مزدور حقوق کے لیے بیدار ہوجائیں ، رانا محمود علی خان

111

رپورٹ:قاسم جمال

نیشنل لیبرفیڈریشن پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس 15ستمبر کو لاہور منصورہ کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا ایجنڈا درج ذیل تھا۔ تلاوت قرآن پاک، حاضری کا جائزہ، ابتدائی گفتگو صدر مجلس، سابقہ اجلاس کی کارروائی کی خواندگی، کارکردگی رپورٹ (یکم جنوری تا 31 اگست، بمطابق پر فارمہ) جائزہ، الیکشن 2018 میں NLF کا کردار، تحریری۔ سالانہ منصوبہ 2018 اور آئندہ کا لائحہ عمل، ستمبر تا دسمبر 2018۔ مرکزی جنرل کونسل وتربیت گاہ، الحاق یونیز دستاویزات کی منظوری، دیگر امور بااجازت صدر مجلس، اختتامی کلمات۔ مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اپنے وقت کے مطابق ٹھیک 10بجے شروع ہوا۔ اجلاس کو ایسوسی ایٹ سیکرٹری ملک عبدالعزیز نے احسن طریقے سے چلایا۔ تلاوت و درس قرآن رحمت اللہ ارشد نے دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ قرآن پر عمل کیا جائے۔ قرآن عمل کی کتاب ہے۔ قرآن میں پندرہ علوم موجود ہیں۔ ہمارے نفس کا علاج بھی قرآن میں موجود ہے۔ بگڑے ہوئے لوگوں کی تربیت کی جائے اور انہیں ربّ کی بندگی کے کام پر لگایا جائے۔ اس موقع پر مرحومین کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر رانا محمود علی خان نے کہا کہ میں انتہائی مشکور ہوں مجلس عاملہ کے اراکین کا کہ وہ انتہائی دور دراز علاقوں سے سفر کر کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ 25 جولائی کے انتخابات کے بعد ملک بالخصوص پنجاب کی صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کے کارکنان نے جماعت اسلامی کے امیدواروں کے لیے کام کیا اور کہیں سے بھی ہمیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی کہ ہم نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا گو کہ پورے پاکستان میں الیکشن کے نتائج ہماری توقعات کے خلاف آئے ہیں اور ہم سب کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ لیکن اب ہمیں ایک نئے جوش جذبے کو ساتھ کام کرنا ہے۔ مسلم لیگ حکومت کو مزدور فیلڈسے کوئی تعلق نہیں تھا اور مزدوروں کی فیلڈمیں کام کرنا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ موجودہ حکومت کے عزائم سب کے سامنے ہیں۔ لہٰذا ہم سب کو اپنی آنکھیں کھول کر کام کرنا ہے۔ ریلوے میں بھی وزیر تبدیل ہوا ہے۔ لہٰذا وہاں بھی ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں ہم نے کراچی، پشاور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں الیکشن 2018ء اور محنت کشوں کی ذمہ داری کے عنوان سے سیمینار منعقد کیے۔ اس طرح لاہور، حیدآباد میں بھی پروگرامات منعقد ہوئے جس میں ہم نے محنت کشوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ آنے والے انتخابات میں دیانت دار قیادت کو منتخب کیا جائے۔ 8ستمبر کو وی ٹرسٹ کے تحت ایک لیکچر منعقد ہوا۔ لیکچر میں میرے علاوہ پروفیسر شفیع ملک،برجیس احمد اور شاہنواز فاروقی کے لیکچر تھے، جنہیں شرکاء نے بے حد پسند کیا۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے کام میں روز بروز بہتری آرہی ہے اور میں بھی ان کے کام سے مطمئن ہوں ان کے رزلٹ بھی سامنے آرہے ہیں۔ لاہور میں ہمیں اپنے کام میں بہتری پیدا کرنا ہو گی اس کے لیے ہم سب کو غور کرنا چاہیے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کے سیکرٹریٹ کے سسٹم کو بھی بہتر کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں طیب اعجاز کو مکمل اختیارات کے ساتھ ایڈیشنل سیکرٹری بنایا جا رہا ہے جو کہ حافظ سلمان بٹ کی مشاورت سے سیکرٹرٹ کے معاملات کو درست کیا جائے اور اس میں بہتری پیدا کی جائے۔ ہمارا فنانس کا سسٹم بہتر انداز میں چل رہا ہے اور وقت مقررہ پر آڈٹ بھی ہو رہا ہے۔ ہم نے اپنے صوبوں کو امداد شروع کی ہے تو ان کے کام میں بھی بہتری پیدا ہوئی ہے ۔ جماعت اسلامی نے پنجاب میں اپنے کام میں بہتری پیدا کرنے کے لیے صوبہ پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن بھی جنوبی پنجاب میں بھی ایک نیا صوبہ جنوبی پنجاب قائم کررہی ہے اور اس صوبے کے نگراں طاہر طیب ہوں گے۔ امید ہے کہ اس تبدیلی سے پنجاب میں این ایل ایف کے کام میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں ملک عبدالعزیز نے سابقہ اجلاس 3،4 مارچ کی کارروائی شرکاء کو پڑھ کر سنائی، جسے معمولی ردبدل کے بعد شرکاء نے توثیق لی۔ کارکردگی رپورٹ۔ سندھ سے سید نظام الدین شاہ، پنجاب سے امین منہاس، کے پی کے سے فلک تاج نے اپنے اپنے صوبوں کی رپورٹ پیش کی۔ شرکاء نے ان کی رپورٹوں پر سولات بھی کیے جن کے انہوں نے مناسب جوابات بھی دیے۔ اس کے علاوہ ریلوے کی رپورٹ خیر محمد تونیو، پی ٹی سی کی شاہد ایوب خان، واپڈا ایری گیشن کی رپورٹ ڈاکٹر سعود، پاکستان اسٹیل پاسلو کی رپورٹ علی حیدر گبول، بلدیاتی فیڈریشن کی رپورٹ بیگ اور اسلام آباد کی رپورٹ ڈاکٹر تہذیب الحسن نے پیش کی۔ مرکزی جنرل کونسل، اجلاس میں طے کیا گیا کہ12،13، 14، 15 اکتوبر کو راولاکوٹ کشمیر میں این ایل ایف کی جنرل کونسل کا اجلاس ہوگا۔ جنرل کونسل کے ناظم طیب اعجاز اور ان کے نائب لیاقت بیگ ہوں گے۔ جنرل کونسل میں سندھ50، پنجاب 100،کے پی کے،20، بلوچستان 5، پریم یونین کے 25، پی آئی اے کے 5،اسٹیل مل کے 15، پی ٹی سی ایل کے5، واپڈا کے 15 افراد شرکت کریں گے۔ مجلس عاملہ کے اختتا م پر اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے مرکزی صدر رانا محمود علی خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں مزدور تحریک سو رہی ہے۔ ای اوبی آئی، سوشل سیکورٹی، ورکرز ویلفیئر بورڈ، لیبر ڈیپارٹمنٹ، این آئی آر سی کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ ان اداروں میں کرپشن بدعنوانی اور لوٹ مار عروج پر ہے۔ محنت کشوں کے ادارے محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے سرمایہ داروں کے محافظ بن گئے ہیں۔ نئی حکومت کی جانب سے منی بجٹ پیش کیے جاناعوامی اُمنگوں کے برعکس ہے۔ آئی ایم ایف کی ایماء پرعوام پر 178ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا کر انہیں زندہ درگور کر دیا گیا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 10سے143 فیصد میں اضافہ ملک میں مہنگائی کا طوفان لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش مہنگائی اور ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن سے قبل کشکول توڑنے کا نعرہ لگایا تھا لیکن اب وہ بھی عالمی مالیاتی اداروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوچکے ہیں۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی سے خیبر تک محنت کشوں کو متحرک کرے گی، دسمبر میں عشرہ مزدور ملک بھر میں منایا جائے گا۔ سانحہ بلدیہ کے یوم کو ملک بھر میں شگاگو کی طرز پرپورے ملک میں منایاجائے گا۔ 2019این ایل ایف کی گولڈن جوبلی سال ہے۔ این ایل ایف کے تحت بین الاقوامی مزدور کانفرس منعقد کی جائے گی اور سیمینار منعقد ہوں گے۔

طیب اعجاز کی نئی ذمہ داری
نیشنل لیبرفیڈریشن پاکستان کی مجلس عاملہ میں طیب اعجاز کو نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ وہ مرکزی سیکرٹریٹ 2-Aساندہ روڈ لاہور کے بھی انچارچ ہوں گے۔ انہوں نے اپنے فرائض انجام دینا شروع کر دیا ہے۔

رانا محمود علی خان کا دورہ لاہور
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر رانا محمود علی خان 5روزہ دورے لاہور کے بعد واپس حیدرآباد پہنچ گئے ہیں۔ لاہور میں انہوں نے NLFکے مالیت اور سیکرٹریٹ کی تنظیم نو کے لیے طویل مشاورت کی اور NLFلاہور کے کام کو منظم کرنے اور کام کو بڑھانے کے لیے زون کے صدر محمد امین منہاس سے طویل میٹنگ کی اور اہم فیصلے کیے گئے۔ اس کے علاوہ NLFپاکستان کی مجلس عاملہ کی صدارت کی ۔

پنشن 10ہزار روپے کرنے کا خیر مقدم
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر نے ضمنی بجٹ کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے کہ انہوں نے EOBIکی کم سے کم پنشن 10ہزار روپے کر دی ہے اگرچہ 10ہزار روپے ماہانہ پنشن مہنگائی کے اس دور میں نا کافی ہے۔ یہ اضافہ کئی سالوں کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ EOBIکی کم از کم پنشن 10ہزار مقرر کرنا نا کافی ہے بلکہ اس وقت EOBIکے چےئرمین اپنی مرضی سے قانون میں ایسی ترمیم کر رہے ہیں جس کے وجہ مجاز نہیں ہیں اور اب EOBIمیں پنشن کا حصول عملاً نہ ممکن ہو گیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چےئرمین EOBI ایک منصوبہ کے تحت ورکرز کو اور ورکرز کی بیواؤں کو پنشن سے محروم کرنا چاہتے ہیں مرکزی حکومت کو چےئرمین EOBIکے ان اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے۔

طاہر طیب کی نئی ذمہ داری
نیشنل لیبر فیڈریشن کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پنجاب کے جنوبی علاقے کے لیے طاہر طیب ایڈوکیٹ کو نگراں مقرر کر دیا گیا ہے طاہر طیب کا ہیڈ کوارٹر ملتان ہوگا۔ طاہر طیب کا طویل عرصہ سے ٹریڈ یونین سے وابستہ ہیں اور ایڈوکیٹ کی حیثیت سے اپنے امور بھی انجام دیتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ