لاپتہ بچیاں کیس: اسلامی ریاست میں بچیوں کا لاپتہ ہونا سوالیہ نشان ہے، جسٹس شوکت صدیقی

214

اسلام آباد: بچیاں لاپتہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 15دن کے لیے ملتوی کر دی گئی ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں 2016 سے دوبچیوں سامعہ اور ادیباکے لاپتا ہونے کے کیس کی سماعت جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے کی جس میں ڈی آئی جی آپریشن میجر(ر)اعظم سلیمان اور ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی آبدیدہ ہو گئے، انہوں نے بچیوں کا کچھ پتا نہ چلنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کوفوری اقدامات کی ہدایت کر دی۔

دوران سماعت جسٹس صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ ہم سب بچیوں والے ہیں اللہ نہ کرے کسی بھی بچی کے ساتھ ایسا ہو۔ ڈی آئی جی آپریشن  میجر(ر)اعظم سلیمان نے عدالت کو بتایا کہ ایک بندے کا پتا چلا ہے جلد پتا لگا لیں گے۔

اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ایف آئی اے سے درخواست کی تھی آپ بھی کچھ نہیں کرسکے۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ تھوڑا وقت دے دیں جلد ڈھونڈ لیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ ریاستی ادارے ناکام ہیں،اگر کسی کا کتا گم جائے تو اس کو بھی برآمد کیا جاتا ہے،مجھے کوشش نہیں عملی کام چاہیے،میں کوئی مختصر آرڈر پاس نہیں کر رہا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کہاجاتاہے کوئی زمین کی تہہ تک جائے تو ٹریس کیا جاتا ہے، پھر کہاں ہے وہ ادارہ؟اسلام آباد پولیس نے مجھے مایوس کیا،ڈی جی ایف آئی اے بتائیں خدا نخواستہ آپ کی بچیاں لاپتاہوں تو رات کو سو پائیں گے، اسلامی ریاست میں بچیوں کا لاپتہ ہونا ہمارے لئے سوالیہ نشان ہے، میں سوچتا ہوں کہ اپنے رب کوکیا جواب دیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس کیس میں پیش رفت چاہیے، لولی پوپ نہیں۔

عدالت نے  آئندہ سماعت تک بچیاں بازیاب کرائی جانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ