مودی سرکار کیخلاف کسان سڑکوں پر آگئے، پولیس کا بہیمانہ تشدد

106
نئی دہلی: مودی سرکار کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ریلی نکالنے والے کسانوں کے خلاف پولیس مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے‘ تشدد سے زخمی ہونے والے مظاہرین بھی نظر آرہے ہیں
نئی دہلی: مودی سرکار کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ریلی نکالنے والے کسانوں کے خلاف پولیس مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے‘ تشدد سے زخمی ہونے والے مظاہرین بھی نظر آرہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کی متنازع پالیسی سے پریشان 70 ہزار کسان سڑکوں پر نکل آئے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں 70ہزار سے زائد غریب کسان حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آگئے۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ٹریکٹروں، ٹرالر اور ٹرکوں پر سوار نئی دہلی کی جانب مارچ کیا اور حکومت سے مہنگائی کم کرنے اور قرضوں کی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کو دارالحکومت پہنچنے سے روکنے کے لیے پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کردیں جسے کسانوں نے ہٹانے کی کوشش تو پولیس نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاٹھی چارج کیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کے بے دریغ استعمال کے باعث درجنوں کسان زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نے مودی سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پولیس کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال پر شدید احتجاج کیا۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کسانوں نے مارچ ختم کر کے واپس جانے سے انکار کردیا۔ کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے اور پولیس کی بھری نفری تعینات ہے۔ دوسری جانب اترپردیش کے وزیراعلیٰ نے بی جے پی کی حکومت کو کسانوں کا مسیحا بناکر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی نے کسانوں کے تمام مسائل کو حل کردیا ہے اور 1947ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسان اور حکومت ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔ یہ سب بی جے پی کی ساڑھے 4 سالہ دورِ اقتدار کے باعث ممکن ہوا۔ واضح رہے کہ مودی سرکار کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف مختلف اوقات میں احتجاج بلند ہوتا رہا ہے تاہم اتنے بڑے پیمانے پر مظاہرہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے جبکہ اس کے علاوہ بھارت میں کسانوں کی جانب سے حکومتی قرضوں اور مالی پریشانیوں کے باعث خودکشی کے بھی کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ