحب بہادر رشوتوں کے بلبوتوں پر بیرون ملک جائداد بنانے پر لگ جاتے ہیں۔ یہ اپنے بچوں کو پہلے ہی باہر روانہ کر دیتے میں۔ راقم الحروف کی ایک عمر گزری ہے بین الاقوامی اداروں میں پڑھاتے ہوئے، میں آپ کو یقین سے کہتا ہوں کہ ان کے بچوں میں جذبہ حب الوطنی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
برطانیہ میں ہمارا ایک ایسے پاکستانی بیوروکریٹ سے واسطہ پڑا جب ریٹا ٹرمنٹ کے بعد کسی طرح IMMIGRATION کروا کر وہاں چلے گئے۔ یہاں آرام طلبی کی لت پڑی ہوتی تھی، یقین کیجیے وہاں جوتیاں چٹخانے کے بعد برطانوی لوگوں نے صاف کہ دیا کہ آپ ہمارے کسی کام کے نہیں۔ دراصل اس مخلوق کو آسمان تک لے جانے والے خود عام پاکستانی ہیں۔ اگر ابتدا ہی سے ان کا محاسبہ شروع ہو جاتا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ پاکستان بننے کے بعد لوگ صرف افسر ہی سے متاثر ہوتے تھے۔ عام لوگوں میں تاثر گردش کرنے لگا کہ اگر پڑھ لکھ کر افسر نہیں بنے تو پھر سب بیکار ہے۔ لوگوں کی اس سوچ نے ان افسروں کو خلائی یا بالائی مخلوق بنا دیا۔ سائنس، ٹیکنالوجی کے ما ہرین باہر سے اعلیٰ ڈگریاں لے کر آتے رہے مگر ان اونچی ذات کے پاکستانیوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ مختلف شعبوں کے ماہرین بے بس ہو کر رہ گئے۔ انگریز جو نظام چھوڑ گئے تھے آج سب ویسے کا ویسا ہی ہے۔ کسی شعبے میں انہوں نے جدت لانے کی کوشش نہیں کی۔ اگر جدت نظر آتی ہے تو ا ن کے گھروں میں۔ ان کے بچوں کے پاس جدید قسم کے Gadgets نظر آئیں گے۔ اور یہ لوگ اپنی محفلوں میں جدید گاڑیوں کی باتیں کرتے نظر آئیں گے کہ کس طرح پاکستانیوں کے ٹیکس پر ڈاکا ڈال کر مکمل آٹومیٹک گاڑی کے ماتھے پرسبز نمبر پلیٹ لگا کر اپنی ہوس کی تسکین کی جا سکے۔ اور یہ کئی دہائیوں سے ایسا کر رہے ہیں۔ کچھ روز قبل ایک بیوروکریٹ کویتی وفد کی پرس چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ یہ تو ایک عام چوری ہے۔ ان کم ظرف لوگوں نے تو اس سے بھی بڑی چوریاں کر ڈالیں۔ ان لوگوں نے پاک سر زمین کے پاکیزہ نظریے کا غلاف تک چوری کر لیا۔ آج پاکستانی صحرائے وحشت میں گم کھڑا ہے کہ کہاں جائے اور کہاں نہ جائے۔ یہی ہیں وہ ملعون لوگ جنہوں نے ہمارے نوجوانوں کا اعتماد چھین لیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ