عورت اور اردو زبان

111

 

 

ڈاکٹر رئوف پاریکھ

شہرت کے معاملے میں شاید کتابیں بھی انسانوں کی طرح ہوتی ہیں ۔ انسانوں ہی کی طرح کوئی کتاب بلا وجہ مشہور ہو جاتی ہے اور اسے بقائے دوام نہیں تو شہرت عام ضرور مل جاتی ہے جبکہ کچھ کتابیں جو شہرت اور مقبولیت کی پوری طرح حق دار ہوتی ہیں وقتی یا عارضی نیک نامی حاصل کرنے کے بعد گوشہ گمنامی میں غروب ہو جاتی ہیں ۔ وحیدہ نسیم کی کتاب’’ عورت اور اردو زبان‘‘ کتابوں کی دوسری قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔
تحقیق و جستجو اور علمی شان کے ساتھ ساتھ دلچسپی و دل بستگی کا سامان رکھنے کے باوجود یہ کتاب وہ توجہ اور مقبولیت حاصل نہ کر سکی جس کی یہ مستحق تھی ۔ جانے کیوں؟ اگرچہ اس کی مصنف جو معلمہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناول نگار ، افسانہ نویس اور شاعرہ بھی تھیں ، اپنی زندگی ہی میں شہرت پا گئی تھیں اور ان کا نام اب بھی احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کی علمی و ادبی و تعلیمی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ان کی دیگر کتابوں کے مقابلے میں اس کتاب کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی وہ یقیناً حق دار تھیں اور ان کی شہرت کی بنیادی وجہ یہ کتاب نہیں تھی ۔
وحیدہ نسیم کی یہ کتاب اپنے موضوع پر غالباً واحد با قاعدہ مبسوط تصنیف ہے اس کی ابتدا ایک مضمون سے ہوئی تھی اس کو انہوں نے مولوی عبدالحق صاحب کے کہنے پر کتابی شکل دی ۔ عورتوں کی زبان اور محاوروں پر تحقیق و تدقیق اور با قاعدہ اسناد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہوں نے عورتوں کے مخصوص الفاظ و محاورات پر مبنی ایک لغت بھی مدوّن کی ۔ افسوس کہ بابائے اردو کی وفات کی وجہ سے یہ تصنیف شائع نہ ہو سکی البتہ رسالے ’’ انتخاب نو‘‘ میں اس کا ابتدائی حصہ( بغیر لغت کے ) چھپ گیا لیکن اس سے پہلے موصوفہ کو اس کی اشاعت کے لیے کتنے ابی بت کدوں کے در کھٹکھٹانے پڑے اور کتنے ادبی وڈیروں کے نا پید جذبۂ ترحم کو صدا دینی پڑی اس کی تفصیل ان ہی کی زبانی اس کتاب میں پڑھیے گا ۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ بھارت میں تو اس کتاب کو اس رسالے سے اٹھا کر کتابی صورت میں شائع کر دیا گیا لیکن پاکستان میں اس کا وہی حال ہوا جو ہم با ذوق پاکستانی عموماً’’ علمی کاموں میں کرتے ہیں ۔ یعنی اس کی اشاعت 1979ء سے پہلے ممکن نہ ہوئی ۔(1993ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے ۔ )
جوش ملیح آبادی جیسے زبان دان نے اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ’’ یہ کتاب ارباب اردو پر ایک احسان ہے ۔ ایسا احسان جس کی قدرو منزلت ماہ و سال کی گردش کے ساتھ رو بروز بڑھتی جائے گی ۔ ‘‘
اس کتاب کے آخر میں شامل لغت نے اس کتاب کی اہمیت اور قدرو قیمت دو چند کر دی ہے ۔
البتہ اس کا موضوع اس قدر طویل اور پیچیدہ ہے کہ زبان’’ محاورہ‘‘ لباس اور زیورات کی تشریح میں اختلاف ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کتاب ، اس کی لغت اور دیگر تشریحات کو پڑھتے وقت یہ نہ بھولیے گا کہ برصغیر پاک و ہند( یہاں مصنفہ نے ’’ برصغیر ہندوستان‘‘ کے الفاظ نجانے کیوں استعمال کیے ہیں ۔ ایک کثیر اللسانی علاقہ ہے جہاں ہر صوبے کی زبان اور لب و لہجہ الگ الگ ہے اور ہاں جہاں بھی بولی جاتی ہے پر وہاں کی علاقائی زبان کی چھاپ ضرور ہے ۔ جس کے تحت ہر صوبے بلکہ بعض مرتبہ ایک ہی صوبے کے مختلف ضلعوں میں عورتوں کی زبان اور محاوروں میں اختلاف ہے ۔‘‘
اب آیے کتاب پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ مصنفہ نے بحث کا آغاز یہاں سے کیا ہے کہ زبان ہمیشہ مادری ہوتی ہے ۔ کبھی پدری نہیں ہوتی ۔ گویا عورت کا زبان سے تعلق ، چاہے وہ اردو ہو یا کوئی اور زبان ، بہت گہرا ہے بلکہ بعض الفاظ عورتوں کی لغت و محارے کے ایسے ہوتے ہیں جن کا مفہوم مردوں کومعلوم نہیں ہوتا بلکہ عورتوں کے بعض مخصوص الفاظ کی تو مردوں کو ہوا تک نہیں لگتی ۔
اصل میں عورتوں کی زبان اور محاورے چند در چند وجوہ کی بناء پر مردوں سے مختلف اور بعض صورتوں میں بالکل الگ ہوتے ہیں ۔
دوسرے باب میں وہ تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کرتی ہیں کہ اردو زبان کی تشکیل اور ارتقاء کے ہر دور میں عورت کا کردار نمایاں رہا ہے ۔ تیسرے باب میں انہوں نے بتایا ہے کہ مغل بادشاہوں اور ہندو رانیوں کے ’’ ملاپ‘‘ سے عورتوں کی زبان’’ پیدا‘‘ ہوئی ۔ ( اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ) اگلے ابواب میں انہوں نے عورتوں کے ’’ ایجاد کردہ‘‘ الفاظ عورتوں کی زبان پر معاشرت کے اثرات ، عورتوں کی زبان میں طنز و مزاح اور عورتوں کے ہاتھوں تبدیل ہونے والے الفاظ کا ذکر کیا ہے ۔
یہ سارا کام بہت محنت ، باریک بینی اور ذہنی کاوش کا نتیجہ ہے۔ اس میں محترمہ وحیدہ نسیم نے بعض ایسے الفاظ بھی لکھے ہیں جو شاید اردو کی کسی لغت میں نہ مل سکیں مگر انہوں نے اپنے خاندان کی بڑی بوڑھیوں سے سنے اور اس کے مفہوم اور محل استعمال کے تعین کے بعد انہیں پیش کر دیا ۔ ہماری نا چیز رائے میں اب یہ الفاظ اردو کی مستند لغات میں شامل ہونے چاہیے ۔ البتہ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس لغت پر حیدرآباد دکن اور دکنی اردو کے اثرات زیادہ ہیں جو قطعی فطری بات ہے ۔ اس کتاب سے کچھ جستہ جستہ نکات:
٭بہت سے محاورات اور ضرب المثال باورچی خانے سے نکل کر کتب خانوں تک پہنچے ہیں ۔ مثلاً سات توئوں سے منہ کالا( یعنی کمال رسوائی و بدنامی) جو ہانڈی میںہوگا ڈوی میں نکل آئے گا ) یعنی جو بات پس پردہ ہے ظاہر ہو گی )، آٹے کی آپا(سادہ لوح عورت) وغیرہ ۔
٭ عورت کی زبان میں ایسے محاورے و الفاظ ہیں جن کے مترادف ملنا مشکل ہیں ۔ مثلاً الکسانا، تتھو تھمبو کرنا ، اٹنگا، ڈھیلا( برتن ڈھالنے والا)، انگھڑ کھنگھڑ(کاٹھ کباڑ)۔
٭ اس کے بر عکس کچھ الفاظ ایسے ہیں جن سے عورتوں کے نزدیک مفہوم ادا نہیں ہوتا لہٰذا ان کی جگہ وہ بعض مخصوص الفاظ بولتی ہیں جیسچ پیٹ پونچھنا(آخری اولاد)، سوارت( اکارت کی ضد)، چگ چھوٹا( پچھتاوا) ،تانتا پواڑا( کچا چٹھا)۔
٭ بعض کیفیات کو ظاہر کرنے کے لیے کئی الفاظ ہیں مثلاً رونے کے لیے سات آٹھ الفاظ دیے ہیں جیسے ٹہوں ٹہوں رونا، بلک بلک کر رونا ، نس نس کر رونا ،ٹھس ٹھس رونا ، ٹسوے بہانا ، چہکوں پہکوں رونا ، دھاروں دھاروں رونا ، آٹھ آٹھ آنسو رونا وغیرہ ۔ ( یہ شاید اس لیے بھی ہے کہ عورتیں رونے دھونے کی ’’ ماہر ‘‘ ہوتی ہیں)
٭ اس کتاب کا ایک بہت اہم باب وہ ہے جس میں مصدر سے اسم اور صفت یا اسم سے مصدر اسور اسم سے فاعل بنانے کا ذکر ہے ۔ صفت یا اسم سے مصدر بنانے کی مثال کے طور پر دیکھیے گدر سے گدرانا ، کیچڑ سے کیچڑانا ، تجویز سے تجویزنما ، پیتل سے پتلانا… وغیرہ ۔
٭ عورتوں نے بعض الفاظ کے معنی اور بعض کا تلفظ بدل دیا ہے ۔ مثلاً لفظ’’ نوج‘‘عورتوں میں عام ہے۔ اصل میں یہ ’’ نعوذ باللہ‘‘ کی ایک شکل ہے اور’’خدانخواستہ‘‘ کے معنوں میں مستعمل ہے ۔ اسے اظہار تنفر یا کلمۂ نفی کے طور پر بھی برتا جاتا ہے ۔
٭ بعض اوقات عورتوں کی کم فہمی اور لا علمی نے بھی نئے الفاظ بنائے ہیں مثال کے طور پر مغروری(غرور)، کان گوشی(گوش مالی)ناموسی (بدنامی)، نہار پیٹ( خالی پیٹ؟)
٭ عورتوں کی روایتی توہم پرستی اور شرم انہیں بعض الفاظ کے استعمال سے روکتی ہے ۔ چنانچہ ایسے موقعوں پر اشارے کنائے میں بات ہوتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ کچھ نئے لفظ بن گئے مثال کے طور پر اجلی( بعمنی دھوبن کیونکہ دھوبن ایک سیاہ چڑیا کو بھی کہتے ہیں جو جادو ٹونے میں کام آتی تھی )‘ اوپر والیاں( بمعنی پریاں ۔ مبادا نام لینے ہی سے سایہ ہو جائے)‘ ان گنا مہینہ( حمل کا آٹھواں مہینہ منحوس سمجھا جاتا تھا لہٰذا اسے نہیں گنا جانتا تھا)، رسی( سانپ)‘ آس والی( بمعنی حاملہ)‘ اندر والا( جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہو)، آنچل دبانا( نو زائیدہ بچے کا دودھ پینا)، چھوٹے کپڑے(ظاہر ہے )، اس آخری لفظ سے آگے وہ معاملات شروع ہوتے ہیں جن کے لیے کنائے بھی نا مناسب سمجھے جاتے تھے ۔ چونکہ یہ کتاب بھی ایک خاتون کے قلم سے ہے لہٰذا اس سے زیادہ کی توقع رکھنا بھی بد تہذیبی ہے ۔ البتہ چند کنائے جو قریب قریب’’ خفیہ زبان‘‘ بن گئے ہیں ، یہ ہیں صحنک سے اٹھ جانا ، خبر ہونا ، دن آنا ، پیالہ بہنا ، دن ٹلنا ، میلے سر سے ہونا ، اٹکنا ، خاموشی یا خاموشیاں ، کسم کا آزار ، صندل گھسنا( یہاں ذہن سلینگ کی طرف جاتا ہے ۔
در حقیقت یہ عورتوں کا سلینگ ہے)
٭ عورتوں کی زبان میں جو مخصوص محاوے یا الفاظ ہیں ان کا مخصوص استعمال ہے وہ طنز یا مزاح کا بھی پہلو رکھتا ہے ۔ اس کا ایک طریقہ اسماء کی تصغیر یعنی چھوٹا بنانے کا طریقہ ہے ۔ مثلاً چھوٹی پوٹلی کو پوٹلیاں کہنا ، جی کو جیوڑا کہنا ، ذرا سے روپوں کو روپلی کہنا ، کلیجے کو کلیجوا کہنا وغیرہ ۔ اسی طرح عورتوں کی زبان میں بعض الفاظ طنزاً یا مزاجاً استعمال ہوتے ہیں جیسے ننھا چھٹولنا( نا سمجھی کی باتیں کرنے والا)، نو لکھا ہار پہنانا ( ذلیل کرنا یا جوتیوں کار ہار پہنانا)، پھول سونگھ کر جینا( کم کھانے کا ڈھونگ رچانا)، نیک بخت(یعنی کم بخت)، تڑخ تڑخ نور برسنا(بد صورت عورت کے لیے ) ، خالہ کی خل بچی یا نند کانندوئی( جس سے کوئی رشتہ نہ ہو)
٭عورتوں نے بعض مشکل الفاظ کی جگہ آسان الفاظ گھڑ لیے ایسے ہیں مثلاً صفر کے مہینے کے لیے تیرہ تیزی ربیع الاول کے لیے بارہ وفات، ربیع الثانی کے لیے گیارہویں ، ذی قعد کے لیے ’’خالی‘‘ سہ ماہی کے لیے تماہی، ششماہی کے لیے چھ ماہی ، وغیرہ ۔
قارئین کو ان مثالوں سے کچھ اندازہ ہو گا کہ یہ کیسی دلچسپ اور قابل مطالعہ کتاب ہے لیکن اب تک عام قارئین کی نظروں سے اوجھل ہے اور جھوٹ کیوں بولیں خودہم بھی اس کے وجود سے نا واقف تھے ۔
محترمہ وحیدہ نسیم کی وفات پر انجمن ترقی اردو نے ان کی یاد میں ایک چھوٹی سی محفل کا انعقاد کیا ۔ اتفاق سے ہم بھی وہیں موجود تھے ۔
مقررین مرحومہ کی شخصیت اور تصانیف پر اظہارِ خیال کر رہے تھے ۔ صدر محفل جناب ڈاکٹر فرمان فتح پوری صاحب( اپنے علمی مزاج اور لسانیات سے دلچسپی کی وجہ سے ) فاس کتاب کا بطور خاص ذکر کیا ۔ تب اس مرد ناداں کو اس کتاب کا پتا چلا ۔ بہت عرصے تک اس کی تلاش میں رہے ۔ بالآخر بہادر یار جنگ اکادمی کے توسط سے ہاتھ آئی اور اگر یہ نہ ملتی تو…؟ اس بات پر شاید یہ کہا جائے کہ ’’ اوئی نوج بوا! کیا زبان کا ٹانکا ٹوٹ گیا ہے؟‘‘

Print Friendly, PDF & Email
حصہ