خاتون اوّل بشریٰ بی بی

101

میر افسر امان
پاکستانی خواتین کے سرفخر سے بلند ہو گئے جب انہوں نے خاتون اوّل بشریٰ بی بی کو یوم دفاع کے موقعے پر وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ پردے کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے شانہ بشانہ پریڈ میں دیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم وزیر اعظم عمران خان کو بھی داد دیتے ہیں کہ باوجود مغرب میں زندگی کا ایک عرصہ گزارنے کہ، اپنی بیوی کو پردے میں ساتھ کھڑا کر کے فخر محسوس کیا۔ عمران خان دین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عام طور پر ہمارے ہاں بڑے بڑے عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کچھ لوگوں کا دین کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ اگر پہلے زندگی میں دین کے ارکان پر عمل نہیں کیا تو کم از کم اپنی آخری زندگی میں دین کی طرف رجوع کرلیتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان مغربی معاشرے میں رہے۔ بلکہ اس میں رچ بس گئے۔ کرکٹ میں نام پیدا کیا۔ پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ نوجوان عمران خان کی زندگی کو آئیڈیل بناتے رہے۔ نئے نئے اقتدار میں آنے کے باوجود بھی عمران خان کا اپنی نوجوانی کی زندگی کی طرف سے ہٹ جانا، مسلمانان پاکستان کے لیے بڑی خوش آئند بات ہے۔ پاکستان کی خاموش اکثریت اپنے حکمرانوں کو ایسا ہی دیکھنا چاہتی ہے۔
عمران خان نے پاکستانیوں کی 90 فی صد خاموش اکثریت کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے، مدینہ کی کرپشن سے پاک اسلامی فلاحی ریاست کا پروگرام دیا۔ پاکستان کے عوام اس کا 71 سال سے انتظار کرتے کرتے اپنے آنکھوں کے آنسو خشک کر چکے ہیں۔ قائد اعظم ؒ کی وفات کے بعد پاکستان کے سیاست دان تو پاکستان کو سیکولرز ریاست کی طرف لے گئے۔ کبھی روٹی، کپڑا، مکان، کبھی روشن خیال پاکستان بنانے کی بے سود کوششیں کیں۔ مگر اسلام کے بابرکت نظامِ حکومت کی طرف نہ گئے۔ جس کا قائد اعظمؒ نے تحریک پاکستان کے دوران مسلمانان برصغیر سے وعدہ کیا تھا۔ جس کا خواب علامہ محمد اقبالؒ نے دیکھا تھا۔ جس کے لیے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے تحریک چلائی تھی۔ جب لاکھوں مسلمانان برصغیر نے قائد اعظم ؒ کی قیادت میں اللہ کے سامنے یہ نعرہ بلند کیا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ تو اللہ نے اپنی مستقل سنت پر عمل کرتے ہوئے، باوجود انگریزوں اور ہندوؤں کی سخت مخالفت کے، مثل مدینہ ریاست مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان طشتری میں رکھ کر مسلمانان برصغیر کو پیش کر دی۔ قرآن کی ایک آیات کا مفہوم ہے کہ ’’اگر بستیوں کے لوگ اللہ کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق عمل کرتے تو اللہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے آسمان اور زمین کے خزانے کھول دیتا‘‘ کیا مدینہ کی اسلامی ریاست اورخلفائے رشدینؓ کی حکومتوں کے دوران دنیا نے یہ منظر نہیں دیکھا تھا؟ اب اگر عمران خان اگر صدق دل سے پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے پر عمل پیرا ہے تو ہمار ا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ کا وعدہ اب بھی موجود ہے۔ اللہ زندہ جاوید ہستی ہے۔ اگر اب بھی پاکستانی عوام اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل شروع کر دیں تواللہ آسمانوں اور زمین خزانوں کو کھول سکتا ہے۔
عمران خان خوش قسمت ہیں کہ انہیں صوم و صلوۃ اور پردے والی خاتون بشریٰ بی بی شریک حیات ملی ہے۔ ہم پاکستان کی مٹھی بھر اُن خواتین سے جو موم بتی مافیا اور مغرب کے ایجنڈے پر این جی اوز بنا کر خواتین کے حقوق کے نام پرکبھی پاکستان، کبھی اسلامی شعائر اور کبھی فوج کے خلاف مظاہرے کرتی ہیں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مغرب کی نقالی اور ایجنڈے کو چھوڑ کر خاتون اوّل بشریٰ بی بی کی طرح اپنا آئیڈیل امہات المومنینؓ کو بنائیں۔ مغرب نے عورتوں کو شمع محفل بنا دیا ہے۔ مغرب نے عورتوں کے حقوق کو بُرے طریقے پامال کیا ہے۔ جب کہ اسلام نے عورتوں کو حقوق دیے ہیں۔ ان عورتوں کو چاہیے کہ اسلامی احکامات پر عمل کریں۔ ان کو بھی آخرت میں اپنے اللہ کو اپنے عمال کا جواب دینا ہے۔ اب انہیں خاتون اوّل سے مل کر پاکستان کی خواتین کے حقوق، جیسے ونی اور غیرت کے نام پر غیر اسلامی چیزوں کے خلاف اپنی آواز اُٹھانی چاہیے۔ اللہ پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنائے۔ آمین۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ