ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر کیا گیا، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

120

سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل تبادلے سے متعلق رپورٹ جمع کرادی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس افسر کا تبادلہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی۔ چیئرمین نیکٹا خالق داد لک نے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔ رپورٹ ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے میں سیاسی اثر و رسوخ سے متعلق ہے۔ عدالت نے رپورٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار145 خاور مانیکا145 احسن جمیل گجر اور آئی جی کلیم امام سے موقف طلب کرلیا۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ احسن جمیل گجر پر انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے آج احسن جمیل گجر معافی مانگ رہا ہے پہلے اس کی ٹون ہی اور تھی۔ سپریم کورٹ نے رپورٹ کی کاپی وزیراعلیٰ اور آئی جی کلیم امام کو دینے کا حکم دے دیا عدالت نے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب کو تین دن میں جواب دینے کا حکم دے دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ سیاسی بنیادوں پر ہوا وزیراعلیٰ کے دفتر میں ہوئی ملاقات میں احسن جمیل گجر کا رویہ تضحیک آمیز تھا آئی جی کلیم امام کا کردار ربڑ اسٹمپ کا تھا۔ رپورٹ ممیں کہا گیا کہ آئی جی کلیم امام کا موقف تھا شفاف انکوائری کے لئے تبادلہ کیا اس بات سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ڈی پی او کو سبق سکھانے کے لئے آئی جی پر دبائو تھا آئی جی کلیم امام شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نکلے۔

سپریم کورٹ نے فریقین سے ایک ہفتے میں رپورٹ پر موقف طلب کرلیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس معاملے میں آرٹیکل 62 ون ایف کا تناظر بھی دیکھیں عدالت میں خاور مانیکا دوران سماعت آبدیدہ ہوگئے۔ چیف جسٹس نے خاور مانیکا سے مکالمہ کیا کہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں خاور مانیکا نے موقف میں کہا کہ میرے بچوں کے ساتھ بدسلوکی ہوئی خاور مانیکا نے استفسار کیا کہ کیا میں سابق بیوی یا عمران خان سے بات کرتا؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خالق داد صاحب رپورٹ کے نتائج بتائیں سربراہ نیکٹا نے بتایا کہ زیادہ بے عزتی کی دو باتیں تھیں کہا گیا جو پیغام دیا گیا وہ پورا ہوگیا یہ بھی کہا گیا سب لوگ متاثر ہوں گے۔ احسن جمیل کا بیان دھمکی میں نہیں آتا چیف جسٹس نے کہا کہ تمام لوگوں پر اثر کی بات تو دھمکی میں آتی ہے خالق داد نے بتایا کہ احسن جمیل نے خود کو بھی متاثرین میں شمار کیا مانیکا خاندان کے معاملات میں مداخلت روکنے کے لئے دھمکی دی گئی۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ میٹنگ میں پرائیویٹ آدمی کا پایا جانا خلاف ورزی ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ یہ کیس خاندانی معاملات سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ اجنبی شخص کو ساتھ بٹھا کر کہتے ہیں ڈی پی او سے بات کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ اس چیز کو قبول نہیں کیا جاسکتا چیف جسٹس نے کہا کہ احسن جمیل آج جھک کر کھڑے ہیں پہلے دن اکڑ کر کھڑے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا خیال تھا مانیکا فیملی کے ساتھ ان کے گہرے مراسم ہیں ہم نے کرامت کھوکھر اور ندیم عباس بارا کو معافی دی۔ اب معافی نہیں دیں گے سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت ایک ہفتہ تک ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ