بچوں کو موبائل کا عادی نہ بنائیں

78

 

 

’’ میں بہت سارے بچوں کو جانتی ہوں جو سوشل میڈیا ایپ’’ میوزیکل‘‘ کو استعمال کرنا بہت پسند کرتے ہیں خود میری چھوٹی بیٹی اس کو بہت شوق سے استعمال کرتی تھی اور اپنے آپ کو سپر اسٹار سمجھتی تھی مگر اب نہیں اور میں اس بات سے بہت مطمئن ہوں‘‘ یہ تاثرات ایک مغربی ماں کے ہیں ۔ آیے اب ہم آپ کو بتائیں کہ اس ایپ میں آخر ایسا کیا ہے جو انگریز والدین نے بھی اس کے استعمال کو اور اس ایپ کے اپنے بچوں میں بڑھتے ہوئے رجحان کو خطرناک قرار دے دیا ہے ۔ اس سے پہلے میوزیکل ایپ کا مختصر سا تعارف ہم آپ کو بتاتے چلیں ۔
میوزیکل اصل میں ایک سوشل میڈیا ایپ ہے جو کہ آپ مفت میں اپنے اینڈرائیڈ فونز میں ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں ۔ یہ ایپ دو امریکن دوستوں ایلکس زو اور لوینگ نے اگست 2014ء میں بنائی اور اب اس ایپ کو چار سال ہو چکے ہیں ۔ اس ایپ میں آپ اپنی ویڈیو بنا کر جس میں آپ کسی بھی گانے پر ہونٹ ہلا کر ایکسپریشنز دے کر ، ڈانس کر کے یہ ثابت کریں کہ یہ گانا آپ نے خود گایا ہے ۔ پھر آپ اس پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو کو آپ کسی بھی سوشل سائیڈیا ایپ جیسی یو ٹیوب ، ٹیوٹر پر ڈال سکتے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آپ اپنی ویڈیو کو نکھارنے کے لیے اس میں جدت پیدا کرنے کے لیے اس میں مختلف فلٹرز اور ایفیکٹ ڈال سکتے ہیں ، اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کے ماحول کو نکھار سکتے ہیں ، میوزک موسیقی کو آہستہ اور تیز پیڈ میں چلا سکتے ہیں اور پھر اسے میوزیکل ایپ کے ذریعے انٹر نیٹ پر ریلیز کر سکتے ہیں جس پر لوگ آپ کی بنائی ویڈیو دیکھیں گے ، آپ کو پسند کریں گے ، آپ کو دوست بنائیں گے اور آپ بیٹھے بیٹھے مشہور ہو جائیں گے ، میوزیکل ایپ اس وقت دنیا میں دو سو ملین لوگ استعمال کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے ۔ یہ ایپ تیرہ سال کے بچے استعمال کر سکتے ہیں اور موسیقی ، اداکاری کا شغف رکھنے والے بچے اس ایپ کو ویڈیو گیمز کی طرح کھیلتے نظر آتے ہیں ، آیے اب جانتے ہیں کہ اس ایپ کے بے جا استعمال سے بچوں میں کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔
مغرب میں اس ایپ کا استعمال بچوں میں بہت بڑھ چکا ہے اور والدین بچوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ یہ ایپ استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ذاتی معلومات جیسے نام ، پتہ نہیں بتائیں ، گالیوں اور فحش زبان( جیسا کہ گانوں اور فلموں کے ڈائیلاگ میں عام ہے ) استعمال نہ کریں چاہے ان گانوں اور ڈائیلاگ پر صرف ہونٹ ہی کیوں نہ ہلا رہے ہوں ، اپنا اکائونٹ پرائیویٹ رکھیں ، اپنے اصل نام سے استعمال نہ کریں ،د وست بنانے سے پہلے اپنے والدین سے پوچھیں مگر اس کے باوجود بچے یہ ایپ استعمال کرتے ہوئے بچوں کا گزر غلط چیزوں سے ہو جاتا ہے ، بچوں کی معصومیت ان سے چھن رہی ہے وہ اپنی عمر سے بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کو ایسے پیغامات بھی بھیجتے ہیں جن کا مطلب وہ خود نہیں سمجھ پاتے ۔ بچے اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کی ڈالی ہوئی ویڈیوز بھی دیکھتے ہیں جن میں ہر طرح کی ویڈیوز موجود ہیں اور آپ بچوں پر ہر وقت نظر نہیں رکھ سکتے کہ وہ کس طرح کی ویڈیوز دیکھ رہے ہیں ۔
اس ایپ کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ بچے ویڈیوز بناتے ہیں اور دوسرے اس کو لا ئیک کرتے ہیں اس چکر میں وہ بہت سے ایسے کام کر جاتے ہیں جو انہیںنہیں کرنے چاہیے ۔ مثال کے طور پر گانے پر ایکٹنگ کرتے ہوئے غلط اشارے کرنا، ڈانس کرنا ، گندی مثالیں دینا اور غلط طریقے کے لطیفے سنانا ،مشہور ہونے کا شوق ان سے بہت کچھ کرا لیتا ہے ۔CBC2 نیوز چینل کے مطابق والدین نے بتایا کہ ان کے بچوں نے جب اس ایپ کو ڈائون لوڈ کرنے کی فرمائش کی تو والدین نے معلوم کیا کہ یہ ہے کیا چیز اور والدین کے مطابق ان کا گزر اتنی غلط طرح کی ویڈیوز سے ہوا جن کو وہ اپنے دیکھنے کے قابل نہیں سمجھتے تو وہ بچوں کو کیسے اجازت دیتے ، یہ تاثرات مغربی والدین کے ہیں اس ایپ کے حوالے سے ۔
ایک امریکن بلاگر (Bloger) اینیسٹاشیابیسل نے اپنے انٹر ویو میں کہا کہ ’’ پورن کے علاوہ کئی طرح کی خطرناک چیزیں اس ایپ میں پائی جاتی ہیں۔‘‘
اس سے مراد ان کی یہ تھی کہ کچھ لوگ اس ایپ میں ایسے خطرناک ویڈیوز بھی ریلیز کرا دیتے ہیں جس میں وہ خود پر تشدد کر رہے ہوں یا خود کشی کر رہے ہوں ۔
کرس میکنا حوک بچوں کی ایک NGO کی ہیڈ ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایپ سب سے زیادہ تیرہ سے بیس سال تک کی عمر کی لڑکیاں استعمال کر رہی ہیں اور ایپ کوششس کر کے خراب ویڈیوز کو بلاک کرتی ہے مگر لوگ مختلف ہیش ٹیگ کے ساتھ وہی ویڈیوز بار بار اپ لوڈ کر دیتے ہیں جس سے ان کو پکڑنا آسان نہیں ہوتا ۔ یہ اسی طرح ہے کہ آپ لوگوں سے بھری دنیا میں چور کو ڈھونڈ رہے ہوں ۔ کرس میکنیا کے مطابق والدین کو والدین بنتے ہوئے بچوں کو نہیں(NO) کہنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے بچوں کے لیے سب سے زیادہ محفوظ جواب ہے اسی طرح نیوز پیپر ہیرالڈ کے مطابق ایک ماں نے شکایت کی کہ ان کی بچی کو کوئی اجنبی دوستی کا پیغام بھیج کر زور دے رہا ہے کہ وہ اس سے دوستی کرے کیونکہ وہ مشہور موسیقار جسٹن بیبر ہے ، یہ تو مغربی دنیا کا حال تھا ، مشرق میں بھی یہ ایپ ان چار سال کے عرصے میں بہت عام ہو چکی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں یہ ایپ صرف بچوں میں ہی نہیں بڑوں میں بھی بہت مقبول ہے ، والدین اسے اپنے اپنے موبائیلز میں ڈائون لوڈ کرتے ہیں اور ویڈیوز بناتے ہیں جن سے ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی مستفید ہوتے ہیں اور کچھ لوگ تو شوق کے عالم میں اپنے بچوں سے بھی گانوں اور موسیقی میں ڈانس اوراداکاری کرا کر ویڈیوز بنا کر اسے اپ لوڈ کر دیتے ہیں ان کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کتنے غلط طرح کے لوگ ان کے بچوں کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے گھر کی اندرونی معلومات حاصل کر رہے ہیں ۔
سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ایپ جن دو افراد نے بنائی انہوں نے شروع میں ایک ایسی ایپ بنانے کا آئیڈیا دیا تھا جس میں لوگ تعلیم کی ویڈیوز بنائیں تاکہ بچوں میں تعلیم عام ہو ، لوگ مختلف مضامین میں سبق دیں ، بچے ویڈیوز بنا کر ایک دوسرے کو مختلف اسباق سمجھائیں مگر افسوس کہ ان کے اس آئیڈیے کو پذیرائی نہ مل سکی اور ان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ انٹر نیٹ کی دنیا میں کچھ کریں جس پر انہوں نے اپنی ایپ کا آئیڈیا تبدیل کر کے تعلیم سے موسیقی کر دیا ۔ ہمارے لیے یہ شرم کا مقام ہے کہ ایک تعلیمی ایپ مشہور نہ ہو سکی ۔ والدین کو سخت ہدایت ہے کہ وہ یہ ایپ اپنے موبائل فونز میں اپنے لیے یا اپنے بچوں کے لیے ہرگز ڈائون لوڈ نہ کریں اور بچوں پر سخت نظر رکھیں اور انہیں موبائل فونز کا عادی نہ بنائیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ