یمن میں شہری اہداف پر بمباری کا سعودی اعتراف

87
یمن: فوج باغیوں کی نصب کردہ بارودی سرنگیں دکھا رہے ہیں
یمن: فوج باغیوں کی نصب کردہ بارودی سرنگیں دکھا رہے ہیں

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب نے یمن میں غلط اہداف کو نشانہ بنانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اہداف کے معاملے میں عرب ممالک کے اتحاد کی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی ایک خصوصی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کو بریفنگ دیتے ہوئے سعودی وزارتِ دفاع کے ایک عہدے دار عسیکر العتیبی نے کہا کہ ان کا ملک بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے کے عزم پر قائم ہے۔سعودی عہدے دار نے کمیٹی کو بتایا کہ عرب اتحاد نے یمن میں اسکولوں اور اسپتالوں سمیت 64 ہزار ایسی تنصیبات کی نشان دہی کی ہے، جن پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ العتیبی نے اعتراف کیا کہ عرب اتحاد کی اپنی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اتحاد کی کارروائیوں میں نادانستہ طور پر غلطیاں ہوئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اتحاد کی ٹاسک فورس نے ان غلطیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور متاثرہ افراد کے نقصان کے ازالے کی سفارش کی ہے۔اقوامِ متحدہ کی یہ کمیٹی 18 غیر جانب دار ماہرین پر مشتمل ہے جو اس بات کاجائزہ لے رہی ہے کہ یمن کی جنگ کے دوران سعودی اتحاد نے مسلح تصادم میں گھرے بچوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے پر کتنا عمل کیا۔پیر کو کمیٹی نے اپنے اجلاس کے دوران بارہا عرب اتحاد کے حملوں میں یمنی بچوں کی ہلاکت کا معاملہ اٹھایا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ