مدفون کلیاں

66

 

نصرت یوسف
بارش چھاجو چھاچھ برس چکی تھی، بادل کے سوراخوں سے آنے والی دھوپ کی ٹکیاں جگہ جگہ بکھری تھیں، چھجے پر بیٹھے کبوتر غٹر غوں کرنا شروع ہو چکے تھے. ایسے میں اسکول سے لمحوں پہلے لوٹی سات سالہ ننھی نے پلنگ پر لیٹ کر پڑوس کے ریڈیو سے آنے والی
موسیقی کو توجہ سے سنتے آنکھیں مونند لیں، ہر روز دیوار پار سے آتی یہ آواز اسکے اندر پھلجھڑیاں سی چھوڑتی، نیلی پیلی لال،ہری
تیز رنگ!
ہلکے رنگ!
نرم رنگ!
چبھتے رنگ!
ایسے رنگ برنگی دھنک تو اور کبھی نہیںاترتی تھی
اسکے لب بے اختیار ان بولوں کو دہراتے اسے سلا دیتے.
“ابھی تک اسکول یونیفارم نہیںبدلا! ”
“دو دن سے پہلے ہی کیچڑ کر لے گی”
ماں کی آواز نے اسکو جگا دیا، بے اختیار پڑوس کی دیوار کو دیکھتے وہ اٹھ گئی، پلنگ سے جڑی کھڑکی پر پانی کی بوندیں ایسے لٹکیں تھیں جیسے وہ دروازے کی چوکھٹ کو اچھل کر لٹکنے کی کوشش کرتی تھی، اسنے انگلی سے ان بوندوں کو جھٹک کر گانے کے بول دہراتے سامنے رکھے کپڑوں کے ڈھیر سے اپنا جوڑا تلاش کرنا شروع کردیا.
کپڑے بدل کر وہ ماں کے پاس آگء، جو پیڑے بیلتی پھولی پھولی روٹی بنا رہی تھی.
“امی کل فیس دے دینا، اس چڑیل نے مجھے آج بھی تھپڑ مارا تھا” . ماں نے لمحہ بھر کو چمٹے سے روٹی پلٹتے بیٹی پر نظر ڈالی جو اب آٹے کے پرات میں انگلیاں چلاتی گنگنا رہی تھی،
ان سے ملی نظر تو میرے ہوش اڑ گئے
ایسا ہوا اثر کہ میرے ہوش اڑ گئے
جب وہ ملے مجھے پہلی بار
ان سے ہوگئیں آنکھیں چار
پاس نہ بیٹھے پل بھر وہ
پھر بھی ہو گیا ان سے پیار
نہ جانے کیا ہوا، ماں کے ہاتھ ساکت ہو گئے، خلاف معمول اسنے ننھی کو گھرکا بھی نہیں، کسی سحر ذدہ کی مانند وہ اسکو دیکھتی رہی،سنتی رہی نہ جانے کیسے سیل سے پھولتی دیواریں اس آواز کے ساتھ اسے ہموار ہوتی لگنے لگیں، بیلن کے نیچے دبی گول سی روٹی اڑتی گرم توے پر جا بیٹھی اور گھی کے خالی ڈبے سے چمچ بھر گھی روٹی پر پھسل گیا، وہ گاتی رہی اور سوندھی روٹیاں چنگیر میں آتی گئیں.
آہ کیا خوشبو تھی، جو مدت بعد اس گھر میں پھیلی تھی، آج نہ گھر کے پچھواڑے میں بہتے نالے کے بھپکے تھے اور نہ دل خراش سوچیں.
یکا یک ننھی چپ ہو گء اور طلسم ٹوٹ گیا.
اس نے بے اختیار بیٹی کی بانہیں تھام لیں، کیوں چپ ہوگئی، اور گا! ننھی سیاہ آنکھوں میں خوف ابھر آیا، اسے ماں کی بات سمجھنے میں دقت تھی، یہ عتاب ہے کہ رحمت، وہ سمجھ نہ سکی.
دیکھ ہر طرف کتنا اجالا تیری آواز سے، وہ بے اختیار دائیں بائیں بانہیں پھیلاتی بے خود سی کھڑی ہو گئی، دیکھ میرے کپڑے، دیکھ تیرے کپڑے، دیکھ یہ گھر سب کتنا سنہرا ہو چکا ہے،
ننھی نے ماں کو خوفزدہ نظروں سے دیکھا، ماں اسے محلے میں موجود شاتو سی لگی جسے اسکی بوڑھی ماں ہاتھ گاڑی میں لیے پھرتی تھی. وہ بھی وہ باتیں کرتا تھا جو نہ ہوتی تھیں.
ماں نے ہی بتایا تھا جو بھی وہ باتیں کرے جو نہ دکھیں وہ پاگل ہوتا ہے اور پاگل سے بچ کر رہنا چاہیے.
“تو کیا ماں میرا گانا سن کر پاگل ہوگئی؟”
وہ سہمی سی دیوار سے لگ گئی، بھوک سے اسکے پیٹ میں ایٹھن سی تھی، لیکن ماں نے کام ادھورا چھوڑ کر جست کے بڑے سے صندوق میں کچھ تلاش کرنا شروع کردیا تھا،
دونوں بھائی بھی اسکول سے آچکے تھے اور روٹی کے منتظر تھے.
دونوں نے کئی بار ماں کو پکارا لیکن اس نے سنا ہی نہیی وہ ایسی تو نہ تھی، وہ تو بہت خیال اور محبت کرنے والی تھی.
ننھی نے اپنے سے بالشت بھر اونچے بھائیوں کو بھوک سے بے تاب دیکھا تو جھجکتے سرگوشی کی،
” شاتو جیسی ہوگئی ہے”
ایک نے اسکی بات سن کر فورا ہی تھپڑ جڑ دیا تو وہ سسکیاں بھرنے لگی.
ماں نے اسکی آواز سن کر پلٹ کر دیکھا، اسکے ہاتھ میں سفید رنگ کا فراک تھا، جس پر جالی کے سرخ گلاب بنے تھے، وہ رونا بھول کر بے اختیار ماں کی جانب بڑھی،” یہ کس کا ہے؟” ننھی کے لبوں سے شوق بھرے لفظ نکلے.
ماں نے فراک اسکی جانب بڑھایا جسے تھامتے اسنے اسے سینے سے لگا لیا.
“آ چل کھانا کھا! “بچوں کو کھانے کا اشارہ کرتی ماں اسے پھر عجیب سی لگی.
چنگیر سے روٹیاں اور ہانڈی سے ترکاری نکالتے ماں نے جانے کیوں ننھی کو چوما جو بدستور سراسیمہ تھی،
وہ فراک تو رکھ آئی تھی مگر بھوک بھی جیسے فراک پر جا بیٹھی تھی.
“کیا امی میرے گانے سے شاتو بن گئی “؟
وہ پھر سوچ میں تھی،
سفید فراک بڑا حسین تھا، وہ اس رات جاگ کر یہ ہی سپنے دیکھتی رہی کہ وہ اس سفید فراک کو پہن کر باغ میں جھولا جھول رہی ہے، باغ جہاں سیلن کی بو نہیں تھی اور نالے کا کالا پانی بھی نہیں.
سفید اور لال پھول ہر طرف تھے، اس نے ایک پھول توڑ کر ماں کے بالوں میں اٹکایا تھا، ابو بھی ساتھ تھے، اور بھائی بھی،
ایک سفید فراک نے جو نہ جانے کہاں سے آیا، ننھی کی آنکھوں میں سپنوں کا جہاں آباد کر رہا تھا .
سپنوں کا جہان تو اسکی ماں کی آنکھوں میں بھی آچکا تھا جہاں باغ نہ تھا بلکہ چمکتا دمکتا اسٹیج تھا اور اس کے چکنے فرش پر مضبوطی سے قدم جمائے اسکی ننھی اسی سفید فراک میں، جس پر گلاب بکھرے تھے، گاتی، سر بکھیرتی، دنیا کو اپنی آواز سے تسخیر کرتی،
اور اسکے سر سے سر دھنتی دنیا اسکے قدموں میں دولت ڈھیر کرتی ہوئی. ساری رات وہ میاں کو سر سنگیت کی عزت سمجھاتی چراغوں بھرا راستہ دکھاتی رہی، میاں کے بغیر کیسے وہ اسٹیج تک پہنچ سکتی تھی، وہی تو تھا جو حسین گائیکہ کا ڈرائیور تھا، جو اسٹیج پر آتی تو روشنیاں مانند پر جاتیں، دل تھم جاتے
“یقین کر جب اپنی بیٹی اسٹیج پر جائے گی نا، تو تیری اس چٹی چمڑی مالکن سے زیادہ جادو کرے گی، بس موقع دلا دے ایک بار”
وہ میاں کی ‘ناں’ کو’ ہاں’ میں آج رات ہی بدلنا چاہ رہی تھی، جو بیوی کی سوچ پر رتی بھر خوش نہ تھا لیکن اسکے تھکن سے چور جسم و جان میں اتنا دم بھی نہ تھا کہ وہ سر پر چمپی کرتے ہاتھوں کے جادو سے آزاد ہو پاتا، ڈھلتی رات کو وہ روشنیوں کی دنیا سے تھکا لوٹتا تو گھر میں اکثر ہی بجلی نہ ہوتی، ایسے میں ایمرجنسی لائٹ ہاتھ میں تھامتے وہ نیند میں لڑکھڑاتی اٹھتی، ہاٹ پاٹ میں رکھی روٹی اور سالن اسکے آگے رکھتی جو گھنٹوں میں ہاٹ برائے نام ہی رہ جاتا ، لیکن رات اس پہر روشنی کے ٹکرے کے ساتھ چھوٹے سے پنکھے کی ہوا میں اسکا خاموش بیٹھا وجود بھی میاں کو غنیمت لگتا، کہ رات بہت بیت چکی ہوتی اور کچھ دیر بعد جب وہ سو رہا ہوتا تو اس عورت نے بجلی آنے پر اٹھ کر کتنے ہی کام کرنے ہوتے ، بجلی نے کچھ ہی وقت میں پھر رخصت ہونا تھا، سو بورنگ کے پانی کا موٹر کھول کر پانی بھرنے سے کپڑوں کی سلائی تک آنکھوں سے نیند نوچتے وہ کام کرتی جاتی۔
بورنگ کے کھارے پانی نے اسکے ہاتھ پیر گلا دیئے تھے، لیکن شکر ہے اس کے میاں کو پانی کے نام پرمالکن نے یہ سہولت میسر کردی تھی، اب پانی تو تھا چاہے کھارا ہی سہی.
اس گھر میں کچھ سنہرا نہ تھا، نہ خواب اور نہ لباس.
زندگی اتنی سخت نہ ہوتی اگر نظام انصاف کا ہوتا، لیکن اب ان گنت انسانوں کے لیے آزمائش ہر روز ایک نیا پھاوڑا اٹھا لیتی.
ایسے میں ننھی کی آواز نے یکایک ماںکے لیے ہر منظر بدل ڈالا۔
رات کا آخری تارہ سفیدی کی چادر میں چھپا تو ماں اپنی پوروں کی نرمی سے باپ کو ساحل پر روانہ کر چکی تھی۔ وہ بیٹی کو سیپ کے بجائے دیپ بنانے پر راضی ہوا لگتا تھا.
اس رات ماں اور بیٹی دونوں کا خواب نگر خوب آباد تھا.
باپ کا ہاتھ تھامے وہ باپ کی مالکن کی چوکھٹ پر چلی گئی، ماں نے اسکو وہی سفید فراک پہنائی تھی جس پر سرخ گلاب تھے، ہر گلاب میں اسکے خواب تھے.
ننھی نے گانا شروع کیا، حسین گلابی لبادے میں ملبوس اس
اونچی گردن والی گائیکہ کی آنکھیں تحیر سے کھنچ گئیں، اسکے گرد حمائل مردانہ بازو بھی سمٹ گیا،
ایسا تو نہ تھا کہ وہ چینی کی مورت تھی، یا کوئی کومل صورت تھی، یہ بھی نہ تھا اسکے نین نشیلے تھے اور گیسو جیسے بیلے تھے ہاں کوئل سی کوک اور کٹیلے سے لب تھے، نمک جیسے رنگت میں گھلا تھا اور اسکی آواز نے سحر کر رکھا تھا، وہ گا رہی تھی، دنیا ساکت تھی، رب نے حسن کے تمام تر سر اسکی آواز میں رکھ کر اسکو دلوں میں آگ لگانے کی طاقت دی تھی…
دراز گردن کے سامنے سات برس نہ تھے بلکہ اسکا حریف وجود تھا، وہ آنے والے طوفان کو اپنی حدود میں داخلہ سے پہلے ہی چلو بھر بنانا چاہتی تھی لیکن قسمت نے طنابیں اسکے ہاتھ میں نہ چھوڑیں اور وہ جو اسکو پوجتا تھا، آج بھی وہیں تھا، وہ سات برس کی معصومیت کو سترہ برس والی کامیابیوں پر راتوں رات لے گیا.
ماں کے دیکھے سپنے سنہرے اور سنہرے ہوتے گئے، روشنیوں سے جھلملاتے فرش پر ننھی کی آواز کے ساتھ اسکے مونڈھے کے تل اور ران پر زخم کا نشان بھی سب نے دیکھا، کیمرا جب اسکے پریوں سے جوتے دکھاتا ہوا بتدریج اسکے معصوم سے چہرے تک آتا تو گانے کے ہوش ربا بول سنتے دلوں کی دھڑکن اتھل پتھل ہو جاتی.
“بے بی تم سر سنگیت کی کنجی ہو!”
اس لمحے کتنے دل اسکو سینے کے ساتھ لگانے کو بے قرار ہو اٹھتے. کتنے ہر بار اسکو ایسے بھینچتے، اسے لگتا جیسے اسکی ہڈیاں چٹخ جائینگی.
وہ کیا کہتی، وہ سب اسکے ابو جیسے لمبے لمبے تھے، اسکو ” بے بی ” کہتے اسکو تحفے دیتے تھے. انہیں اسکی آواز پسند تھی، وہ اسکو تھام کر اوپر اور اوپر لے جانا چاہتے تھے.
نوازشات کرنے والے کو کون روکتا، بس کسی کو اسکے تل پسند آتے تو کوئی ہمدردی زخم کے نشان پر دکھاتا، ننھی کا دل چاہتا وہ ان سب کو دھکا دے کر اپنے گلے میں زخم ڈال لے. اپنی رنگ برنگی فراکوں کو کہیں چھپادے جو کسی کو بھی نہ ملیں اور وہ وہی پہنے جو سر سے پیر تک اسے لپیٹ دے. ماں اسکی بات سن کر ہنس پڑی… جھلی!
“یہ دیکھ کل کیا پہننا ہے، “؟
اس نے سرخ رنگ کا جھلملاتا لبادہ نما لباس اسکے سامنے رکھا،
“کل نمی تمہیں شہزادی جیسا تیار کرنے آئے گی. بس اچھا سوچ میری بیٹی”
کل آگئی نمی بھی آگئی، وہ انسانوں کا روپ بدلنے میں ماہر تھی، اسنے اسے ایسا روپ دیا کہ اسکی آواز اور لبادہ کے سرخ رنگ نے رات کو جھومتا گاتا تو بنایا لیکن اس کی معصومیت بھی چھین لی. وہ ان جذباتی برانگیختہ بولوں کو دہراتی کتنے انسانوں کے لیے چھلکتا جام اختیار کر گئی تھی،.
اس رات نے ننھی کو ایسے پر لگا دیے تھے کہ زندگی جو اڑان بھر چکی تھی اب کہکشائیں دکھانے لگی . وہ جادو کی چھڑی بنی،ماں باپ کے لئے ننھی تھی لیکن دنیا اسکو لچکتی خوشبودار کلی سمجھ کے قریب آتی تھی، کوئی اسے ایسا ادا سمجھتا، کوئی شعاع، ننھی کی خاموش آنکھیں ان سب کی ان دیکھی سیاہیوں پر چیخنا چاہتی تھیں لیکن اسے لگتا اسے چیخنے کی اجازت نہیں ہے. ابھی تو اسکی امی رات سونا شروع ہوئی تھی، ابھی تو ابو کی پیشانی پر لکیریں سمٹنا شروع ہوئیں تھیں، ابھی تو نئی بستی آکر بھائیوں کے پیر پرانے محلہ میں پھیلی گند سے نجات لے سکے تھے، ابھی اسے تاریکی اور سیاہی جیسے ہیولوں کو برداشت کرنا تھا جو اسے ہر دم اپنے وجود سے چمٹے ہوئے لگتے تھے.
اب ہر روز نمی آنے لگی تھی، اسکے پاس ہر وقت ننھی کے لیے نیا لباس ہوتا، ننھی اب بستیوں پر چھا گئی تھی. اسکے گائے گیت دہراتے لب، اور اس جیسے لباس کی چاہ میں بیچین کلیاں ننھی کو اپناگرو مان چکی تھیں.
ہر روز ننھی کے نام ڈھیر میسجز اسکی امی کے نمبر پر آتے،
ایک رات ایک تصویر آ ئی، ننھی جیسے سرخ لبادے میں ایک کلی مسلی پڑی تھی.اسکے نرم سے چہرے پر اذیت رقم تھی.
اس نے گھبرا کر بڑبڑاتے ہوئے تصویر مٹادی، چاند بادلوں میں چھپ چکاتھا، بلیوں نے کہیں قریب سے کریہہ آواز میں رونا شروع کردیا، دور کسی شاندار رہائش گاہ کی خوابگاہ میں بیٹھا وجود بلی کو گود میں سہلاتا مختلف تصاویر لیپ ٹاپ اسکرین پر تیزی سے بدلتے مشروب کے گھونٹ بھرتا ایک تصویر پر رک گیا.
یکدم بکھرتے کانچ کا چھناکہ دور تک پھیلتا گیا، لمحہ بھر کو چونکتی نظر یں کرچیوں پر ٹھہریں اور لب پھیل گئے’’پرفیکٹ!!‘‘

Print Friendly, PDF & Email
حصہ