ماٹرنگ پالیسی پر ردعمل اسٹاک مارکیٹ میں مندی،5ارب کا خسارہ

173

کراچی : اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعلان کردہ مانیٹری پالیسی پرپاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے منفی ردعمل دیاہے،پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس 41ہزار پوائنٹس کی حد کو چھونے کے بعد 40900پوائنٹس کی کم سطح پر مندی کے رجحان کیساتھ بند ہوا

جبکہ مارکیٹ میں سرمایہ کارو ں کے5ارب روپے بھی ڈوب گئے جس کی وجہ سے سرمائے کا مجموعی حجم 84کھرب رو پے سے گھٹ کر 83کھرب روپے پر آگیا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کاروبار کا آغاز تیزی کیساتھ ہوا ،بینکنگ ،فوڈز اور کیمیکل سمیت دیگر منافع بخش شعبوں میں سرمایہ کاری کے باعث ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 41029پوائنٹس کی نئی سطح کو چھو گیا تھا مگر اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ایک فیصد یعنی 100 بیسس پوائنٹ کے اضافے پرمقامی انسٹی ٹیوشنز اور بروکریج ہاؤسز کے خدشات نے مارکیٹ کو مندی کی جانب دھکیل دیا ۔

مارکیٹ میں مندی کے رجحان پر سینئر معاشی تجزیہ نگار اور عارف حبیب کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر احسن محنتی نے کہا کہ مارکیٹ نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعلان کردہ مانیٹری پالیسی پر منفی ردعمل دیاہے۔ پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ کا مارکیٹ پر منفی اثر ہوا۔پالیسی ریٹ کے علاوہ مارکیٹ حکومت کی معیشت کے بیرونی سطح پرعدم توازن کو فیکس کرنے کے بارے میں کنفیوز پالیسی بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر یا ادائیگیوں کے عدام توازن کے ممکنہ بحران سے نمنٹنے کے لیے کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آرہی ہے۔

حکومت نے ابھی تک واضح نہیں کیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جائے گی کہ نہیں جس کی وجہ سے معاشی خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور چھوٹ سرمایہ کار سرمائے کے انخلاء کو ترجیح دے رہے ہیں۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس میں69.15پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے انڈیکس40998.59پوائنٹس سے کم ہو کر40929.44پوائنٹس ہو گیا اسی طرح31.75پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای30انڈیکس 19886.04پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس29944.47پوائنٹس سے کم ہو کر29920.99پوائنٹس ہو گیا ۔کاروباری مندی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں5ارب50کروڑ49لاکھ46ہزار705روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی

جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 84کھرب2ارب81کروڑ81لاکھ 11ہزار550روپے سے کم ہو کر83کھرب 97ارب 31کروڑ31لاکھ 64ہزار845روپے ہو گیا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو 3ارب روپے مالیت کے10کروڑ62لاکھ 59ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ گذشتہ جمعہ کو 6ارب روپے مالیت کے14کروڑ59لاکھ 10ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو مجموعی طور پر366کمپنیوں کا روبار ہوا جس میں سے117کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،222میں کمی اور27کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔کاروبار کے لحاظ سے بینک آف پنجاب 2کروڑ11لاکھ ،یونٹی فوڈز لمیٹڈ 1کروڑ49لاکھ ،پاک الیکٹرون 40لاکھ2ہزار ،اینگرو پولیمر 38لاکھ32ہزار اور ڈیسکون آکس چیم 34لاکھ43ہزار حصص کے سودوں سے سرفہرست رہے ۔

قیمتوں میں تیزی کے اعتبارسے رفحان میظ کے حصص کی قیمت میں349.00روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے اس کے حصص کی قیمت بڑھ کر7569.00روپے ہو گئی اسی طرح79.55روپے کے اضافے سے اسلینڈ ٹیکسٹائل کے حصص کی قیمت1705.99روپے ہو گئی جبکہ یونی لیور فوڈز اور کولگیٹ پام کے حصص کی قیمتوں میں بالترتیب365.00روپے اور99.89روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے بعد یونی لیور فوڈزکے حصص کی قیمت گھٹ کر6935.00روپے اور کولگیٹ پام کے حصص کم ہو کر2300.11روپے پر آ گئی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com