تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کی پابندی پر عملدرآمد کا حکم

201

لاہور ہائی کورٹ نے تعلیمی داروں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر پابندی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے پنجاب بھر میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی دائر درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے صوبے بھر کے تعلیمی داروں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر پابندی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی نہیں کی جاسکتی۔

جسٹس علی اکبر قریشی کا کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری پنجاب آج ہی میٹنگ کر کے پابندی کے حوالے سے کل تک اداروں کو نوٹسز جاری کریں۔عدالت نے ڈی جی سوشل ویلفیئر کو بھی کل طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی کی جاتی ہے، تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی غیر قانونی ہے اور اس کا بچوں کی صحت برا اثر پڑتا ہے جبکہ سرکاری دفاتر میں اس سے بیماریاں پھیل رہی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں‍ میں سگریٹ نوشی نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنا رہی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی پر پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا حکم دے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ