پرویز مشرف کمانڈو ہیں تو جرات کا مظاہرہ کر کے واپس آجائیں ، چیف جسٹس

55
اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد ( آن لائن)عدالت عظمیٰ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو وطن واپسی اور عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے تک کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیاجبکہ ایک ہفتے میں سابق صدر کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پرویز مشرف نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں واپسی کا کہا تھا، وہ خود کو جرأت مند کمانڈو کہتے تھے تو جرأت کا مظاہرہ کریں،انہوں نے استفسار کیا کہ جرأت مند کمانڈو کیوں پاکستان نہیں آرہا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ پرویز مشرف کو ایسے حالات میں پاکستان آنا پڑے جو عزت دارانہ طریقہ نہ ہو۔منگل کے روز چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی، پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے پرویز مشرف کے بارے میں بتانا تھا، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میں نے سابق صدر کو پیغام دیا تو انہوں نے کہا کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن انہیں سیکورٹی اور میڈیکل کا مسئلہ ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا وہ وطن واپس آئیں ان کو سیکورٹی فراہم کی جائے گی، آپ کو یقین دہانی کراتا ہوں، یہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی یقین دہانی ہے، عدالت آنے تک انہیں کوئی گرفتار نہیں کرے گا مشرف کے ساتھ جو بھی ہوگا قانون کے مطابق ہوگا۔مشرف جب تک حیات ہیں انہیں واپس آنا ہوگا ۔دوران سماعت وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف لال مسجد کیس میں کوئی چارج نہیں جبکہ ٹرائل کورٹ میں کوئی چارج شیٹ بھی نہیں دی گئی، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہوسکتا ہے کہ پرویز مشرف پر لال مسجد کیس میں کوئی چارج نہ ہو لیکن وہ غداری کیس میں ملزم ہیں اور اسی کیس میں وہ عدالت میں پیش ہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمات کا فیصلہ سختی سے قانون کے مطابق کریں گے، اگر وہ رضاکارانہ طور پر آجائیں تو ان کی عزت ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں واپسی کا کہا تھا، وہ خود کو جرأت مند کمانڈو کہتے تھے تو جرأت کا مظاہرہ کریں،انہوں نے استفسار کیا کہ جرأت مند کمانڈو کیوں پاکستان نہیں آرہا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ پرویز مشرف کو ایسے حالات میں پاکستان آنا پڑے جو عزت دارانہ طریقہ نہ ہو۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا ہے کہ میرے مؤکل کی کمر میں درد اور اس حوالے سے پیچیدہ مسائل ہیں جن کا علاج جاری ہے ۔ان کو پیچیدہ قسم کی بیماری لاحق ہے جس کی میڈیکل رپورٹ جلد آنی ہے ہو سکتا ہے آئندہ میری ملاقات مشرف سے نہ ہو سکے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چْک تو مجھے بھی پڑی ہوئی ہے بلکہ ایک وکیل کے چْک پڑی ہوئی ہے اور وہ جھک نہیں سکتے، یہاں پر چک کے علاج کرنے کا بڑا اچھا بندوبست کیا ہوا ہے ،پرویز مشرف کو کمر کا مرض لاحق ہے تو یہاں آئیں ہم علاج کرائیں گے۔عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل سے ان کی میڈیکل رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کرلی۔عدالت نے مزید سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

 

Print Friendly, PDF & Email
حصہ