اربوں کے ترقیاتی منصوبے ختم کرنا عوام کے ساتھ مذاق ہے، سراج الحق

183
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق منصورہ میں مرکزی ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق منصورہ میں مرکزی ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے منی بجٹ نے ہر شہری کو پریشان کردیا ہے ۔ منی بجٹ میں کسی ریلیف کے بجائے صرف الفاظ اور اعداد و شمار ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے حیلے بہانوں نے بڑے بڑے معاشی ماہرین کو سر پکڑنے پر مجبور کردیاہے ۔ 18 سو سے زائد اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے تبدیلی کے تمام دعوؤں کو دھندلا دیاہے ۔ منی بجٹ سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو نکالنے سے ترقی و خوشحالی کی باتیں مذاق لگنے لگی ہیں ۔ اگر حکومت نے آنے والا سالانہ بجٹ بھی اسی طرح پیش کیا تو عام پاکستانی کے خواب بکھر جائیں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، نائب امرا اور ڈپٹی سیکرٹریز نے شرکت کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں احتساب کے مؤثر نظام کے لیے کوشاں ہے ۔ جب تک قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے بااثر مجرم آزاد ہیں اور مگر مچھوں کے بجائے چھوٹی مچھلیوں کو پکڑا جاتار ہے گا ، کرپشن ختم نہیں ہوگی ۔ حکومت نے ابھی تک باہر پڑی دولت کی واپسی کا کوئی میکنزم نہیں بنایا ۔ لندن ، دبئی اور پاناما میں جن جائدادوں کا سراغ لگا ہے ، ابھی تک ان کے مالکان پر بھی ہاتھ نہیں ڈالا جارہا۔ ملک میں اربوں روپے کے بے نامی اکاؤنٹس سامنے آرہے ہیں لیکن یہ رقم کہاں سے آئی،کچھ معلوم نہیں۔ عام آدمیوں کے بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے منتقل ہو رہے ہیں جس سے اکاؤنٹ ہولڈرز خود لاعلم ہیں یہ ایک معمہ ہے جو حل نہیں ہورہا۔ جماعت اسلامی نے جس کرپشن فری پاکستان تحریک کا آغاز کیا تھا ، اسے ہم جاری رکھیں گے اور چوروں اور لٹیروں سے لوٹی گئی دولت کی پائی پائی وصول ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی نے پاناما لیکس کے 436 ملزموں کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کر رکھی ہے لیکن ابھی تک اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ جب تک پاناما کے تمام کرداروں ، بینکوں سے قرضے لے کر معاف کرانے والوں اور اپنے منصب کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دولت کے انبار لگانے والوں کو نہیں پکڑا جاتا اور ان سے دولت وصول نہیں کی جاتی ، احتساب کا عمل آگے نہیں بڑھ سکے گا ۔ انہوں نے کہاکہ نیب بھی ابھی تک بڑے مگر مچھوں اور رسہ گیروں پر ہاتھ ڈالنے سے ہچکچا رہاہے ۔ نیب نے خود کو متنازع بناکر احتساب کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ قوم نتائج دیکھنا چاہتی ہے ۔ اب عوام طفل تسلیوں کے بجائے ریلیف چاہتے ہیں ۔ جب تک عوام چوروں کا کڑا احتساب ہوتا اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھیں گے ، انہیں حکومتی دعوؤں پر یقین نہیں آئے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ