صوبائی خود مختاری کے نام پر ویلفیئر کے اداروں میں لوٹ مار ؟

78

 

تحریر
**
قموس گل خٹک

چھوٹے صوبوں کے قوم پرست اور لبرل سیاستدان صوبائی خودمختاری کی جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں بررداشت کرتے رہے۔ جبکہ مضبوط مرکز کے حامیوں اور ان کی پشت پناہ قوتوں کی طرف سے وہ غداری اور ملک دشمنی کے طعنے سہتے رہے، ہر حکمران ان قوم پرستوں کو غیر ملکی ایجنٹ کے طورپر پیش کرتا رہا مگر ملک کے سیاسی حالات کی تبدیلی نے مضبوط مرکزکے حامی سیاستدانوں کو بھی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کردیا جس کے نتیجے میں آصف علی زرداری کے دور صدارت میں اٹھارویں آئینی ترمیم پر تمام پارٹیوں نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی خود مختاری کے دیرینہ مسئلے کو حل کرادیا اور صوبائی خود مختاری کے شدید ترین مخالفین نے بھی اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیے۔ متحدہ لیبر فیڈریشن پاکستان اور دیگر لبرل مزدور تنظیموں نے ہمیشہ اس مطالبے کو منوانے کی جدوجہد کی حمایت کی۔ کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ وفاقی طرز حکومت میں صوبوں کو اختیار ات ملنے سے جہاں لسانی نفرت پھیلانے والوں کو مواقع نہیں ملیں گے وہاں عوام کو روز مرہ کے مسائل حل کرانے کے لیے صوبائی حکمرانوں سے ملنا یا ان پر دباؤ ڈالنا زیادہ آسان ہوگا۔ مگر کئی سال گزر نے کے بعد سندھ کے عوام اور مزدور طبقہ مایوسی کا شکار اور مثبت تبدیلی کی منتظر ہے ۔ بلکہ ہوا یہ کہ جس طرح کئی سیاستدان کہا کرتے تھے کہ گورے انگریزوں نے کالوں کو اپنا جانشین بنادیا کوئی عملی تبدیلی نظر نہیں آئی بلکہ بہت ساری سہولتیں جو دور غلامی میں عوام اورمزدوروطبقے کو میسر تھی وہ آزادی کے بعد ان سے واپس چھین لی گئی۔ مزدوروں کے لیے ٹریڈ یونین ایکٹ 1926بہتر یں لیبر قانون سمجھا جاتا ہے اور آزادی کے بعد بتدریج مزدور طبقے کو بدتر قوانین کے ذریعے عملاً انجمن سازی کے حق سے محروم کیا گیا ۔شعبہ صحت اور تعلیم کے محکموں میں کام کرنے والے ملازمین اور ایڈمنسٹریشن آف اسٹیٹ کے حوالے سے سرکاری ملازمین پر لیبر قوانین کا اطلاق ممنوع قرار دیا گیا اس کے علاوہ خصوصی ایکسپورٹ زون کے نام پر قائم صنعتی ایریا میں ملکی قوانین کا اطلاق ممنوع ہے اور مالیاتی اداروں کے ملازمین کو اجتماعی سودکاری کے حق سے محروم رکھ کر حکومتی ایوارڈ تک محدود رکھا گیا ۔ گوکہ ملک کی آزادی سب سے بڑی نعمت ہے مگر ہمارے ملک میں آزادی کے ثمرات صرف دولت مند طاقتور اور حکمرانوں کو ہی مل رہی ہیں ۔بالکل اسی طرح اسلام آباد کی بجائے صوبائی حکومتوں کو اختیارات ملنے سے مزدور ان حقوق سے بھی محروم ہوگئے جو اٹھارویں آئینی ترمیم سے پہلے انہیں حاصل تھے۔ جیساکہ سہ فریقی ویلفیئر اداروں سے مزدوروں کو ملنے والے مالی سہولیات صوبائی خودمختاری کے بعد عملی طورپر بالکل ہی معطل ہوگئے ہیں۔ ملک کی بڑی لیبر تنظیموں کے مسلسل احتجاج اور مطالبات کے باوجود حکومتی جھوٹے دعووں کے علاوہ صنعتی مزدوروں کو کچھ نہیں ملتا اورنہ صوبائی حکمران اس کا نوٹس لینے کو تیار نظر آتے ہیں۔سندھ اور دیگر صوبوں میں بھی پچھلے دس سال پہلے ملازمتوں کے دوران وفات پانے والے مزدوروں کی بیواؤں اور قانونی وارثوں کو ڈیتھ گرانٹ کی مالی امداد نہیں ملی اور نہ کسی درخواست گزار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ڈیتھ گرانٹ کلیم میں کون سے کاغذات کی کمی ہے تاکہ درخواست گذار اس کو ٹھیک کرواتے کیونکہ تمام درخواست گزاروں کے مطلوبہ دستاویزات مکمل ہیں مگر صرف مجاز اتھارٹی کی جانب سے یہ مالی سہولیات نہ دینے کی پالیسی پر عمل ہورہا ہے ۔اس لیے ملازمتوں کے دوران جاں بحق کارکنوں کی بیوائیں اور والدین مزدورتنظیموں کے دفاتر پر حاضر یاں دے کر ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے ذمہ داروں کو بددعائیں دے کر مایوس چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح 23اپریل2014 کو حیدرآباد ریجن کے 42ڈیتھ گرانٹ کیسوں پر کچھ دستاویزات کی کمی کے اعتراضات لگ کر سندھ بورڈ کو واپس بھیجے گئے تھے اور صوبائی بورڈ کے ذمہ داروں نے یہ 42 ڈیتھ گرانٹ کیسوں کے فائل ہی غائب کر دیے۔میں نے بار بار یہ مسئلہ اٹھایا مگر کوئی سننے والا ہی نہیں بورڈ میں مزدوروں کے نامزد نمائندوں کو مزدورمفادات سے زیادہ حکومتی ناراضگی کا خیال رہتا ہے حالانکہ اس بورڈ میں حبیب الدین جنیدی جیسے لیڈر بھی ممبر ہیں مگر وہ پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے بھرپور موقف اختیار نہیں کرسکتے غیر جانبدار مزدور رہنماؤں کو بورڈ میں مزدوروں کی جانب سے نامزد نہیں کیا جاتا جو کسی کی نتائج پرواہ کیے بغیر مزدوروں کے مفادات کے لیے آواز اٹھا سکتے ہوں۔ اگر حکومت سندھ نے مزدوروں اور مالکان کی نمائندگی میں اضافہ کردیا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ اس وقت تک مزدور طبقے کو نہیں ملے گا جب تک کہ بورڈ میں غیر جانبدار اور مستحق مزدور رہنماؤں کو نامزد نہیں کیا جاتا اور صرف حکمران پارٹی کے حامیوں کو ہی نامزدگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔
ملکی سطح پر جمہوریت کے دعویدار سہ فریقی ویلفیئراداروں میں میرٹ پر بولنے والے مزدور رہنماؤں کی نامزدگی سے خوفزدہ ہیں؟ سوشل سیکورٹی، منیمم ویجز بورڈ اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ میں ایسے نمائندوں کو نامزد کیا جاتا ہے جو حکومتی پالیسیوں پر آنکھیں بند کرکے رضامندی کا اظہار کرتے ہیں اور مائینز لیبر ویلفیئر بورڈ میں چونکہ میرے علاوہ کسی دوسری لیبر تنظیم کے پاس ٹریڈ یونین نہیں ہے۔ اس لیے اس بورڈ میں حکومت سندھ اپنے پسندیدہ افراد کو مسلط نہیں کرسکتی۔ جس کی وجہ سے مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن کو ایک 18گریڈ کے افسر کے ذریعے چلایا جارہاہے۔ اس ادارے کے سہ فریقی ویلفیئر بورڈ کی میٹنگ دس سال سے نہیں بلائی گئی تمام انتظامی اور مالی معاملات شخصی طورپر چلائے جارہے ہیں اور کانکنوں کی ویلفیئر کے نام پر قائم یہ ادارہ کوئلے کے مزدوروں کی ویلفیئر کا کوئی کام نہیں کرتا۔ صرف اور صرف اوپر والوں کو خوش رکھ کر پورا بجٹ استعمال ہوتا ہے لاکھڑا کول فیلڈ میں قائم دس بستروں کے اسپتال میں آج تک اس ادارے نے ڈاکٹر کی تقرری نہیں کی اور نہ بجٹ میں مختص رقوم سے میڈیسن فراہم ہوتی ہیں پورے سال میں دس مہینے متحدہ لیبر فیڈریشن کی طرف سے ہر ماہ 2سے 3 لاکھ کی میڈیسن فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر، سینٹری ورکرز کی تنخواہ اسپتال کی مرمت بھی فیڈریشن کرتی ہے۔ 2یا 3 ماہ ڈاکٹر کی ایمبولینس کے آنے جانے کے پیٹرول کا بل دینے کے بعد یہ بھی بند کردیا گیا جبکہ بجٹ میں رقم موجود ہے۔ اس طرح ورکرز ویلفیئر بورڈ نے ڈیتھ گرانٹ، جہیز گرانٹ، اسکالر شپ اور سیونگ مشینوں کی اسکیموں کو عملاً معطل رکھا ہے مگر ہر تقریب میں مزدوروں کو کروڑوں روپے کے سہولیات فراہمی کے دعوےٰ آسمان کو چھوتے ہیں۔ مزدور رہنماؤں کی وضاحت اور تردید کو ٹی وی چینل اور اخبارات ماسوائے روزنامہ جسارت کے چھاپنے کو تیار نہیں کیونکہ اس میں ان کو فائدہ نظر نہیں آتا اس طرح مزدور طبقے کو یاد آتاہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم سے پہلے جب یہ انتظام وفاق چلارہا تھا کم از کم صنعتی مزدوروں کو ڈیتھ گرانٹ، جہیز گرانٹ، اسکالر شپ اور سیونگ مشینوں کے علاوہ کرپشن کے بغیر مکانات کی الاٹمنٹ کی سہولیت تو بروقت مل جاتی تھی اور ورکرز ماڈل اسکولوں کا معیار بھی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں زیر تعلیم مزدوروں کے بچوں کو بھی سہولیات ملتی تھی۔ جو صوبائی خود مختاری کے بعد دیوانے کا خواب بن چکی ہے۔ سندھ کے حکمران اس جماعت کے نوجوان چیئرمین اور وزیر اعلیٰ سندھ بھی ان زیادتیوں پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں خدا کرے کہ انہیں فرصت کے اوقات میں مزدوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں بھی نظر آئے خدا کرے کہ انہیں سوشل سیکورٹی میں دونمبر کی میڈیسن فراہمی کا غیر انسانی مسئلہ بھی نظر آئے؟ مگر اس کی اُمید بہت کم ہے جب تک صرف جھوٹے نعروں سے مزدور خوش ہوتے ہیں۔ تو پھر ان کو مالی فوائد دے کر راضی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ مزدور طبقے کو ملکی سطح پر متحد ہو کر سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے امید پر دنیا قائم ہے اور ہر اندھیری رات کا اختتام صبح کی نوید پر ہوتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ